سعودی عرب خطرے میں ہے - قدسیہ ممتاز

دنیا میں عسکری محاذوں پہ بنتے اور بگڑتے اتحاد ہماری خواہشوں، خدشات اور توقعات سے اوپر کی شے ہیں. ہمارا مسئلہ مگر یہ ہے کہ سچ بولنے اور سننے کے پیمانوں پہ مسلکی نشانات لگے ہیں جن میں اکثر خطرے کے نشان سے نیچے ہیں۔ ٹرمپ کا سعودی عرب دورہ اور امریکہ اور سعودیہ کے درمیان مجموعی طور پہ 380 ارب ڈالر کی دس سالہ مدتی ڈیل ہمارے لیے ایسا ہی معاملہ بن گئی ہے جبکہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دفاعی ضرورت کا تقاضا ہے ۔اگر کچھ طبائع نازک پہ گراں نہ گذرے تو یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب خطرے میں ہے، چاہے یہ حقیقت آپ کی خواہش کے کتنے ہی خلاف ہو۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس حقیقت کا اظہار کرنے والا سعودی عرب کا کوئی عقیدت مند وہابی ہو یا اسے ایران سے کوئی خاص پرخاش ہو۔

ستمبر 2016ء میں پاسداران انقلاب نے یونائیٹڈ شیعہ لبریشن آرمی (اسلا) کی بنیاد رکھی۔ پاسداران کے سابق بریگیڈیر جنرل محمد علی فلکی نے اسلا کے خدوخال اور مقاصد بیان کیے ہیں، جس کے مطابق اسلا کو یمن، شام اور عراق میں استعمال کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کا حال آپ دیکھ سکتے ہیں۔ تینوں ممالک میں ایرانی اور روسی اسلحہ اور جنگجوؤں کی بہتات ہے۔اسلا کا قیام اس جلتی پہ پہلے ہی تیل چھڑک چکا ہے لیکن کسی کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ کیونکہ ایران ایسے تمام معاملات بہت خاموشی سے انجام دیتا ہے، البتہ سعودی امریکہ ڈیل دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے، جبکہ اس حقیقت کا انکار ممکن ہی نہیں کہ آپ حرمین شریفین کی حفاظت کو ابرہی لشکر کے مقابلے میں والی حرم کی طرح اللہ پہ چھوڑ کر خود ایک طرف ہوجائیں، تب بھی سعودی عرب خطرے میں ہے۔ اس کے شمال میں شام ہے جہاں ایران روس کی مدد سے بشار الاسد کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور مکمل طور پہ روسی اسلحے اور شیعہ ملیشیا کے ساتھ سرگرم عمل ہے تو جنوب میں یمن ہے جہاں یہی کام وہ حوثیوں کی مدد سے کر رہا ہے۔ نقشہ دیکھیں تو دائیں طرف شمال سے جنوب کی طرف ایران ایک قوس کی صورت سعودی عرب کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس سے قبل میں نے کافی تفصیل سے آبنائے ہرمز اور باب المندب پہ ایران کے حوثیوں کی مدد سے قبضے کی مسلسل کوشش اور بحراحمر میں روس کی مدد سے بڑھتی ہوئی عسکری مہم جوئی پہ لکھا تھا۔ یہ وہ حوثی ہیں جنہیں شام اور عراق کے شیعوں کی طرح ایران کی حمایت ابتدا میں حاصل نہیں تھی، لیکن اب اسلا کے قیام نے کھل کر ایران کے یمن میں کھیل کو واضح کردیا ہے۔ پہلے شام میں بھی ایران اپنی موجودگی چھپاتا رہا تاوقتیکہ کہ روس نے کھل کر اس کا ساتھ نہ دے دیا۔ یمن پہ قبضہ بحر احمر کے جنوبی راستے پہ قبضہ ہے۔ دنیا بھر خاص طور پہ خلیجی ممالک کی تیس فیصد سے زائد تیل اور چالیس فیصد سے زائد تجارت اسی بحری راستے سے ہوتی ہے۔ عدن پہ قبضے کا مطلب دنیا بھر کی تجارت پہ کنٹرول ہے، اسی طرح شام کا شمال ایران کے کنٹرول میں ہو تو وہ لبنان تک محفوظ رسائی دیتا ہے۔ لبنان جہاں حزب اللہ ہے۔ عراق میں جنرل قاسم سلیمانی کی زیر نگرانی آیت اللہ سیستانی بذات خود موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم کا دورۂ امریکہ ناکام کیوں - محمد عبداللہ گل

