میاں صاحب! آپ کب سمجھیں گے - ارشدعلی خان

فاٹا اصلاحات ایک بار پھر پاکستان کی روایتی سیاست کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر سیفران اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین کے درمیان فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تلخ جملوں کا تبادلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میاں نواز شریف دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پختونوں کی قربانیوں کو ایک بار پھر وہ مقام دینے کے لیے تیار نہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی فاٹا اراکین پارلیمنٹ نے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد نہ ہونے اور رواج ایکٹ پاس نہ ہونے پر بھر پور احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شہاب الدین خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے معاملے پر ریفرنڈم ضروری ہے تو پھر فاٹا کے پاکستان کے ساتھ رہنے پر بھی ریفرنڈم کرانا چاہیے۔ قبائلی علاقوں کے اراکین کے بھرپور احتجاج کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے رواج ایکٹ کا بل قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا اور کمیٹی کے اجلاس میں بھی وفاقی وزیر سیفران عبد القادر بلوچ کا وہ حکمانہ رویہ بھی باعث تشویش ہے جس کے باعث قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان اور وزیر سیفران کے درمیان تلخی ہوئی۔ اجلاس کے دوران عبدالقادر بلوچ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو پارٹی چھوڑنا چاہے وہ پارٹی چھوڑ کر جا سکتا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ایم این اے شہاب الدین خان نے بھی دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم لیگ ن میں ضرور ہیں تاہم نہ تو وہ میاں نواز شریف کے غلام ہیں اور نہ مولانا فضل الرحمان کے۔ اجلاس میں شہاب الدین خان، الحاج شاہ جی گل، سینٹر سجاد طوری، غالب خان، محمد نذیر، جی جی جمال اور بسم اللہ جان بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے شرکاء میں زیادہ تر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے جو اپنے اپنے علاقوں کے منتخب نمائندے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   داڑھی، عمران خان اور مذہبی کارکنوں کے رویے - عابد محمود عزام

وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت سال2018ء کے انتخابات سے پہلے نہ تو قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرسکتی ہے اور نہ ایف سی آر جیسے کالے قانون کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع سے یہ معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے جمعیت علماء اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کی وجہ سے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد روک دیا ہے کیونکہ وہ مولانا کو ناراض نہیں کرنا چاہتے (بھلے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے انیس اراکین پارلیمان ناراض ہوں)۔

مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی صاحب وفاقی حکومت کے وہ پختون حلیف ہیں جن کے کندھے پر بندوق رکھ کر ہی ن لیگ کے لوگ اپنا کام آسانی سے کر سکتے ہیں، اچکزئی صاحب نے تو کچھ عرصے سے فاٹا کے انضمام کے معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تاہم مولانا آج بھی اپنے ریفرنڈم والے مؤقف پر قائم ہیں (کیا کرم تنگی ڈیم کے افتتاح کے وقت بھی مولانا فضل الرحمان نے وہاں کے عوام سے بذریعہ ریفرنڈم پوچھا تھا کہ آیا ان کے علاقے میں ڈیم بننا چاہیے؟ یا ان کی کمپنسیشن کے لیے کوئی آواز اٹھائی گئی تھی؟ جو ان کا بنیادی اور آئینی حق ہے)

وزیراعظم میاں نواز شریف کا صرف مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کی وجہ سے فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد روک دینا ہی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کبھی بھی پختونوں کے مسائل حل کرنے میں نیک نیت نہیں رہی۔ ن لیگ کی حکومت سے ت پیپلزپارٹی کی حکومت پختونوں کے لیے بدرجہ اتم بہتر تھی، جس نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پختون صوبے کو نام کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا (اس وقت بھی صرف ن لیگ کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پختونخوا کے ساتھ خیبر کا لاحقہ لگایا گیا، جس کی وجہ سے اب قومی اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر خیبرپختونخوا کو آسانی کے لیے کے پی کے لکھا اور بولا جاتا ہے، دوسری جانب صوبہ ہزارہ کی تحریک بھی صرف اس ایک لفظ خیبر کی وجہ سے شروع ہوئی اور باباحیدر زمان جیسے لوگوں نے اپنے لیے ایک الگ صوبے کا مطالبہ شروع کر دیا)۔

یہ بھی پڑھیں:   الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

وزیراعظم میاں نواز شریف صاحب! اگر آپ نے اپنے دور حکومت میں قبائلی علاقے کے لوگوں کو انسانوں کے حقوق دینے میں تامل سے کام لیا تو تاریخ میں آپ کا نام پختون دشمن کے طور پر درج ہوگا کیونکہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے آپ ہی نے کمیٹی قائم کی جس میں آپ ہی کے لوگ شامل تھے (وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ اُمور سرتاج عزیز کی سربراہی میں سابق گورنرخیبرپختونخوا مہتاب احمد خان عباسی، وفاقی وزیر سیفران عبد القادر بلوچ اور مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ سمیت مسلم لیگ ن کے دیگراعلی دماغ فاٹا اصلاحات کمیٹی کے اراکین تھے)، پھر کس طرح کسی ایک شخصیت کے تحفظات کی وجہ سے آپ قبائلی علاقوں کے ایک کروڑ سے زائد انسانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں؟ کہیں مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کی آڑ لے کر آپ کے دیگر مصاحبین تو اپنے مقاصد حاصل نہیں کر رہے (اگر فرصت ملے اس حوالے سے بھی سوچیے گا)۔