سی پیک اور ہماری تیاری - پروفیسر سجاد حیدر

معاملہ افراد کا ہو یا اقوام کا، یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ مواقع سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں، جو اس کے لیے تیار ہوں. پاکستان بھی اپنی تاریخ کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں حالات بدلنے کے لامحدود امکانات اس کے منتظر ہیں. میرا اشارہ سی پیک کی طرف ہے. روزانہ حکومتی زعماء اور دانشور حضرات ایک روشن مستقبل کی نوید سناتے ہیں. یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ بس سی پیک مکمل ہو جائے تو ہمارے سارے مسائل پلک جھپکنے میں حل ہو جائیں گے. نہ لوڈ شیڈنگ ہوگی نہ بے روزگاری، ہر طرف امن اور چین کی فضا ہوگی. خدا کرے ایسا ہی ہو لیکن آگے بڑھنے سے پہلے چند معروضات پر غور کر لیجیے. سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ CPEC ایک بہت بڑے منصوبے کا صرف ایک حصہ ہے. OBOR یعنی ون بیلٹ ون روڈ چین کا ایک دیرینہ خواب تھا جس کا مقصد چائنہ کو چھ روٹس کے ذریعے دنیا کے باقی خطوں سے ملانا ہے. بدلتے حالات و واقعات نے اس منصوبے کو روبہ عمل لانے کی راہ ہموار کر دی لہذا یہ سمجھنا کہ چین نے یہ منصوبہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے کے لیے یا ہماری حکومت کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے، صرف ایک خوش فہمی ہے. اس کی منصوبہ بندی سابقہ دور حکومت میں شروع ہو چکی تھی، موجودہ حکومت کو اللہ تعالی نے اس منصوبے کو عملی صورت میں ڈھالنے کا موقع فراہم کر دیا ہے.

یہ بات درست ہے کہ سی پیک ہمارے لیے لامحدود امکانات کی ایک نئی دنیا کا نام ہے. بے شمار مواقع ہمارے منتظر ہیں لیکن ان فوائد کی نوعیت اور مقدار کا انحصار ہمارے عزم و ہمت اور استعداد کار پر ہے. جس طرح کسی جگہ صرف سڑک بن جانے سے سفر کا آغاز و اختتام نہیں ہو جاتا اور آپ کی گاڑی خودبخود اس پر دوڑنا شروع نہیں کر دیتی بلکہ گاڑی کے انجن کی حالت، ایندھن کی مقدار، اور ڈرائیور کی استطاعت کار اس سفر کی نوعیت اور دورانیہ کا فیصلہ کرتی ہے، بعینہ صرف منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جانے سے ہم خود بخود اس سے مستفید ہونا شروع نہیں ہو جائیں گے، بلکہ ہماری استعداد کار اور قابلیت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ہم نے اس منصوبے میں مزدور بن کر کام کرنا ہے یا انجینئرز اور مینیجرز بن کر. اگر اپنے موجودہ نظام تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مہارت کا جائزہ لیا جائے تو معذرت کے ساتھ ہمارے لیے اس منصوبے میں صرف گارڈز، کلرک، مزدور اور چپڑاسی کے علاوہ کچھ نہیں. اگر اپنے تعلیمی نظام کا بنظر غائر جائزہ لیں تو پرائمری تعلیم کسی بھی تعلیمی نظام کی سب سے پہلی اینٹ ہوتی ہے اور باقی ساری عمارت اس پہلی اینٹ کے اوپر ہی تعمیر کی جا سکتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

ہماری بدقسمتی کہ یہ پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی لگی ہے، اب اوج ثریا تک اس عمارت کو ٹیڑھا ہی جانا ہے، جب تک کہ آپ پہلی اینٹ کا قبلہ درست نہیں کریں گے. ہماری پرائمری تعلیم کا ڈھانچہ مکمل طور پر فرسودہ اور بانجھ ہے، بالکل ابتدائی سطح پر بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے. والدین اساتذہ سب مل کر بچے کو ایک رٹو طوطے میں بدلنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں اور جب بچے کی تخلیقی صلاحیتوں کا قلع قمع کر لیتے ہیں تو سکون سے بیٹھ جاتے ہیں کہ اب یہ بچہ زندگی میں اور جو مرضی کر لے لیکن آزادانہ سوچنے کے قابل نہیں رہا. وہی سوچے گا جو بتایا جائے گا، اس کی ذہنی نشوونما ایک محدود دائرے کے اندر ہی ہوگی. کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ہمارے ہاں وہی ادارے بہت زیادہ کامیاب ہیں جہاں تشدد کے ذریعے بچوں کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے کہ وہی لکھو اور بولو جو اساتذہ کے فراہم کردہ نوٹس میں ہے. خود سے مفہوم سمجھ کر اسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کو ایک برائی اور نالائقی سمجھا جاتا ہے. سکول اور کالجز کا بھی یہی حال ہے سائنس کی تعلیم ایک مضحکہ خیز پریکٹس ہے، کسی سبق کو خود سے سمجھ کر اس کو پرفارم کرنا ہمارے طلبہ کے لیے تقریبا ناممکن ہے.

ڈاکٹر عطاء الرحمن کی کوششوں سے ہائیر ایجوکیشن میں بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی، مگر افسوس وہ سب بھی ہماری مبالغہ کی حد تک بڑھی ہوئی مفاد پرستی کی نظر ہو گئی. بیشتر ایم فل اور PHD حضرات کے تحقیقی موضوعات کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے. ہمارے سرکاری اداروں کے اساتذہ اور پروفیسرز کے لیے ایم فل اور پی ایچ ڈی صرف چند اضافی انکریمنٹس کا مسئلہ ہے. ان صاحبان کے پیش نظر صرف اور صرف مالی مفاد ہے اور کچھ بھی نہیں. اعلی تعلیمی اداروں کی عالم درجہ بندی میں ہمارا نمبر 700 سے نیچے آتا ہے. نہ کوئی تحقیق نہ تخلیق. یاد رکھیے اب ہمارے انجینئرز اور ٹکنیشنز کو چین کے انجینئرز اور ٹیکنیشنز سے مقابلہ درپیش ہوگا. حکومتی کوششیں صرف چینی زبان سکھانے تک محدود ہیں. وہ بھی صرف پنجاب کی حد تک، باقی صرف کوسنے دینے میں مصروف ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی کارڈ ہی کیوں؟ حبیب الرحمن

حضور! اگر قوم کو واقعی اندھیروں سے نکالنے میں آپ سنجیدہ ہیں تو اٹھیے اور اپنے تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائیے، تعلیمی اداروں کی حالت زار درست کیجیے، روایتی طریقہ تعلیم سے ہٹ کر ایسے ادارے قائم کیجیے جہاں طلبہ جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں. رعایت اللہ فاروقی صاحب کی اس تجویز کا بھی ذکر کروں گا کہ ترکی، چین اور دیگر دوست ممالک سے درخواست کی جائے کہ ہمارے ہاں اپنے بہترین اداروں کی طرز پر ادارے قائم کیے جائیں تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری آنے والی نسلیں بھی دنیا کے ساتھ قدم بقدم آگے بڑھ سکیں.

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.