سپاہی لال چند پاکستانی - محسن حدید

گھر سے نکلتے ہوئے کاندھے سے لٹکے ہوئے بیگ کو ایک سے دوسرے کندھے پر منتقل کرتے ہوئے اس نے آخری بار ایک یاسیت بھری نظر دوڑائی. ماں دروازے سے لگی ہوئی تھی اسے لگا جیسے پاؤں جکڑے گئے ہیں، قدم ڈگمگائے، توازن بگڑا لیکن بمشکل اس نے قدموں کی تال نہ بگڑنے دی. فوجی تھا تو تال کیسے بگڑنے دیتا. اب اسے پیچھے نہیں دیکھنا تھا. ماں کے آنسو اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتے. ایک بہادر فوجی کے لیے یہ طعنہ تھا، سب کچھ برداشت ہو سکتا تھا جذبات نہیں. سامنے نظریں جماتے ہوئے اس نے یاد کیا کہ ماں کتنی مشکل سے اسے سکول بھیجتی تھی، یاد کا تھپیڑا حاوی ہو رہا تھا، روز تیل لگا کر اپنے ہاتھوں سے مانگ نکال کر سکول رخصت کرنے والی ماں نے جب اسے فوج کے لیے بھیجا تھا تو کتنا روئی تھی، اس شام وہ خود بھی بہت رویا تھا، گھر سے پہلی بار جو نکلا تھا. ماں کے ہاتھ کی پکی کھانے والا، روز شام کو ماں کے ہاتھوں دودھ کا گلاس پیے بغیر جسے نیند نہیں آتی تھی، اب لمبے سفر پر جا رہا تھا. اسے اچھی طرح یاد تھا کہ باپ نے کہا تھا کہ آج آخری بار رو لو، اس کے بعد تم ایک ماں کے اکلوتے بیٹے نہیں بلکہ دھرتی ماں کے محافظ ہو جاؤ گے. ماؤں کے بیٹے رو سکتے ہیں دھرتی کے محافظ روتے نہیں دشمن کو رلاتے ہیں. تیز قدموں سے چلتے ہوئے اچانک ایک مچھر آنکھ میں گیا تو اسی بہانے اس نے آنکھ کے کونوں میں موجود نمی بھی پونچھ ڈالی. سردی کے آخری دن جب بہار کی آمد تھی اور سرسوں کے پھولوں کے ساتھ ہی مچھر بھی آجاتے ہیں، اپنی چھاتی تک پہنچی ہوئی سرسوں کے پھولوں سے لدے پودوں کی خوشبو اپنے اندر تک اتارتے ہوئے وہ چلتا گیا. فوج کی نوکری اس نے ضد کر کے خود چنی تھی، صرف یہ بتانے کے لیے کہ دھرتی ماں سے لال چند بھی اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی کوئی دین محمد کر سکتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر : بھارت اب پاکستان پر دعویٰ کرنے والا ہے- میر افسر امان

لال چند یا دین محمد، جو بھی نام رکھ لیں، مائیں دونوں سے ایک جیسی محبت کرتی ہیں. ایک جیسی اذیت اور صبر آزما مدت کے بعد ہی انہیں جنم دیتی ہیں. ساری مائیں اپنے بچوں کے لیے ایک جتنا جاگتی ہیں. سرد وگرم سے بے پرواہ ہو کر ایک ایک دن ان کی نگہداشت کرتے ہوئے اپنے حصے کی محدود اور لا محدود آسائشات کا زیادہ تر حصہ اپنی اولاد کے نام کرتے ہوئے انہیں دنیا کے حوالے کر دیتی ہیں. سپاہی ان میں سے چنے ہوئے بیٹے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں کہ جہاں وہ جا رہے ہیں اس چوائس کا انجام کیا ہوگا؟ لیکن وہ جاتے ہیں، شدید گرمی میں صحراؤں میں رلتے پھرتے ہیں، اور کبھی برف کے طوفان میں کوئی پہاڑ چڑھتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ یہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی تو مجھے کیوں ادھر بھیجا گیا ہے. وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ماں دھرتی پر اترنے والے کسی بھی عذاب کا امکان کم کرنے میں جت جاتے ہیں.