پاسداران کے ذریعے ایران خطے کے ممالک میں اپنے مفادات کی تکمیل کرتا رہا ہے لیکن اسلا مقامی شیعوں کو بھرتی کرتی ہے جہاں بھی اس کی ضرورت ہو۔ اس تناظر میں یہ ایک عالمی شیعہ فورس ہے جو دنیا بھر میں شیعہ ملیشیا کے ذریعے ایرانی مفادات کی تکمیل پہ مامور ہے. چونکہ یہ پہلے سے موجود شیعہ ملیشیاؤں سے جنگجو بھرتی کرتی ہے لہذا اسے ان پہ ایک مرکزی کنٹرول بھی حاصل ہے۔ خطے میں اپنے عسکری جتھوں کو اسلحہ کی تقسیم، ان کی حسب ضرورت تعنیاتی اور مسلسل سپلائی کا مرکزی کنٹرول۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ایران جس نے اپنی سرحدیں تزویراتی طور پہ بہت پہلے ہی پھیلا رکھی تھیں، اب ان کی حفاظت کے لیے ایک پوری فوج بھی موجود ہے کیوں نہ ہم اسے ایرانی نیٹو کہیں؟ پھر کیا تعجب ہے اگر اسلامی نیٹو جسے ابھی تک کسی نے سنی نیٹو نہیں کہا تھا اور وقت ثابت کرے گا کہ ایسا ہے بھی نہیں، ٹرمپ ایک دورے میں اسے ایران کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ ادھر ایران بجا طور پہ طعنہ دیتا ہے کہ کیسے تیر انداز ہو، سیدھا تو کرلو تیر کو، پتا کر لو ایک اور نائن الیون کی تیاری نہ ہو رہی ہو۔ اس دو دھاری بیان نے جہاں سعودی عرب کی پوزیشن دنیا بھر میں خراب کرنے کی کوشش کی، وہیں القاعدہ کے خلاف سعودی کارروائیوں پہ بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ یہ اور بات ہے کہ عسکری ڈیل کا حجم اتنا بڑا ہے کہ ایسی سناری چوٹوں سے اس محبت بھرے تعلق میں کم سے کم دس سال کوئی فرق نہیں آنے والا۔ بر سبیل تذکرہ اس ڈیل میں سائبر سکیورٹی بھی شامل ہے جو امریکہ سعودیہ کو فراہم کرے گا کیونکہ سعودی قومی تیل کی کمپنی آرامکو پہ ایران سائبر حملے کرتا رہا ہے اور آج کل سائبر حملوں کے حوالے سے روس خاصا بدنام ہے. یوں روس کا اس میدان میں ایران کے ساتھ تعاون پہلے ہی موجود ہے۔

امسال مارچ میں حسن روحانی نے پوٹن سے باکو میں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دس کے قریب بڑے معاہدے ہوئے تھے لیکن دنیا میں کوئی شور نہیں اٹھا۔ ان دفاعی معاہدوں میں وہ ایس 300 میزائل سسٹم بھی شامل ہے جسے مارچ میں ایران ٹیسٹ بھی کرچکا ہے. گذشتہ روز ہی ایران نے بلاسٹک میزائل ٹیسٹ کیا ہے۔ ایران کے میزائل سسٹم جس میں پچیس قسم کے میزائل شامل ہیں، کا بڑا حصہ روس کا مرہون منت ہے۔ دو سال قبل ہونے والی نیوکلیر ڈیل کے نتیجے میں ملنے والی رقم جو منجمد اثاثوں کے رواں ہونے سے موصول ہوئی تھی، روس کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری پہ خرچ کی گئی ہے۔ بحر احمر میں سعودی بحریہ پہ حوثیوں کے میزائل حملے اس سال کے شروع میں ہی ہوئے، ظاہر ہے یہ روسی ساختہ میزائل انھیں ایران نے فراہم کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

