ہمیں کیسا مولوی چاہیے؟ - انعام الحق

کچھ دنوں سے نیاز فتح پوری کی کتب کا مطالعہ جاری ہے، کمال کے ادیب ہیں اور پائے کے نقاد لیکن بہت نالاں ہیں وہ مولویوں سے، سید سلیمان ندوی اور اشرف علی تھانوی جیسی نابغہ روزگار شخصیات کو بھی بالکل معاف نہیں کرتے، وہ سب مولویوں سے گلہ مند ہیں، ان تمام افراد سے جو ان کے افکار کو الحاد سمجھتے ہیں، ان تمام مولویوں سے جو ان کے "مذہب انسانیت" کی فکر کا بھرپور رد کرتے ہیں۔ وہ یہی سمجھتے تھے کہ اسلام کے حوالے سے ملّا " کی تنگ خیالی" آج نہیں تو کل مٹ جائے گی، لیکن ان کی بتائی ہوئی وسعت باقی رہے گی۔ مسلمانوں کے درد میں تڑپتے سرسید احمد خان کی کتب میں بھی ایسے ہی رویے کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، اور عنایت اللہ مشرقی کی تحریروں میں بھی آپ کو " ملّا کا غلط مذہب" زیر عتاب نظر آئے گا۔

آپ غلام احمد پرویز کی کتابیں اٹھا لیجیے ان کو بھی گلہ مولویوں سے، وہ بھی سمجھتے ہیں چودہ صدیوں سے انہی مولویوں کی وجہ سے اسلام کی اصلی صورت سامنے نہیں آسکی، مسلمان ترقی نہیں کرسکے، اپنے افکار کی تشہیر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ انہی کو سمجھتے ہیں۔ آپ مسلمانوں میں صدیوں سے چلتے افکار پر تنقید کرنے والے افراد کی تحریریں اٹھا لیجیے ان کو مولوی سے بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ یہ بھی بجا ہے کہ ان کے خلاف تحریری یا تقریری انداز میں سامنے آنے والوں میں سے بہت سوں نے الزام تراشی، خلط عبارات سے کام لیا ہے کئی افکار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی مولوی پر خوب بھڑاس نکالی ہے۔ یاد رہے مجھے مذکورہ بالاافراد میں سے کسی کے بھی اخلاص پر انگلی اٹھانے کی جرات ہے اور نہ ہی یہ میرا منصب۔

جو نکتہ مجھے حقیقی مولوی کی قدر کرنے پر آمادہ کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ میں جتنا مولوی پر نشتر چلانے والوں کے افکار کو پڑھتا ہوں مجھے اتنی ہی مولوی سے قربت محسوس ہوتی ہے۔ مجھے سمجھ آنے لگ جاتی ہے کہ دین میں نئی تعبیریں پیش کرنے والے کو مولوی ہی سے کیوں گلہ ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ فکری تاریخ کو گمراہی قرار دینے والے ہی کیوں اس کا جسم نوچنا چاہتے ہیں، ہر نئی فکر کے حامل کا سب سے پہلے انہی سے کیوں جھگڑا ہوتا ہے، سماج میں سے مذہبی حمیت کو کھینچ نکالنے کے خواستگاروں کو ہی اس پے غصہ کیوں آتا ہے؟ وطن عزیز کی مذہبی شناخت مٹانے کے درپے حلقوں کی آنکھوں میں مولوی کیوں چبھتا ہے؟ آپ بھی سوچیے صرف انہی کو کیوں مسئلہ ہے مولوی سے؟ مجھے کئی جگہ اس کے انداز سے تکلیف ہوتی ہے، لیکن مجھے اس کے اخلاص پے شک نہیں ہے، میں سوچتا ہوں اگر مولوی کے قدم اپنی جگہ سختی سےجمے نہ ہوتے، اپنے موقف پے یہ شدت سے ڈٹا نہ ہوتا تو شاید ہر گزرتے دن، تساھل، اور تجدد کے نام پے اسلام کی تعلیمات ایک ایک کرکے تاویل و تشریح کے نذر ہوجاتیں۔ باقی جہاں تک عوام میں مولوی بیزاری کی فضا ابھر رہی ہے، وہ اکثر انہی سوچوں کی خوشہ چیں ہے، جس کے پھیلاو میں ں سماجی رابطوں کی سائٹوں کا اہم کردار ہے۔

مجھے تسلیم ہے کہ فروعی اختلافات پے تکفیر کے فتوے بانٹتے مسخرے اس طبقے سے ملتے ہیں، ہر نئی سوچ اور فکر کے خلاف بے سبب اٹھنے والے جاہل بھی ان کے دربار میں پائے جاتے ہیں، عالمی عزائم سے بے خبر آنکھوں پے لاعلمی کی پٹی باندھے انہی کے کہنے پے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر فضا کو خون اور بارود سے رنگین کرتے ہیں، اپنے مفادات کی خاطر لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے بے ضمیر بھی ان کے بیچ سے مل جاتے ہیں، دو ٹکوں کی خاطر ایمان فروش اس لبادے میں بھی چھپے پھرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں ہے کہ علم کی دنیا سے وابستہ ہر ڈاڑھی پگڑی والا ان تمام برائیوں کو اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے، ہر مسجد کا امام فتنہ گر اور ہر مدرسے کا استاد تعصب کی آبیاری کا ذمہ دار ہے۔ اس مزاج کی لوگوں کا تناسب اتنا زیادہ نہیں جتنا اس کو بڑھا کر دکھایا جا رہا ہے۔ کسی ایک کی روسیاھی کے سبب پورے طبقے کے خلاف زہر اگلنا کوئی عقل مندی نہیں۔

میری جی حضوریوں نے اگر ان میں سے کسی کی گردن میں تکبر کا سریا گاڑ دیا ہے تو ایسے بھی تو ہیں کہ علم کی گیرائی اور گہرائی نے ان میں وہ مزاج پیدا کیا ہے کہ سادگی وتواضع ان کے دروازے پے آکے سر جھکا دیتی ہے، دنیا کی چکاچوندیوں میں دین کو بھول جانے والے بھی اگر یہیں ہوتے ہیں تو ایک ایک سنت نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کے لیے دنیا کو جوتے کی نوک پے رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔

کچھ لوگوں کو گلہ ہے کہ یہ طفیلیہ ہے جو ان کی جیبیں خالی کرنے پے لگا ہوا ہے اس کو شہروں سے زہریلی بوٹی کی طرح نکال دینا چاہیے لیکن ایک لمحے کو توقف کیجیے اور سوچیے کہ کیوں نہ اپنے بازاروں سے سارے دوکانداروں کو اٹھا کے باہر پھینک دیں، سارے مزدروں کو گڑھا کھود کے دفن کر دیا جائے، ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی جائیں۔ نہیں بھائی وہ تو کام کرتے ہیں اور اس کے پیسے لیتے ہیں ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں۔ تو میرے بھائی مسجد کا امام بھی تو اپنے شب وروز مسجد کو دیے ہوئے ہے آپ کونمازیں پڑھاتا ہے، آپ کے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے، اگر مدرسے کا استاد ہے تو قوم ہی کے بچوں کو پڑھا کے اس کا معاوضہ لیتا ہے اس میں حرج کیا ہے، یہ بھی اپنے وقت اور اپنی محنت کی کمائی کھاتا ہے۔ اگر آپ اس کے پاس اپنے بچے نہیں بھیجنا چاہتے تو نہ بھیجیے، آپ کو اس کے وعظ سے چڑ ہوتی ہے تو صرف نماز پڑھنے جائیے، لیکن بے جا اس کی عزت کا جنازو ہ مت نکالیے، اس پر وہ الزام نہ لگائیے جو اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آئے ہوں، اس کے اخلاص کو مفادپرستی کا نام مت دیجیے، اس کی غیرت سے بلند ہوتی آواز کو تعصب کا شاخسانہ نہ کہیے، اس کی خودداری کو تکبر نہ کہیے، اس کی سادگی کو جہالت سے تعبیر نہ کیجیے۔

اگر آپ بھی مخلص ہیں تو اس کی غلطیوں کے پوسٹر بنانے کے بجائے اس سے دوستی کر کے دوستوں کی طرح اصلاح کیجیے، اگر یہ آپ سے عمر میں چھوٹا ہے تو بڑے بھائی کے رویے سے پیش آئیے یہ آپ کی مان جائے گا۔ اگر وہ بھی گالی دے اور آپ بھی گالی دیں تو آپ میں اور اس میں کیا فرق ہے۔ اگر آپ اس کے مزاج کی درستگی کے طلب گار ہیں تو ایک شفیق ڈاکٹر کی طرح اس کا علاج کیجیے، اس کو پیار ومحبت سے سمجھائیے اس لیے کہ یہ بھی آپ کی طرح کا انسان ہے۔ اگر آپ کو مسجد کے خطیب صاحب کی درشت زبانی سے گلہ ہے تو ہوٹل میں بیٹھ کے غیبت سے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ مت کیجیے، چند قابل احترام شخصیات کو ساتھ لیجیے، مولوی صاحب سے ایک دوستانہ ماحول میں اس پر گفتگو کیجیے معاملہ سدھر جائے گا۔ ان کی کسی بات سے اختلاف ہو تو معتقدین کے مجمعے میں اعتراض کرنا قطعا عقل مندی نہیں، ان سے تنہائی میں مل کے نرمی سے اپنے تحفظات کا اظہار کیجیے اس طرح نہ تو آوازیں بلند ہوں گی اور نہ ہی بدکلامی کا موقع آئے گا۔ آپ ان کو بتائیے کہ کون سے موضوعات تشنہ گفتگو ہیں، آنے والے جمعہ کے حوالے سے موضوعات پر اپنے خیالات سے آگاہ کیجیے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنے اور ان کے درمیان کی خلیج کو دوستی و تعلق سے ختم کریں گے۔ آپ جیسے خوش اخلاق دوست جب اس کی محفل کی زینت ہوں گے تو اس کی گفتگو میں بھی وقار پیدا ہوگا۔ لیکن اگر ان سے ملاقات عید کی عید رہے، جمعہ میں اس و قت آئیں جب خطبہ ختم ہونے کو ہو تو پھر مولوی صاحب بھی انہی لوگوں کی زبان بولیں گے جو ان سے پہلے مسجد پہنچ آتے ہیں اور ان کی بدکلامیوں پے بھی سبحان اللہ کہتے ہیں، خواہ وہ پانچ بندے ہوں یا دس۔ ان کا انداز کلام ان لوگوں جیسا ہی ہوگا جو صبح و شام ان کے آس پاس جی حضور جی حضور کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ اب یہ فیصلہ میرا اور آپ کا ہے کہ ہمیں کیسا مولوی چاہیے؟

Comments

انعام الحق

انعام الحق

دل ودماغ کی تختیوں پر ابھرتے نقوش کو قلم کے اشکِ عقیدت سے دھو کر الفاظ کے لبادے میں تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سکاریہ یونیورسٹی ترکی میں پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ کا طالب علم ہوں، پاکستانی اور ترک معاشرے کی مشترکات اور تبدیلیاں اور اس سے منسلکہ سماجی اور اصلاحی موضوعات دلچسپی کا میدان ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */