ہود بھائی اور ایچ انڈیکس! علی ملک

ایچ انڈیکس (H-index) سائنسی محققین اور اسکالرز کے تحقیق شدہ مواد کا معیار اور نتیجہ خیزی ناپنے کا ایک متفق علیہ پیمانہ ہے۔ اس انڈیکس کے نتیجے کی بنیاد کسی سائنسی محقق کے تحقیقی مواد کے پڑھے/دیکھے جانے کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے جس سے اس مواد کی مقبولیت اور نتیجہ خیزی کا گراف دیکھا جاتا ہے۔ یہ انڈیکس کسی سائنسدان/محقق کےانفرادی مواد یا دو یا اس سے زیادہ محققین یا کسی یونیورسٹی یا تعلیمی و تحقیقی ادارے کے مواد پر بھی لاگو ہوسکتی ہے۔ یہ انڈیکس سب سے پہلے سنہ 2005ء میں جارج ای ہرش کی جانب سے پیش کی گئی (جو USCD سے منسلک ایک طبیعات دان ہیں) جس کا بنیادی مقصد تھیورٹیکل طبیعات دانوں کے تحقیقی مواد کا معیار معلوم کرنا تھا۔ اس کو بعض اوقات ہرش انڈیکس (Hirsch index) یا ہرش نمبر ( Hirsch number) بھی کہا جاتا ہے۔

اب پروفیسر ہود بھائی کے ایچ انڈیکس کا موازانہ اگر قائداعظم یونیورسٹی کے ایک اور سابق پروفیسر محمد سہیل زبیری کے ایچ انڈیکس کے ساتھ کیا جائے تو ہود بھائی کا ایچ انڈیکس 16 ہے جبکہ پروفیسر زبیری کا ایچ انڈیکس 50 ہے. واضح رہے کہ ایچ انڈکس کا تعلق تحقیقی مقالوں کی تعداد سے نہیں بلکہ مجموعی تحقیق کے معیار سے ہوتا ہے.

چونکہ ہودبھائی MIT سے فارغ التحصیل ہیں، اس لیے ابھی تک پاکستان میں ان کو سائنس کی توپ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایم آئی ٹی کی چارم پہلے کچھ سال ہوتی ہے، پھر آپ کو اپنی قابلیت کے جوہر میدان میں دکھانے ہوتے ہیں نہ کہ ٹی وی پر بیٹھ کر تجزیے اور مذہب پر تنقید میں. ہود بھائی کی سائنسی خدمات میں ایسا کوئی مشہور و معروف (Renowned papers) پیپر نہیں ہے جس سے لگے کہ وہ ایک exceptional سائنس دان اور پروفیسر ہیں! جبکہ Ji Xiang-dong جس کے ساتھ ہود بھائی نے بطور شریک مصنف co-author سب سے زیادہ پپرز لکھے ہیں، ان کے کم از کم ایسے پانچ پیپرز Renowned ہیں جو Ji Xiang-dong کو exceptional سائنس دان بناتے ہیں، جبکہJi Xiang-dong بھی MIT سے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے پی ایچ ڈی ہود بھائی سے دس سال بعد کی. ہود بھائی کا جونیئر ہونے کے باوجود ان کے پیپرز کی حیثیتRenowned papers کی ہے جبکہ ہود بھائی کا ایسا کوئی کارنامہ نہیں! اور Ji Xiang-dong کا ایچ انڈیکس ہودبھائی کے 16 کے مقابلے میں 54 ہے، باوجودیکہ کہ انھوں نے دس سال بعد پی ایچ ڈی کیا.

یہ بھی پڑھیں:   میگاپکسلز کسی کیمرے کی تصاویر کی کوالٹی میں اہم کردار ادا نہیں کرتے: ماہرین

میرے خیال میں جیسے ہمارے بے عمل پیر اور جاہل مولوی دین کے نام پر جہالت پھیلانے کی وجہ ہیں، اسی طرح ہمارے یہ بے کار سائنس دان اس ملک میں سائنس کی ترقی کی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں- ان کی حرکتیں دیکھ کر نوجوانوں کو لگتا ہے کہ لوگوں کے کاموں پہ بڑھکیں مارنے والے کو سائنس دان کہتے ہیں- یہ بے کار سائنس دان این جی او ہی چلا سکتا ہے، پتا نہیں اسے قائداعظم یونیورسٹی میں کس نے لگا دیا تھا .

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.