یہ بابری مسجد سے دستبرداری تو نہیں؟ ریحان خان

ان سطور کو تحریر کرتے وقت رہ رہ کر کپل سبل کا وہ نکتہ نظر ذہن میں آرہا تھا جو انہوں نے سپریم کورٹ کی خصوصی بینچ کے روبرو طلاق ثلاثہ کے حق میں پیش کیا تھا۔ کپل سبل نے خصوصی جیوری کے سامنے اپنا مؤقف رکھا کہ طلاق ثلاثہ مذہب اسلام کے عقائد سے وابستہ ہے۔ اگر عدلیہ آستھا کی بنیاد پر ہندو اساطیری کردار رام کی جائے پیدائش کو قبول کرتی ہے تو اس طلاق ثلاثہ میں دخل اندازی سے گریز کرنا چاہیے۔ عیاں رہے کہ اکتوبر 2010ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آستھا کی بنیاد پر دیے گئے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی متنازعہ اراضی کا بیشتر حصہ رام مندر کے لیے عدالت پہنچے فریق کو دے دیا تھا۔ اور ایک تہائی حصہ پر بابری مسجد کے فریقوں کو دے کر بندرباٹ ایک مثال قائم کی تھی۔ متنازعہ اراضی پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کسی بھی فریق نے قبول نہ کیا اس طرح وہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تھا جہاں گزشتہ پانچ دنوں سے طلاق ثلاثہ کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ کچھ دنوں قبل سپریم کورٹ نے فریقین کے مشورہ دیا تھا کہ وہ باہمی مشاورت سے بابری مسجد کی متنازعہ اراضی کا مسئلہ حل کرلیں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے ”ثالث“ کا کردار ادا کرنے کا آفر بھی پیش کیا تھا جس پر طرفین کی جانب سے ملا جلا ردّعمل آیا تھا لیکن عملی طور پر کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں اس کے امکانات ہیں۔

متنازعہ اراضی کے لیے کپل سبل کہ وہ احساسات نہیں ہوں گے جو ایک عام مسلمان کے بابری مسجد کے تعلق سے ہیں۔ سبل کی جبیں مساجد کے سجدے سے بے نیاز ہے اور بت کدوں کے سجود سے آشنا ہے۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر عدالت عظمی میں وہ ایک پیشہ ور وکیل کی طرح ہر وہ نکتہ پیش کریں گے جو ان کے مؤقف کو مضبوطی ادا کرتا ہو۔ شری رام کی جائے پیدائش کا حوالہ دے کر انہوں طلاق ثلاثہ کے حق میں اپنے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کو جس طرح مستحکم کیا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس دلیل کو اس عدالت میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب پیش کیا جانا کتنے دور رس اثرات رکھتا ہے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں اسی سپریم کورٹ کو لامحالہ بابری مسجد کی متنازعہ اراضی پر بھی سماعت کرنی ہوگی جس میں کپل سبل نے لاشعوری یا شعوری طور پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک طرح سے تسلیم کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جب خلافِ شریعت قانون بننے لگے - محمد رضی الاسلام ندوی

سپریم کورٹ میں سبل کی اس دلیل کے بعد مذکورہ سطور کو ہم اپنی خام خیالی سمجھ رہے تھے لیکن جامع مسجد دہلی کے شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے بھی من و عن اسی تشویش کا اظہار کیا۔ سید احمد بخاری کے کردار اور نظریات سے قطع نظر ہم اس پیش بینی اور دور رسی کا انکار نہیں کرسکتے۔ حالات کے بھانپنے اور پرکھنے میں وہ بہت کم ہی غلط ثابت ہوتے ہیں۔ شاہی امام کے مطابق مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اختیار کردہ کپل سبل کا کا مؤقف انتہائی افسوس ناک اور نا عاقبت اندیشانہ ہے۔ یہ مؤقف جہاں عدالت اور حکومت کو شرعی معاملات میں مداخلت سے باز رکھتا ہے، وہیں رام مندر کی تعمیر کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ اس سے بابری مسجد پر مسلمانوں کا استحقاق کمزور ہوتا ہے، اور مستقل میں اس کے دور رس اور مضر اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔ شاہی امام کے مطابق طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر بورڈ کو بہت مصلحت کے ساتھ یہ حلف نامہ داخل کرنا چاہیے تھا کہ یہ معاملہ مسلکی ہے۔ لیکن ہم نے عدالت سے کہا کہ طلاق ثلاثہ تو پاکستان میں بھی رائج ہے۔
استاد ابرہیم ذوق نے کہا تھا۔
ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بدقمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے