اندازسیاست اور سیاستدان - خالد ایم خان

کافی سالوں پہلے ایک ہالی ووڈ کی فلم دیکھی تھی جس میں ایک با رعب روسی سیاستدان کی زندگی کا احاطہ کیا گیا تھا۔ نام تو اب مجھے یاد نہیں لیکن کمال کی فلم تھی، جس میں اُ س سیاستدان کی سیاسی زندگی کے اُتار چڑھاؤ اور ذاتی زندگی کو جس انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ بالکل ہمارے ہاں کے سیاستدانوں ہی کی طرح اُس فلم میں بھی سیاستدان کا ایک عدد بیٹا ہوتا ہے جو انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔ اُس نے اپنے باپ کی سیاسی قدوقامت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک ذاتی گینگ بھی تشکیل دے رکھا ہوتا ہے، جس کو اپنے باپ کے سیاسی مخالفین کے خلاف آزادانہ استعمال کو وہ اپنا حق سمجھتا ہے۔ مختصر یہ کہ اُسی بیٹے کے ناآقبت اندیش کارناموں سے ایک دن وہ سیاست دان اپنے انجام کار کو پہنچ جاتا ہے لیکن ایک بات جس نے مجھے اُس وقت بہت متاثر کیا وہ اُس سیاستدان کا عوامی انداز تھا جو بہت خوبصورت انداز تخاطب تھا۔ جب بھی سیاستدان اپنی عوام کے اندر جاتا تو بڑے بارعب انداز میں عوام کو مخاطب کرکے گرجتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کرتا تھا۔ مائی فرینڈز! کنٹری مین! رشینز! اور خاص کر جب وہ بھرپور گرجدار آواز میں "رشینز" کہتا تو یقین جانیں مجھے ذوالفقار علی بھٹو یاد آجاتا کہ جن کا انداز تخاطب بھی ہمیشہ ہی سے بڑا شاندار رہا تھا۔
انٹریئر پنجاب کے ایک جلسہ کی یاد آرہی ہے جب عوام گھنٹوں سخت گرمی میں کڑکتی دھوپ میں کھڑے رہے۔ بغیر کسی سائبان کے جو صرف اپنے لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو کی ایک جھلک دیکھنے اوراُن کو سننے کے لئے بے تاب تھے اور بلاشبہ جناب بھٹو صاحب بھی کمال کے سیاستدان تھے۔ کس طرح عوام کا دل جیتنا ہے یہ کوئی اُن سے سیکھتا، کس طرح عوام کو اپنا گرویدہ بنایا جاتا ہے یہ کمال بھی صرف اور صرف بھٹو صاحب ہی کے پاس تھا کہ جنہوں نے آتے ہی ایک جھپٹا مار کر اپنے سر پہ لگی چھتری کو اُتار پھینکا اور بڑی گرجدار اور جذباتی انداز میں کہا کہ جب میری عوام کھلی دھوپ میں کھڑی میرا انتظار کررہی ہے تو میرے سر پہ یہ سایہ کیوں؟ میں بھی اپنی عوام کی طرح ننگی دھوپ میں کھڑا ہو کو اپنی عوام سے بات کروں گا۔ یقیناً کمال کا فن تھا بھٹو صاحب کے پاس عوام کو اپنا بنانے کا اور یہی کمال کا فن ورثہ میں ملا تھا اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو، جنہیں اپنے ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن کی بھی فکر ہوتی تھی اور اپنی کابینہ کے لوگوں کو بلا کر نام لے کر پوچھتی تھیں کہ فلاں شخص آج کیوں نہیں نظر آرہا؟ ملک کے طول وعرض میں جہاں جاتیں وہاں کے اپنے ایک ایک کارکن کو یاد رکھتی تھیں۔ اسی لئے عوام اُن سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب وطن واپسی پر کارساز دھماکا ہوا اور اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی کارکن اپنی جانوں سے گئے، جن میں کچھ تعداد کراچی کے ایک قدیم اور پسماندہ کہلانے والے ضلع لیاری کے علاقے سے بھی تھے۔ بے نظیر بھٹو ایسے وقت اپنے کابینہ کے ارکان کو بھیج کر جان چھڑا سکتی تھیں اور کوئی کچھ کہتا بھی نہیں کیونکہ ایک ایسے وقت جب لیڈر کی اپنی زندگی داؤ پر لگی ہو اور کچھ لوگ اُن کی جان کے درپے ہوں اُس وقت دنیا کا ہر لیڈر ہر سیاستدان اپنی ذات کا سوچتا ہے اور صرف سیاستدان یا لیڈر ہی کیوں بلکہ دنیا کا ہر انسان ایسے وقت اپنی حفاظت کو مقدم جانتا ہے لیکن آفرین ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کو، دنیا کی ہر چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، کسی بھی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لیاری جیسے علاقے کے بدنام زمانہ دبئی چوک پہنچ گئیں اور فرداً فرداً اپنے ہر کارکن کے گھر جا کر اُن کی عیادت کی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہی اپنے کارکنوں سے اپنائیت اُنہیں مقبول بنا دیتی ہے اپنی عوام کے اندرمحترمہ کا شروع دن ہی سے یہ حال تھا اور کارکن کے محترمہ کے گیت گاتے نہیں تھکتے تھے۔ ہم جو شروع دن ہی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالف تھے بار بار سوچتے تھے کہ آخر ایسی کیا بات ہے ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے محترمہ کے پاس کہ جو اُن کے پاس جاتا ہے اُن کا گرویدہ ہو جاتا ہے؟ اب جب ہم نے آنکھیں کھول کر دنیا کو دیکھنا شروع کیا ہے تو سمجھ آیا کہ لیڈر اور سیاستدان میں کیا فرق ہوتا ہے؟ سیاست اور عبادت میں کیا فرق ہوتا ہے؟ بلاشبہ زرداری صاحب بہت بڑے سیاستدان بنے لیکن شائد لیڈر نہ بن پائے کیونکہ وہ وصف جو لیڈروں کے ہوتے ہیں وہ مجھے زرداری صاحب میں کہیں بھی نہیں دکھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خود کو بچانے کی خاطر اپنے دور اقتدار میں زرداری نے اپنے چاروں طرف اتنی دھول اُڑائی کے ملک کے باقی سیاستدان اُن کے پانچ سالہ دور حکومت میں وہ دھول اپنے چہروں سے صاف کرتے نظر آئے، لیکن جناب لیڈر کیوں نہ بن پائے اس کا احاطہ آگے چل کر صرف ایک جملے میں کروں گا۔
اسی طرح آج عوام گج وج کے میاں دے نعرے مارتے نظر آتے ہیں لیکن میاں برادران بھی باجود بہت کوششوں کے آج تک لیڈر نہ بن پائے کیونکہ جس طرح بھٹو مر کر بھی آج چالیس، پینتالیس سال تک زندہ ہے اور دنیا دیکھ لے گی کہ میاں مر کر کتنے عرصے تک زندہ رہ پائیں گے۔
اصل میں سیاست اور خدمت میں فرق ہوتا ہے۔ جناب بھٹو صاحب پیدائشی لیڈر تھے، "بائی بورن" لیڈر اور اسی طرح محترمہ بھی جنہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو گروم کیا، جبکہ اللہ نے میاں صاحب کو بھی موقع دیا کہ آپ اپنے اندر لیڈرانہ خصوصیات پیدا کرتے، لیکن باوجود بہت کوششوں کے آپ اپنے اندر کا بزنس مین نہ مار پائے۔