ایران اپنے مقاصد میں بہت واضح ہے اور اس کے لیے مسلک کا استعمال وہ بہت خوبی سے کر رہا ہے۔ میرے وہ بزرگ جن کا خیال ہے کہ ایران کے خطے میں مفادات کا مسلک سے کوئی تعلق نہیں، کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایران کا سارا سیاسی نظام ہی ولایت فقیہ پہ استوار ہے۔ آپ چاہیں بھی تو ایران کو مسلک سے علیحدہ نہیں کرسکتے، کیونکہ انہوں نے خود ایسا نہیں کیا۔ جس کی میں ذاتی طور پہ معترف ہوں کہ ان کا سیاسی نظام ریاست اور مذہب کی یکجائیت کی بہترین مثال ہے اور موجودہ حالات میں خلافت کا بہترین نعم البدل ہے لیکن کیا کیا جائے اس کشور کشائی کے جذبے کا جو ایران کواپنی سرحدوں سے نکل نکل جانے پہ مجبور کرتا ہے۔ اس کا تعلق اس عظیم سلطنت فارس سے بھی ہے جس کی بحالی کا خواب غالبا ایران کی آنکھوں میں آج تک چمکتا ہے۔ مجھے اس جذبے کی بھی قدر ہے کہ عظیم اقوام کے مقاصد عظیم ہوا کرتے ہیں لیکن اسلام کو ایک مسلک اور ایک زمینی علاقے تک محدود کر دینا اور مسلمانوں کے سواد اعظم کو نشانہ بنانا اور اس کے لیے حد سے گذر جانا کسی صورت لائق تحسین نہیں ہے۔ ادھر تیئس مئی کو امریکہ کا بجٹ بھی آنے والا ہے، اس بار تقریبا ہر حکومتی محکمے سے فنڈز کی کٹوتی کر کے دفاعی شعبے کو دی جانے والی ہے جو کل ملا کر باون بلین ڈالر بنتی ہے، اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو اس ڈیل کی کتنی ضرورت تھی۔ یہ ڈیل جہاں ایران کو حدود میں رکھے گی، وہیں القاعدہ اور داعش کے خلاف بھی استعمال ہوگی، اس لیے گمان غالب ہے کہ سعودی عرب میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوگا تاکہ اس بڑی خریداری کا جواز مہیا کیا جاسکے۔ اس سارے کھیل میں نشانہ کون بنے گا؟ وہ عام مسلمان جس کے خون کی حرمت حرم سے بھی زیادہ ہے، وہ امت مسلمہ جس کا کوئی پرسان حال نہیں، لیکن خیر ہے، گھرمیں کیا تھا کہ ترا غم اسے غارت کرتا۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • آقای قدسیه دیکهیےآپ کتنی بهی کوشش کرے آل سعود محترم ثابت کرنے کی سب بیکار ہے ... آل سعود کو کویی بدنام کرنے کی کوشش نهیں کررها هے ان کے بد اعما ل کی وجه سے وه دنیا میں بد نام و رسوا هورها هے اور ان کے کار نامے کسی بهی ذی شعور سے پوشیده نهیں ....
    فلسطین میں کهی دها یوں سے جو ظلم ستم هورهے هیں ان کی حمایت کرنا ایک مسلمان کا اسلامی فریضه نهیں اور ساتھ میں بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبله اول هے جو یهودیوں کے قبضه میں هے اس کو آزاد کرنے کے لے اقدام کرنا تمام مسلمانوں پر واجب نهیں ...کیا شعائر اللہ کوقران کے مطابق حفظ کرنا واجب نهیں ....
    یهی حکمتاور مصلحت ایران کے سب کاموں میں هے اور ایران نے کبهی بهی کسی بهی مسلمان کو نصقان نهیں پهنچایا اگرچه دوسروں سے ان نقصان هوا بهی هے اور آ ج بهی هورها هے ....
    جس آل سعود کو آپ بے گناه ثابت کرنا چاهتے هیں ابهی جو یمن پر جنگ مسلط کی گئی وهاں پر جو قتل عام هورها هے ... جو کهلم کهلا وهاں بم بهاری هورهی هیں ....
    یهودی اور نصارانیوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے سے اسلام اور مسلمانوں کتنے ضربیں لگایے تاریخ بهری پری هے .... اور آج بهی جتنے سارے ظلم و ستم دنیا میں هے ان هی کے ستمگروں وابستہ هے ...آل سعود کے تعلقات آپ دیکهیے ان هی ممالک سے ہیں...