مانچسٹر لہو لہو - عبدالباسط بلوچ

یہ ایک برا خواب تھا۔ میں جب صبح اٹھی ناشتے کے لیے میرے سامنے معصوموں کی لاشیں، فرش پر بکھرا خون، اور چیخیں تھی۔ میں سوچ رہی ہوں اپنی ۱۴ سالہ بیٹی کو کیسے بتاؤں گی، رات کیا قیامت ٹوٹی؟ اور اس پر کیا گزرے گی؟ آٹھ سالہ بیٹی کو لینے ایک ماں باہر انتظار کر رہی تھی۔ اچانک، دھماکہ ہوتا ہے، شور اور دھواں اٹھتا ہے، اور خون کے اس کھیل میں، ماں کو اپنی آٹھ سالہ بیٹی تو نہیں مل پائی، اس کی معصوم سی لاش ضرور مل گئی۔ وہ اپنی ماں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کے جا چکی تھی۔ اب ماں کیسے زندہ رہے گی؟ یہ ایک درد ہے، جو میں اور آپ سمجھ سکتے ہیں۔ قاتل کا بھی پتہ چل گیا، وجہ کا بھی علم ہو گیا۔ لیکن یہ خونی کھیل کچھ دن یاد رہنے کے بعد بھول جائے گا۔ البتہ ایک بات کون بتائے گا کہ یہ بھیڑیے، یہ درندہ صفت آخرکب تک عبداللہ، عبدالرحمان، داؤد، سلمان کے نام رکھ کر انسانیت کا خون چوستے رہیں گے اور ہم ان کے اس گھناؤنے اور مکروہ فعل کی وجہ سے اپنے اندر ایک مجرم محسوس کرتے رہیں گے۔

جب بھی کوئی دھماکا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی میرا اور آپ کا دماغ اس بات کی طرف چلا جاتا ہے، پتہ نہیں اب کس اسلامی نام کی باری ہے؟ کہ اعلان ہوتا ہے کہ کون بد نصیب نام نہادمسلمان اس میں شریک تھا۔ میں اور آپ خود اس درد کو محسوس کرتے ہیں لیکن دنیا کو کون بتائے کہ جن کی اولاد، بچے، اپنی ماں کو پکارتے پکارتے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ ان کے لیے ہر داڑھی والا اور ہر مسلمانوں کے نام والا ہی ان کا قاتل ہے۔ ہم لاکھ وضاحتیں دیں لیکن اس سے ہم جان نہیں چھڑا سکتے۔

یہ دنیا سے بڑھتی خلیجیں، نفرتیں ہمارے اعصاب کو شل کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ہماری لاکھ اچھا کرنے کی کوششیں، اسلام کا، مسلمانوں کا پر امن چہرہ پیش کرنے کی کاوشیں دم توڑنے لگتی ہیں۔ کرتا ایک ہے بھگتتا سارا عالم اسلام ہے۔ میں اپنے اس درد کو کس کے سامنے رکھوں۔ منبر تو پہلے ہی معتوب ٹھہرا، معاشرہ اس پر کڑھتا ہے کہ کچھ کر نہیں سکتا، حکومتیں وقتی اقدامات اٹھاتی ہیں، پھر وہ بھی بھو ل جاتی ہیں۔ فرد اپنے تئیں کوشش کرتا ہے، لیکن کچھ ناسور جیسے لوگ اس طرح کی بہیمانہ حرکتیں کر کے اس کو دیوار سے لگا دیتے ہیں۔

ہم امن، سلامتی، سکون، بھائی چارے اور برداشت کا سبق کس کو سنائیں؟ ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ واقعہ کہیں بھی ہو، ہم اس میں اپنے آپ کو محسوس کرتے ہیں۔ دنیا اس بات کو جانتی ہے کہ ان بھیڑیوں کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ مسلک، نہ ملک، نہ سوچ، یہ بس خون گے سوداگر ہیں، پاکستان سے برطانیہ تک، امریکہ سے مشرق وسطیٰ تک ۔ ان درندوں کی وجہ سے، اسلام اور مسلمان دونوں ہی نفرت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں اب ان کو مارنے کے بجائے سنوارنے کا سوچنا ہو گا، جیل، قید، گولی، اس کا حل ہوتا تو وہ کب سے جاری ہے۔ ان کو سنجیدہ فکر اور صالح عمل رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ان کو منزل کے قریب اور اس بے جا موت اور بے حسی سے دور کر دے۔

یہ فکر کی تبدیلی کا وقت ہے، بیانیہ بدلنے کا وقت ہے، اپنی نہیں معاشرے کی سوچنے کا وقت ہے۔ منافقت نہیں، مومنانہ روش کو فروغ دینے کا وقت ہے۔ کسی کے گھر لگی آگ کو اس کا نہیں اپنے گھر تک پہنچنے سے پہلے دانائی، فراست، اور حکمت کے ساتھ بجھانے کا وقت ہے۔ ورنہ یہ نفرت اور تعصب کی آگ ہم سب کو خاکستر کر کے رکھ دے گی۔ میں ان معصوموں، کے بہتے خون، رستے زخم کو اپنا سمجھتا ہوں، اور ان کے دکھ میں برابر زبان سے نہیں دل سے شریک ہوں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com