دنیا ایک مسافر خانہ ۔ محمد زبیر

دنیا کی رنگینی بڑی دلچسپ اور پر کشش ہے۔ یہ اپنے اندر بسنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اس میں کھو جائے، اور انسان بھی اس کی چاہ میں دل لگا بیٹھتا ہے۔ وہ اس میں موجود اشیاء کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیسے یہ مستقل قیام کی جگہ ہے۔ وہ اپنے مال و دولت اور اسٹیٹس بڑھانے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ اسے یاد نہیں رہتا کہ دنیا میں جو آیا ہے، اسے ایک دن واپس جانا ہے۔
انسان اگر اس جذبے کو دل میں پیدا کر لے اور اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ میرا دنیا میں قیام چند لمحوں کا ہے اور اس کے بعد آنے والی زندگی لامحدود ہے تو معاشرے کے تقریبا تمام مسائل ختم ہو جائیں۔ انسان اس خیال کو اپنے اندر راسخ کر لے کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا سب کچھ مٹ جانے والا ہے تو اس کے اندر کی حرص و ہوس اور لالچ ختم ہو جائے اور وہ ہمہ دم اپنی آخرت کی فکر میں لگ جائے۔ قرآن میں زمین کی سیرکرنے کے حوالے سے ترغیب دی گئی ہے۔ اس پیغام کی بے شمار حکمتیں ہوں گی لیکن ہو نہ ہو ایک حکمت یہ بھی ہے انسان زمین کی سیر کرتے ہوئے گزرے ہوئے بادشاہوں کے محلات دیکھے جو اب کھنڈر بن چکے ہیں، مٹ جانے والے قوموں کے آثار دیکھے جو اب اس صفحہ ہستی میں موجود نہیں، گزشتہ اقوام کی تہذیب و تمدن دیکھے تاکہ اس کے اندر یہ چیز ترقی پائے کہ انسان خود بھی فانی ہے اور اس دنیا نے بھی مٹ جانا ہے۔ باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے، اس لیے اس دنیا میں رہتے ہوئے، اللہ کی مان کر، اللہ سے دل لگا کر، اور اللہ ہی کی دی ہوئی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزارنا چاہیے۔
احادیث میں موت کو کثرت سے یاد کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اس عارضی دنیا کو مستقل گھر نہ سمجھ بیٹھے، بلکہ یہاں ایک مسافر کی طرح زندگی گزارے۔ بلکہ ایک مثال سے واضح کیا گیا کہ ایک مسافر جو اپنی منزل کی جانب گامزن ہوتا ہے اور راستے میں کسی اسٹیشن پر تھوڑی دیر کے لیے رک جاتا ہے تو یہ جو تھوڑی دیر کے لیے رکنے والا عمل یعنی اسٹیشن ہے، یہ ہی دنیا ہے۔ اس مثال سے ہم پر یہ بات عیاں ہو جانی چاہیے کہ انسان کا اس دنیا میں صرف اتنا ہی قیام ہے جتنا ایک مسافر کا راستے میں کسی اسٹیشن پر تھوڑی دیر کے لیے رکنے کا۔
دنیا میں جو لوگ سخاوت کرتے ہیں، عبادت و ریاضت کرتے ہیں، خدمتِ خلق کے لیے بڑی بڑی تنظیمیں بناتے ہیں، حرام سے بچتے ہیں، کسی کو دکھ نہیں دیتے، کرپشن سے وہ بھاگتے ہیں اور ظلم سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں ان کے دل و دماغ میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے کہ ہمیں اس دنیا سے کچھ وقت کے بعد رخصت ہو جانا ہے، تو کیوں نہ کچھ ایسے اچھے اعمال کر لیے جائیں جس سے مالک راضی ہو جائے اور ہماری عاقبت سنور جائے۔ یعنی یہ احساس اگر اجاگر کر لیا جائے کہ زندگی مختصر ہے اور اس میں انسان کا قیام قلیل ہے تو انسان ایک دوسرے کو تہہ و تیغ کرنے سے باز رہیں۔ لیکن انسان کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ یہ بھول جاتا ہے۔ اور انسان واقعی اپنے ہادی، اپنے رہبر اور اللہ کے پیغام کو بھلا کر جیے جاتا ہے اور آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ انسان آخرت کو بھول کر دوسروں کا حق مارتا رہتا ہے، موت کو بھول کر، مال و دولت کے لیے حکومت و اقتدار کے لیے اور شہرت کے لیے دن رات تگ و دو کرتا رہتا ہے اور ایک دن اچانک اس دنیا سے چپ کے سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کا تمام بنایا ہوا مال دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ اس کے تمام منصوبے کسی گڑھے میں جا دفن ہوتے ہیں۔
اس کائنات میں انبیاء کرام سے بڑا انقلاب کسی نے بپا نہیں کیا۔ یہ انبیائے کرام علیہم السلام ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں اور انہیں گندگی سے نکال کر پاکیزگی کی طرف لے آئے۔ بلاشبہ تمام انبیاء کا کام بڑا اور عظیم ہے لیکن جامع و مکمل اور موثر انقلاب نبی آخر الزماں نے بپا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے دلوں کی دنیا بدل کر رکھ دی، جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے انہیں آپس میں شیر و شکر کر دیا، جو لوٹ مار کر رہے تھے انہیں محنت سے حلال روزی کمانے کی طرف لگا دیا، جو شراب کی مستی میں جی رہے تھے انہیں قرآن کا عشق عطا فرما دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بہت کچھ عطا فرمایا لیکن یہاں میں ایک نعمت کا ذکر کروں گا جو کہ آج مسلمانوں میں ناپید ہے، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دلوں سے موت کا خوف اور دنیا کی محبت نکال دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تربیت فرمائی کہ تمام صحابہ دنیا سے بے رغبتی رکھنے لگ گئے۔ خلفائے راشدین کا دور ہمارے لیے سب سے بہترین اور عمدہ مثال ہے کہ کس طرح انہوں نے دنیا کو اپنے دل سے دور رکھا۔
آج کے دور میں اس احساس کو شدت سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ انسان اس دنیا میں مستقل طور پر رہنے کے لیے نہیں آیا۔ اس کا قیام مختصر ترین ہے۔ وہ یہاں امتحان کی تیاری کے لیے بھیجا گیا ہے۔ انسان یہاں جو کاٹے گا وہی آخرت میں بوئے گا۔ اگر آج ہم اس دنیا کو فانی سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں تو یقیناً ہم اپنی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ ہمارے اندر لالچ، حرص و ہوس جیسی برائیاں نہیں رہیں گی۔ ہم خود کو ہلکا محسوس کریں گے۔ مسلمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے دل میں دنیا کی محبت کو نہ آنے دے اور اس دنیا میں اس طرح رہے جیسے ایک مسافر منزل کی جانب جاتے ہوئے راستے میں چند لمحے کہیں قیام کرتا ہے۔