دائروں کا سفر - زینی سحر

کھڑکی کے پٹ کھلے ہیں، اور میں اس کے قریب بیڈ پہ لیٹی کھلے آسمان کو دیکھ رہی ہوں. کمرے کی گھڑی اپنے مخصوص دائرے میں چل رہی ہے. اور اس مخصوص دائرے میں چلتے ہوئے بھی اپنی بساط کے مطابق شور بپا کیے ہوئے ہے.. ٹک ٹک ٹک.. ٹک.. بالکل ہم انسانوں کی طرح ہمارا دائرہ بھی تو مختصر اور مخصوص ہے اور ہم اس میں چل رہے ہیں. کبھی ہمارا نام و نشان بھی نہیں ہوتا. لیکن پھر ہم ہوتے ہیں ایک نام کے ساتھ. کبھی ہم بچے ہوتے ہیں کمزور اور ناتواں. لیکن پھر دائرے میں چلتے چلتے ایک دن بھرپور جوان ہو جاتے ہیں، تب ہم گھڑی کی سوئیوں کی طرح شور بپا کرتے ہیں.. اپنے جوان ہونے کا، اپنے جذبوں خوابوں اور امنگوں کا، دنیا کو تسخیر کرنے کا.. دائرہ چلتا رہتا ہے اور ہم ایک دن اپنے تمام تر خوابوں کے ساتھ کسی اور دائرے میں بھیج دیے جاتے ہیں...

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت چلتا ہے اور گزر جاتا ہے. کون جانے وقت چل رہا ہے یا ہم. مجھے بچپن سے ہی کھڑکی کے پاس سونے کی عادت ہے، جس پر میں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا. سخت سردیوں میں بھی کھڑکی کھول کر سونا، آسمان کو تکتے تکتے نجانے کب آنکھیں بند ہو جاتیں، پتا ہی نہ چلتا. میرا اور چاند کا تعلق بھی بہت پرانا ہے، اگر کبھی میں رات چاند کو تکے بغیر سو جاتی تو وہ میری کھڑکی پر آکر میرے چہرے پر تب تک دستک دیتا رہتا جب تک میری آنکھ کھل نہ جاتی.. ایسے میں.. میں جھٹ سی کھڑکی کھولتی، آسمان کی طرف دیکھتی، پھر گھڑی دیکھتی، یہی کوئی دو اڑھائی کا ٹائم ہوتا، میں اکثر سوچتی یہ چاند مجھے اسی ٹائم کیوں جگانے آتا ہے. کبھی کبھی مجھے غصہ آتا اور میں زور سے کھڑکی بند کرتی اور کہتی کہ کیا ضروری ہے کہ میں تمہیں ہر روز دیکھوں.. اب نہیں دیکھوں گی اور اگلی دو تین راتیں میں کھڑکی نہیں کھولتی، لیکن وہ روز آتا، کھڑکی کے چھوٹے چھوٹے سراخوں سے اپنے ہونے کا احساس دلاتا، اور میں فراموش کیے سوئی رہتی... لیکن اگلی کہیں راتیں جب وہ نہ آتا تو میں دیر تک اس کا انتظار کرتی. ہمارے درمیان یہ آنکھ مچولی ہر ماہ چلتی.. مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میں کھڑکی کے پاس چاند کے لیے سوتی یا ہوا کہ لیے کیونکہ رات کہ پچھلے پہر چلنے والی ہوا سے بھی میرا کمال کا رشتہ ہے، پتا نہیں وہ چاند کی ساتھی تھی یا اکیلی، لیکن وہ دونوں میری کھڑکی پر اکھٹے ہی آتے تھے.

یہ بھی پڑھیں:   کس نے آپ کی زندگی بدل ڈالی؟ محمد عامر خاکوانی

چاند اپنے مخصوص دائرے میں آج بھی چل رہا ہے، ہوا اب بھی چلتی ہے، لیکن میرے دائرے میں میرے ساتھ چلنے والے انسان اب ساتھ نہیں ہیں، وہ بہت آگے بڑھ چکے ہیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے، نانا کے گھر رات میں کھڑکی کھولتی تھی تو نانا بہت ڈانٹتے تھے اور کہتے تھے کہ رات میں سو طرح کے خطرات ہوتے ہیں، تم کھڑکی بند کرو. میں منہ بسورتے ہوئے نانی کی طرف دیکھتی تو نانی مجھے چپکے سے اشارہ کرتیں کہ جب نانا سو جائیں تو تم تھوڑی سی کھڑکی کھول لینا. نانا کے گھر کی وہ کھڑکی اب بھی وہیں ہے، لیکن نانی نانا اگے بڑھ چکے ہیں. کسی اور دائرے میں... مجھے نانی سے بہت محبت تھی.. اتنی بڑی ہو گئی تھی، پھر بھی جب نانی کے گھر جاتی، ان کے پاس سونے کی ضد کرتی.. نانی اکثر مجھے نصیتیں کرتیں... ان کی آخری نصیت مجھے یہ تھی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے غسل تم دینا. مجھے آج بھی یاد ہے کہ یہ بات سن کر مجھے ایسا لگا تھا کہ میرا دل ابھی بند ہو جائے گا، سانس بری طرح سینے میں گھٹی تھی، میں نے نانی سے کہا تھا کہ وہ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں؟ تب مجھے نانی بڑی ظالم لگی تھیں، میں نے سوچا نانی کو پتا ہے ہم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے، پھر بھی ایسی باتیں کرتی ہیں.. لیکن تب میں نہیں جانتی تھی... نانی کا یہ دائرہ کسی اور دائرے میں ڈھلنے والا ہے، اس دائرے میں آنے اور یہاں سے جانے کا اختیار ہم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے..

ہم سب کو اپنے اپنے دائرہ میں چلنا ہے اور اپنی بساط کے مطابق شور بھی کرنا ہے، لیکن ہمارے شور سے نہ تو یہ دائرہ رکے گا نہ ٹوٹے گا... ہوگا تو صرف یہ کہ ہم آگے بڑھ جائیں گے.. کسی نامعلوم دائرے میں...

یہ بھی پڑھیں:   کیا زندگی جینا مشکل لگ رہا ہے؟ 5 آزمودہ باتیں - میاں جمشید

آج اس کھڑکی سے باہر آسمان کو میں دیکھ رہی ہوں...

میں اپنا دائرہ پورا کر چکی ہوں..
کل یہاں کوئی اور ہوگا..
لیکن چاند ہمشہ یہی ہوگا .. اسی کھڑکی میں ..

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.