قصہ پرانے لبرلز کی حیاء اور رکھ رکھاؤ کا - ابن حجر

مشہور زمانہ مقتول سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کی بیوی ایک انگریز خاتون تھیں جن کا انگریزی نام کرسٹوبیل اور پاکستانی نام بلقیس تھا.

بلقیس کی چھوٹی بہن ایلس 1938ء میں اپنی بڑی بہن سے ملنے انڈیا آئیں، لیکن دوسری جنگ عظیم شروع ہو جانے کی وجہ سے انڈیا میں ہی پھنس کر رہ گئیں. اس دوران ان کی ملاقات مشہور انقلابی شاعر فیض احمد فیض سے ہوئی جو اس وقت امرتسر ایم اے او کالج میں استاد تھے. یہ خاتون فیض احمد فیض کو پسند آ گئیں اور انہوں نے اپنے گھر والوں کو راضی کر کے اس خاتون سے شادی کر لی، اور یوں وہ ایلس فیض کہلائیں.

ایلس اور فیض کی دو بیٹیاں ہیں جن کے نام سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی ہیں، یہ کافی حد تک ماڈرن اور لبرل اسلوب والی خواتین ہیں. سلیمہ ہاشمی لاہور کے معروف لبرل ادارے نیشنل کالج آف آرٹس کی سربراہ بھی رہیں، جبکہ منیزہ ہاشمی پی ٹی وی کی منیجنگ ڈائریکٹر رہ چکی ہیں.

ان چند سطروں میں آپ کو یہ خاکہ بیان کرنا تھا کہ سلمان تاثیر کی لبرل فیملی کی طرح فیض احمد فیض (جو کہ خود کمیونسٹ تھے) کی فیملی بھی کافی حد تک لبرل واقع ہوئی ہے، اس میں کم از کم کسی اسلامی پردے، برقعہ یا ہیڈ سکارف وغیرہ کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے. اس سب کے باوجود، بیسویں صدی کے پاکستان میں کچھ ایسی اخلاقی اقدار اور رکھ رکھاؤ موجود تھا کہ منیزہ ہاشمی جیسی لبرل طرز زندگی کی حامل خاتون بھی اس بات سے آگاہ تھیں کہ معاشرے میں کچھ حیاء کی اقدار کی لاج رکھی جائے اور اس حیاء میں ہی ہماری عورتوں کی عزت ہے، نہ کہ نمائش میں. اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ: منیزہ ہاشمی جب پی ٹی وی کی ایم ڈی بنیں تو انھوں نے ہر قسم کی شوٹنگ کرتے وقت خواتین کو پشت کی طرف سے کیمرے میں دکھانے پر پابندی لگا دی، ان کا کہنا تھا:
”میں اکثر کیمرہ مینوں اور پروڈیوسروں کی ذہنیتوں کو جانتی ہوں، یہ جو کچھ دکھانا چاہتے ہیں وہ سین کی مجبوری نہیں، عورت کے جسم کے ساتھ کیمروں سے کھیلنا ہے.“

یہ بھی پڑھیں:   لباس کی کہانی ؟ - فائزہ حقی

آج کے پاکستان کا حال کچھ اس طرح ہے کہ مشرّف دور میں لگائے گئے بد اخلاقی کے پودے اب بڑھ کر درخت بن چکے ہیں، اور ان درختوں نے ایسے ایسے کڑوے، زہریلے اور کانٹے دار، بے حیائی کے پیکر دیسی لبرل اور ملحد پھل اور بیج پیدا کیے کہ جن کی سوچ کے سامنے منیزہ ہاشمی جیسی لبرل عورت بھی کوئی ”دقیانوس مولوی“ لگتی ہے.

یہ نئی انگریزی میڈیم نسل کے تیر، کیبل پر انڈین اور مغربی چینلز، اور انٹرنیٹ پر ہر طرح مادر پدر آزاد چیزیں دیکھ دیکھ کر کمان سے ایسے نکلے کہ ان کی اپنی بہنوں کی چادریں اس سے چھلنی ہوئی جاتی ہیں. ان نظریاتی یتیم نوجوانوں نے جدید دور سے نابلد مدرسے یا گلی محلے کے ملّا سے نفرت میں ان ساری اخلاقی سرحدوں کو پامال کر کے رکھ دیا جن پر مسلمان تو مسلمان، غیر مسلم بھی کسی حد تک یقین رکھتے تھے.