سنو بائٹ سے اپنے اعضا کو بچاتے ہوئے کسی تودے کے نیچے آنے کا امکان ان کے ارادے متزلزل نہیں کر سکتا. اپنے گھروں میں ایک ماہ کی دلہن یا چند دن کے بچوں کو چھوڑ کر وطن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ کب سوچتے ہیں کہ زندگی جیسی چیز کی کوئی اہمیت ہے؟ کسی گیاری سیکٹر میں ایک برف کے پہاڑ میں دفن ہوجانے کے بعد تابوت کے لیے ماں بہن بیوی یا بیٹی کو کتنا انتظار کرنا پڑتا ہوگا؟ یا پھر کسی بارودی سرنگ پر جب ایک سپاہی کا پیر آتا ہے تو پاؤں اٹھانے سے پہلے یہ جانتے ہوئے کہ اب ہلکی سی جنبش بھی سب کچھ ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گی، اس ایک لمحے کے بھی ہزارویں حصے میں یادوں کی ایک فلم کیسے چلتی ہوگی؟ رحیم ماں، شفیق باپ، ایک دوست جیسا بھائی اور چھوٹی چھوٹی تکلیف پر روتی ہوئی بہن، کیا کچھ یاد آتا ہوگا؟ ایک لمحے کا ہزارواں حصہ ہوتا ہی کتنا ہے اور اگر شادی شدہ سپاہی ہے تو ایک پیار کرنے والی جان نثار بیوی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھومتا تو ہوگا. مزید آگے چلے جائیں کسی معصوم اولاد کی قلقاری اس آخری قیامت جیسے لمحے میں کیا گل کھلاتی ہوگی؟ سوچیں ذرا مرنے سے بس کچھ پہلے، بس اتنا پہلے کہ دنیا کی کسی گھڑی نے آج تک اس وقت کو ناپنے کا پیمانہ ایجاد نہیں کیا، اس وقت یادوں کے اتنے انبار میں گھرے ایک انسان کے بارے سوچیں، مرنے سے ذرا پہلے مقدس رشتوں کے بارے سوچنا کہ بارود کے ڈھیر سے جب میری لاش ٹکڑوں میں چنی جائے گی تو انگلی کس کے ہاتھ آئے گی؟ ماں کے آخری بوسے کے لیے پیشانی سلامت بچے گی بھی یا نہیں؟ معصوم اولاد آخری بار ہاتھ تھام سکے گی یا نہیں؟ باپ جن شانوں کے چوڑے ہونے پر فخر کرتا تھا، ان شانوں کے بغیر گھر پہنچنے والی لاش پر کیا محسوس کرے گا؟

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد فیصلہ اور کرتار پور رہداری افتتاح - میر افسر امان

ظاہر ہے ایک پرسکون ٹھنڈے کمرے میں کمپیوٹر پر غزلیں لگا کر یہ تحریر لکھتے ہوئے یہ سب محسوس نہیں کیا جا سکتا، کوئی بھی نہیں کر سکتا، بس ایک کہانی رہ جاتی ہے، لیکن ایک کام کیا جا سکتا ہے کہ جانے والے کا احترام کر لیں، اس کی قربانی کا احترام، اس کے جذبے کا احترام، اس کے رشتوں کا احترام، کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ ہم اپنی بحث لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ اسے شہید کہنا ہے یا نہیں؟ کیا یہ تازہ گرم خون بھی ہمارے خلط مبحث کو نہیں روک سکتا؟ کیا ایک جیتی جاگتی قیمتی اور زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور جوانی ہمارے سکون پر نچھاور کرنے والے کو ہم سے خیر کی اتنی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے. یاد رکھیں فوج میں یحیی اور مشرف جیسے بد بخت چند ہی تھے، باقی سارے تو ماؤں کے شہزادے ہیں، پاکستان کے بیٹے ہیں، آپ اور مجھ سے کہیں قیمتی کیونکہ وہ عمل کے بادشاہ ہیں.