گورا ساب بڑا ہوشیار ہے - عبدالسمیع قائم خانی

پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی لایا، پھر اس کی سکیورٹی کے لیے فوج لایا، پھر فوج نے سارے ہندوستان پر قبضہ کرلیا۔
آج بھی گورا ساب کی یہ ہی حکمت عملی ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں، تیل، پانی، کوئلہ، گیس اور زمین کی جنگ کو کہیں White men's burden، کہیں حقوق دلوانے، کہیں جمہوریت کے استحکام، اور کہیں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ کا نام دے رہا ہے۔

گورا ساب ہیں بھی بہت نصیب والے، اپنے اقتدار اور جنگ کو طویل کرنے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد جلیانوالہ باغ، غدر پارٹی، 9/11 کے دھماکے، القاعدہ، طالبان، داعش الدولہ اسلامیہ، جیسے واقعات اور تنظیمیں مل جاتی ہیں۔

پہلے گورا ساب لگان لیتا تھا، افیم بیچتا تھا، گورا ساب کے لیے کوٹھے اور طوائف بھی گھوڑوں اور اصطبل کی طرح الگ ہی ہوتے تھے، گورا ساب کی کسی، ”چمپا، ہیرا، اور لیلی“ کو کوئی ہاتھ لگانا تو دور کی بات دیکھ تک نہیں سکتا تھا۔

آج گورا ساب، قرضہ دے کر سود لیتا ہے، بھاری ٹیکس لیتا ہے، کوٹھے تو نہیں پر قونصل خانوں میں اور ایمبیسز میں ہی سب میسر آجاتا ہے، اور کسی کی مجال نہیں جو گورا ساب یا ان کے کسی ”مقامی نمائندے“ کی چھمیا کو ہاتھ بھی لگائے۔ وہ کروڑوں کی اسمگلنگ بھی کرتی ہوئی پکڑے جائے تو بھی جیل سے عدالت پیشی پر لائیو کوریج ملتی ہے۔
آج گورا ساب محکوم ریاستوں میں گھوڑوں پر تو نہیں، لیکن جن گاڑیوں میں گھومتے ہیں وہ کسی اور کے پاس نہیں ہوتیں، ان کی نمبر پلیٹ کے رنگ سے لیکر اسپیڈ تک سب سے سے الگ ہوتی ہے۔ اور جو گورا ساب کی گاڑی کے سامنے آئے، اندر بیٹھے ریمنڈ ڈیوس اس کا ٹکٹ کاٹ دیتے ہیں۔

گورا ساب نے اپنے محکوموں کو یہ بات اچھی طرح سمجھادی ہے کہ اگر کوئی ہمارے خلاف اٹھا تو اس ”کالے کتے“ کو منگل پانڈے، کہیں بھگت سنگھ، کہیں چے گویرا، کہیں اسامہ اور کہیں مرسی بنا کر اتنا خوار کروائیں گے کہ اپنے ہی لوگ اسے اوراس کے گھر والوں کو تھو تھو کریں گے، اور ایسی موت ماریں گے کہ ”نہ فاتحہ نہ درود، مر گیا مردود“
اس لیے بھائی۔
خان بہادر زندہ باد، لارڈ ساب زندہ باد، گورا ساب زندہ باد

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com