کیا بھارت اپنی تاریخ کے مشکل دور سے گزر رہا ہے؟ غوث سیوانی

بھارت کو کس جانب لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ کیا جب دنیا اکیسویں صدی میں میں جی رہی ہے، بھارت ویدک دور میں جانے کی تیاری کر رہا ہے؟کیا ہمارا یہ سفر اجالے سے اندھیرے کی جانب کا نہیں ہے؟’’تین طلاق‘‘ کے بہانے ہندوکوڈ بل لانے کا کھیل کس جانب انگشت نمائی کرتا ہے؟ گوکشی کے بہانے عوام کو نیوٹریشین سے روکنے کی کوشش کا مطلب کیا لیا جائے؟کبھی مندر۔مسجد کا جھگڑا تو کبھی تبدیلئ مذہب کا شوشہ کس جانب اشارہ کرتا ہے؟وزیر اعظم نریندرمودی ایک طرف تو Make in Indiaکی بات کرتے ہیں اور ملک کو ترقی کے راستوں پر گامزن کرنے کا اعلان کرتے ہیں مگر دوسری طرف وزیراعظم اور سنگھ چیف موہن بھاگوت کے کئی بیانات کسی دوسری جانب ہی اشارہ کرتے ہیں۔ مرکزی سرکار کے وزراء، بی جے پی اور آرایس ایس لیڈران اپنے کرداروعمل سے ملک کو ماضی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ قدیم کلچر کی طرف واپسی کے نام پر تہذیب کا شیرازہ منتشر کرنے کی سعی کا مطلب کیاہے؟

تاریخ نویسی کے نام پر تاریخ کو تبدیل کرنے کا مفہوم کیا نکلتا ہے؟ آئین پر نظر ثانی کہیں دستور ہند کوتہس نہس کرنے کی سازش تو نہیں ہے؟ ہندتو کا طوفان کہیں ملک کے سیکولر کردار کو نیست ونابود تو نہیں کردے گا؟ کیا ہمارا ملک جن خطرات سے اس وقت دوچار ہے کبھی ماضی میں رہا ہے؟آج وہ وقت آگیا ہے، جب ملک کے سامنے حقیقی خطرات ہیں اور یہ خطرے ان سبھی خطروں سے بڑے ہیں، جن سے ہمارا ملک اب تک دوچار رہا ہے۔ پہلے تو عوام کے حقوق کو خطرات صرف کرپشن ، دہشت گردی اور سرکار کی عوام دشمن پالیسیوں سے تھے مگر اب جس قسم کے خطرات دکھائی دے رہے ہیں، ان سے ملک کی یکجہتی کو خطرہ ہے۔ سماجی تانے بانے کو خطرہ ہے اور ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے، ہماری تہذیب اور تاریخ کو خطرہ ہے۔ سنگھ پریوار کی پالیسیاں صرف اس ملک کے مسلمانوں یا اقلیتوں کے لئے خطرہ نہیں ہیں بلکہ پورے ملک کے وجود کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ نہیں ہوا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے؟ حالانکہ اس پر کسی ٹی وی چینل پر کوئی بحث نہیں چل رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں کسی نے سوال نہیں اٹھایا، سب کی توجہ صرف جذباتی ایشوز کی طرف رہی۔ اگر پچھلی سرکار کی پالیسیوں میں تبدیلی کی گئی ہے تو اس کا مثبت نتیجہ سامنے آنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے گویا پالیسیوں میں تبدیلی مزید خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ اوپر سے مرکزی سرکار نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ اس نے ملک کے قوانین پر نظر ثانی کے لئے ایک کمیٹی بنادی ہے جو ،ان قوانین کا جائزہ لے رہی ہے جنھیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا قانون بنانے کے ارادے کا حکومت نے اظہار کیا ہے جس کے ذریعے مذہب کی آزدی کا حق عوام سے چھینا جاسکے۔ کامن سول کوڈ لانے کی بات کی جارہی ہے۔ گیتا کو ’’قومی کتاب‘‘ اور گائے کو’’ قومی ماں‘‘ کا درجہ دینے کی بات چل رہی ہے۔ اسی کے ساتھ تعلیمی پالیسی میں تبدیلی لاکر بچوں کو پانچ ہزار سال پیچھے لے جانے کا پروگرام بن رہا ہے ۔تاریخ کی کتابیں دوربارہ تحریر کی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب ملک کے مستقبل کے لئے بڑے اور حقیقی خطرے ہیں ،جن سے صرف مسلمان، عیسائی یا کسی اور اقلیتی طبقے کو نہیں بلکہ پورے ملک کو خطرہ ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ملک کے اتحاد ویکجہتی کے لئے تمام اہل وطن اٹھ کھڑے ہوں؟ جو نقصان ہونے والا ہے وہ کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے۔ ہماری قومی تہذیب کا نقصان ہے۔ ہماری ثقافت کا نقصان ہے۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
