انتخابات کفر نہیں - علی عمران

ہمارے ہاں انتخابات کے عمل کو اختیار کرنے والوں کو کافر قرار دے کر ان کا خون مباح کیا جاتا ہے، جس کا ایک حالیہ مظہر ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے قافلے پر بدترین خودکش حملہ ہے، حلانکہ انتخابات اور جمہوریت ایک چیز تو کیا، سرے سے لازم و ملزوم بھی نہیں ہیں.
بلکہ عین ممکن ہے کہ کسی جگہ جمہوریت ہو، مگر انتخابات نہ ہوں.

جمہوریت کے تین بنیادی ارکان ہیں.
اس میں عوام کی حکومت ہوتی ہے. یعنی حاکمیت عوام کو حاصل ہوتی ہے.
آئین بنیادی انسانی حقوق (ہیومنزم) کا محافظ ہوتا ہے، یعنی ارادہ کل بصورتِ آئین حاکم اور ارادہ عمومی بصورت پارلیمنٹ تابع ہوتا ہے.
اور تیسری بات یہ کہ نظام سیکولر ہوتا ہے، یعنی حکومت اور مذہب ایکدوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں اور مذہب کا حکومت میں کوئی دخل نہیں ہوتا.

اب پاکستانی آئین اور قانون کو دیکھیے، تو یہاں پر حاکمیت اللہ کے لیے متعین کردی گئی ہے.
اور آئین میں جب یہ امر تحریر کردیا گیا ہے کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، موجودہ کو احکام ِشریعت کے مطابق کردیا جائے گا اور بنیادی انسانی حقوق کی تشریح اسلامی شریعت کی روشنی میں کی جائے گی.
اور ملک کا مذہب اسلام ہوگا.
اس آئینی قرارداد کی وجہ سے پاکستان میں نظم کسی بھی طور جمہوری (اپنے اصل کے اعتبار سے) نہیں رہا.

جہاں تک طریق انتخاب کی بات ہے، ظاہر ہے اپنی پوری حقیقت سمیت یہ ہمارے ہاں کی چیز نہیں، اگرچہ ہمارے پاس سیرت رسولﷺ اور سیرت خلفائے راشدین میں ایسے اشارے موجود ہیں، جن سے اس کا بنیادی حکم بہرحال اخذ ہوسکتا ہے، اگرچہ اپنی موجودہ شکل میں یہ طریقہ اپنے یہاں معروف کبھی نہیں رہا.
بہرحال اسے یہ چیز کفر یا حرام نہیں بناتی، عام حالات میں مباح رہے گی اور اگر اس کے مزید کوئی مفاسد سامنے ہوں، جو اس کے مصالح پر غالب آجائیں اور اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا طریقہ موجود ہو، تو اسے لازمی پکڑے رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   جموں و کشمیر : آرٹیکل 370 ختم

باقی خود اس عمل ِ انتخاب کی حقیقت یہ ہے کہ ایک درجہ میں تو یہ اسلام میں قطعی طور پر رائج، شائع اور جائز ہے.. یعنی جب خلافت کے امیدوار ایک سے زیادہ ہوں، تو مجلس شوری لازمی طور پر ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرے گی اور عموماً اس کی شکل کثرتِ رائے کی شکل میں ہوگی، کہ جس طرف کثرت ہو، اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے، جیسا کہ حضرت عثمان رض کی خلافت کے موقع پر ہوا. امت میں یہ بہترین طریق انتخاب ہے. اگر انتخاب کو مطلق حرام قرار دیا جائے، تو اہل شوریٰ کا یہ انتخاب بھی حرام ٹھہرے گا، یوں نتیجتاً حضرت عثمان رض کا انتخاب بھی حرام ٹھہرے گا.

دوسرا درجہ یہ ہے خود اہل شوریٰ کی تعیین بذریعہ انتخاب ہو. یہ من جملہ طریقوں کے ایک طریقہ ہے، اگرچہ ہمارے خیال میں اہل شوریٰ کی تعیین کے دوسرے طریقے بھی ممکن ہیں، مثلاﹰ ٹیکنو کریٹس کو اہل شوریٰ قرار دیا جائے، ریاستی اداروں کے کسی مخصوص گریڈ کے افسران کو اہل شوریٰ قرار دیا جائے، آخر ملک کا اصل انتظام تو یہی لوگ چلاتے ہیں، تو اگر یہی لوگ ملک کا رئیس بھی منتخب کریں، تو ان کی اہلیت میں کیا شک. جبکہ ان حضرات کی قابلیت بھی بالکل واقعی ہوتی ہے کہ ایک لمبے اور پرمتحرک پروسیجر سے گزر کر اس مقام تک پہنچتے ہیں.

انتخاب کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ عوام براہ راست اپنے لیے سربراہ کا انتخاب کریں، ریفرینڈم کی صورت میں، جیسے ابھی جناب اردگان نے کیا یا پرویز مشرف نے کیا تھا وغیرہ وغیرہ.
ہمارے ہاں بظاہر عوام کے براہ راست انتخاب کو بہت ہی بدنام کیا گیا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ شرعاً یہ کچھ اتنا غلط بھی نہیں. مثلاً ہمارے ہاں سیاست اسلامیہ کی کتب میں اہل شوریٰ کو نُواب عن الناس کہا جاتا ہے، یعنی عوام کے نائب، تو اگر کسی جگہ بجائے نائب کے اصل یعنی عوام اپنے لیے حکمران کا انتخاب کرنے خود آگے آجائیں، تو کیا مشکل، جبکہ سیاست اسلامیہ پر بحث کرنے والے علماء مثلاً علامہ جوینی رح اور علامہ ماوردی رح نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی جگہ کے عوام اہل شوریٰ کے انتخاب کو رد کر دیں، تو ان کی قائم کردہ بیعت ِانعقاد منہدم سمجھی جائے گی.

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر آئینی طور پر آزاد ہو گیا- سعد فاروق

اسی طرح ایسے جزئیات بھی ملتے ہیں، جن میں عوام کی بیعت کو اہل شوریٰ کی بیعت پر مقدم کیا گیا ہے. اگرچہ یہ قول مرجوح سہی، مگر فقہ میں اس کا وجود ہی کافی ہے.
سو اگر جمہوریت کی باقی خرابیاں نہ ہوں، تو محض طریق انتخاب کی وجہ سے اس کے قائلین پر کفر یا حرام کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا ہے، بلکہ دوسرے طریقوں کی عدم موجودگی میں یہ مباح امر رہے گا.
واللہ اعلم...وما ازکی علی اللہ نفسی

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.