سوشل میڈیائی دانشور - بشارت حمید

اس بات سے انکار نہیں کہ حکومتوں کا فوکس اور توجہ عوام کی فلاح و بہبود اور صحت و تعلیم پر زیادہ ہونی چاہیے لیکن جس طرح کی صورت حال بعض دوست پیش کرتے ہیں کہ فلاں ملک نے اتنا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کر لیا، فلاں نے ایٹم بم پر اتنے ارب ڈالر لگا دیے، یہ پیسہ لوگوں پر خرچ ہوتا تو ہر طرف راوی چین لکھتا، یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔

ہر انسان جب اپنا گھر تعمیر کرتا ہے تو بیڈرومز کی دیواریں بڑی مضبوط سے مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر گھر کی چار دیواری کو اور زیادہ اونچا اور مضبوط بناتا ہے، اس پر سیکورٹی کے لیے خاردار تار سی سی ٹی وی کیمرے اور پتہ نہیں کیا کچھ لگواتا ہے۔ اسے کوئی یہ مشورہ دینے والا دانشور نہیں ملتا کہ بھائی اتنے پیسے کیوں ضائع کر رہے ہو؟ بیڈروم میں دیواروں کی جگہ پردے لٹکا کر بھی کام چلایا جا سکتا ہے اور باہر چار دیواری بنانے کے بجائے اگر وہی پیسے اپنے ہمسائیوں پر خرچ کرو تو تمہیں کسی سیکورٹی کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ جبکہ زمینی حقائق بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ انسان اپنی حفاظت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، گھر کے اندر چاہے گزارے والا کام ہی کروائے، باہر چاروں طرف مضبوط باؤنڈری وال ضرور بنواتا ہے۔

اسی طرح ملکوں کی سیکورٹی کے معاملات اتنے سادہ نہیں ہوتے جتنے سادہ ہمارے سادہ لوح اور معصوم دانشور سمجھ کر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں۔ دفاعی لحاظ سے کمزور ملک کبھی بھی خود مختار نہیں رہ سکتا، یہ دنیا میں جاری زور آور کے رول کے مطابق کسی طاقتور کے شکنجے میں آ کر ہی رہتا ہے، خواہ وہ معاشی لحاظ سے ہو یا بھی فوجی لحاظ سے۔
دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ کس ملک کے مفاد میں کیا ہے؟ وہ مجھ سے اور آپ سے مشورہ لے کر فیصلے نہیں کرے گا، اس لیے بین الاقوامی معاملات میں اپنی جان ہلکان کرنے کے بجائے ان مسائل پر توجہ کرنی چاہیے جو ہمارے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور جن میں ہم عملی طور پر کچھ کر بھی سکتے ہیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.