لبرلز کہاں کھڑے ہیں؟ حماد احمد

مردان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے دن سے لے کر چہلم تک ہمارے پاکستانی لبرل احباب نے مشال کے لیے خوب آواز اٹھائی. اور صرف لبرل ہی نہیں، کچھ اسلام پسندوں نے بھی اس قتل کی بھرپور مذمت کی اور قاتلوں کی فوری گرفتاریوں کا مطالبہ بھی کیا جن میں مفتی نعیم صاحب سرفہرست ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا پر بھی مسلسل چالیس دن تک اس پر باقاعدہ بات ہوئی۔ ڈان نیوز پر ایک پروگرام ”ذرا ہٹ کے“ اس میں پیش پیش رہا

اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی کی بشری گوہر اور افراسیاب خٹک بھی مشال کے خاندان کے ساتھ برابر کھڑے رہے، اور چہلم کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کی بھی بہت کوششیں کیں جو یقینا قابل داد اور قابل احترام ہیں۔

لیکن جو افسوسناک اور حیرت ناک چیز دیکھنے کو ملی، وہ چہلم کے موقع پر انتہائی کم تعداد میں لوگوں کی شرکت تھی۔ یہ تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی، ان میں زیادہ لوگ عوامی ورکر پارٹی اور کچھ قائداعظم یونیورسٹی کی بسوں میں لائے گئے طلبہ تھے۔ لوگوں کے علم میں ہوگا کہ صوابی جہاں مشال کا چہلم ہوا، وہ عوامی نیشنل پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، بالفاظ دیگر صوابی اے این پی کا عزیز آباد ہے جس کی آبادی چودہ لاکھ سے اوپر ہے۔

اے این پی کی اعلی قیادت مشال خان کے لیے جہاں بظاہر باقاعدہ میدان میں موجود نظر آئی، وہاں مردان و صوابی وغیرہ کی مقامی قیادت ان لوگوں کے ساتھ کھڑی نظر آئی جنہوں نے مشال خان کے قتل کی سب سے پہلے ذمہ داری قبول کی، یعنی عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن۔ (اگرچہ بعد میں مشال خان قتل میں ملوث افراد کئی جماعتوں کے ثابت ہوئے، لیکن ابتدائی ذمہ داری پی ایس ایف نے نہ صرف قبول کی تھی بلکہ باقاعدہ اس پر فخر کا اظہار بھی کیا تھا)، اسی طرح مقامی اے این پی قیادت نے بھی پولیس تفتیش میں مداخلت کی کوشش کی جس کا نوٹس اے این پی قیادت نے لیا اور وہ نوٹس ابھی تک نوٹس ہی ہے۔ مقامی قیادت کے اس رویے پر مشر اسفندیار نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن اب تک ایسا کچھ نظر نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ اے این پی مشال خان کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہمیں اے این پی کی مجبوریاں سمجھ میں آتی ہیں آخر ان کو بھی مرحوم مشال خان کے حلقے سے ووٹ لینے ہیں اور اس کے لیے وہ بیک وقت مشال خان کے والد اقبال کاکا اور ان کے مخالفین کے ساتھ کسی طرح ”ووٹ ایڈجسمنٹ“ کریں گے۔

یہاں صرف اے این پی ہی کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ لبرل سیکولر حلقوں کی جانب سے یہ سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ مشال کے قتل کے خلاف صرف اے این پی اور مشر اسفندیار موجود ہیں، باقی جماعتیں یا مذہبی افراد جتنی بھی اس قتل پر افسوس کا اظہار کریں، وہ مگرمچھ کے آنسو ہیں۔

لبرل احباب کی طرف سے ہمیشہ سے ایسا ہی رویہ سامنے آتا ہے کہ ہر لبرل صرف تب تک لبرل ہے جب تک وہ کوئی جرم نہیں کرتا، جیسے ہی وہ کوئی جرم کرتا ہے تو اس کو مذہبی سوچ پر ڈال دو، خواہ وہ کتنا ہی لبرل کیوں نہ ہو۔

اس پورے معاملے میں شرم کا سب سے بڑا مقام لبرلز کے لیے یہ ہے کہ ان سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ چہلم کے موقع پر صوابی چلے جاتے اور اقبال کاکا کو یہ احساس دلاتے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، بلکہ چہلم کے موقع پر حاضر ہو کر ثابت کرتے کہ مشال کے معاملے پر لوگوں کے ذہنوں میں کچھ تبدیلی آئی ہے، لیکن انہوں نے ثابت کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ مشال خان کے والد اقبال کاکا جہاں چالیس روز پہلے چند درجن افراد کے ساتھ مل کر اپنے بیٹے کو دفن کر کے واپس آئے، بالکل ویسا ہی ماحول چہلم پر بھی دیکھنے کو ملا یعنی جو بظاہر اقبال کاکا کی استقامت، جرات و بہادری کی داد دیتے پھرتے تھے، انہوں نے ایک اور موقع پر اقبال کاکا کو مایوس کیا اور بتایا کہ وہ صرف باتوں کے تیر چلانے والے ہیں. سوشل میڈیا پر والز اور صفحات کالے کرنے والے ہی اپنے فینز سمیت چہلم پر تشریف لے آتے تو اقبال کاکا یہ ہرگز نہ سمجھتے کہ صورت حال آج بھی بالکل ویسی ہے جیسے چالیس روز پہلے تھی۔

سچائی یہی ہے کہ لبرلز کا مسئلہ صرف ”نامعلوم“ قوتوں کی توجہ حاصل کرنا ہے اور یہ توجہ صرف میڈیا کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے. پوری گارنٹی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدانخواستہ خدانخواستہ مشال خان کے خاندان پر کسی قسم کا برا وقت آتا ہے (جیسے کہ کل پرسوں بی بی سی پر مشال کی بہنوں کی تعلیم جاری رکھنے پر بات ہوئی) تو یہ اس وقت تک اس پر بات نہیں کریں گے جب تک یہ یقین نہ ہو کہ اب بات کا کوئی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ہمارے ایک محبوب دوست جو مشال خان کے قتل کے ذمہ دار مذہبی لوگوں کو سمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر مشال خان کے چہلم میں مذہبی جماعتوں کے (مقامی) قائدین نے شرکت کی تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ مذہبی جماعتیں اسے ظلم سمجھتی ہیں. اس حساب سے ایک سوال رکھ کے ان جملوں کا اختتام کر رہا ہوں کہ مشال خان کے چہلم میں بشری گوہر کے علاوہ کس سیکولر پارٹی کے کس قائد نے شرکت کی یا قائدین چھوڑ دیں، سیکولر پارٹیوں کے کارکنان کہاں تھے، اور وہ لبرل خود کہاں تھے جو مذہبی جماعتوں کے قائدین سے کہہ رہے تھے کہ چہلم میں شرکت کریں؟

کیا ہم یہ سمجھیں کہ ہمارے لبرل بھی بالکل وہیں پر کھڑے ہیں جہاں مشال خان کے قاتل کھڑے ہیں؟
آپ نے تو مذہبی جماعتوں کو تو وہاں کھڑا کر ہی دیا، صرف اس لیے کہ وہ وہاں گئے کیوں نہیں.
مگر آپ خود کہاں کھڑے ہیں؟