ہندوستان کے اتحاد کے سامنے حقیقی خطرہ
بھارت کی پہچان اس کا کثرت میں وحدت والا روپ ہے۔ جو تنوع اور نگا رنگی اس ملک میں دیکھنے کو ملتی ہے شاید دنیا کے کسی دوسرے ملک میں دیکھنے کو نہ ملے ۔ یہاں کا کلچرہزاروں تہذیبوں کا عطر مجموعہ ہے۔ یہاں کی زبانیں الگ الگ زبانوں سے مل کر وجود میں آئی ہیں۔ یہاں کے شہریوں کے لباس کی رنگا رنگی اور تراش وخراش کاتنوع ویسے ہی ہے جیسے کسی چمن میں پھولوں کے مختلف رنگ ہوتے ہیں یا دھنک کی رنگا رنگ کرنیں ہوتی ہیں۔ یہاں پائے جانے والے مذاہب کا طریقہ خواہ الگ الگ ہو مگر سب ایک ہی معبود کی طرف جانے کا راستہ بتاتے ہیں۔ ایسے میں سبھی لوگوں پر ایک طریقے کی پابندی کالزوم ،اسے متحد نہیں بلکہ منتشر کردے گا اور اس کے تنوع کو ختم کردے گا۔ سنگھ پریوار ہندتو کی بات اپنی پیدائش کے دن سے کرتا آیا ہے اور آج جب وہ اقتدار حاصل کرچکا ہے تو اپنے نظریے کو ہندوستان کا نظریہ بنانا چاہتا ہے جو، اس ملک کے مزاج سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔’’ہندو، ہندی ، ہندواستھان ‘‘ اس کا ہمیشہ سے نعرہ رہا ہے اور اب اسی نعرے کو عملی شکل دینے کی کوشش چل رہی ہے۔ وہ تمام پالیساں تبدیل کی جارہی ہیں جو آزادی کے ستر سال ہی نہیں بلکہ آٹھ سو سال سے یہاں کے حکمرانوں کے اقتدار کے ساتھ لازم ملزوم کی طرح چمٹی رہی ہیں، اب ختم کرنے کی کوششیں چل رہی ہیں۔ اب یہ ملک گاندھی نہیں گوڈسے کے نظریات کے ساتھ چلے گا۔یہاں کا مذہبی نظریہ سوامی وویکانند والا نہیں ہوگا، بلکہ ویر ساورکر کا ہوگا۔ملک کی تعلیمی پالیسی پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریات کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ اب دینا ناتھ بترا کے مزاج کے مطابق چلے گی۔ تاریخ کا وہ سبق اب بچوں کو نہیں پڑھایا جائے گا جو حقیقت پر مبنی ہو بلکہ اب اسے بھی سنگھ پریوار کے نظریے کا پابند ہونا پڑے گا۔ سی پی آئی (ایم) لیڈرسیتا رام یچوری کا خیال ہے کہ بی جے پی سرکار فرقہ پرستی کے جس زہر کا استعمال سیاست کے لئے کرتی رہی ہے اب اسی کو تاریخ میں بھی داخل کرنا چاہتی ہے۔
ہندوستانیت کی روح کو خطرہ
بھارت مختلف مذاہب کا مرکز رہا ہے مگر ان کے بیچ کسی قسم کا کوئی ٹکراؤ نہیں رہا ہے۔ آج ان مذاہب کے بیچ ٹکراؤ پیدا کرنے کی کوشش سنگھ پریوار کر رہا ہے بلکہ اس کی سیاست کا اصل مرکز یہی رہا ہے۔ اسے اس سے مطلب نہیں کہ یہ ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے اور اس سے ملک کی تہذیب ہی نہیں بلکہ وجود کو بھی نقصان لاحق ہوسکتا ہے۔ وہ مذہب کے نام پر تفریق پھیلانے کی کوششیں پہلے بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ حالانکہ بنگلہ کے مشہور شاعر رویندر ناتھ ٹیگور کا ماننا تھا کہ’’ آریائی، غیر آریائی، دراوڑ، چینی، سیتھین، ہن، پٹھان اور مغل سب آپس میں گھل مل گئے اور ان کی اپنی الگ پہچان باقی نہ رہی۔‘‘ یہ نظریہ صرف ٹیگور کا نہیں بلکہ ان سبھی لوگوں کا ہے جنھوں نے یہاں کی تہذیب وتمدن کا مطالعہ کیا ہے۔ یہی کثرت میں وحدت ہمارے ملک کی شناخت ہے۔ آج سنگھ پریوار کے نظریے سے اسی ثقافت کو خطرہ لاحق ہے جو بالواسطہ طور پر ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ یہاں لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل رہی ہے اور کبھی بھی ان سے یہ آزادی چھیننے کی کوشش نہیں ہوئی مگر آج یہ بنیادی آئینی اور انسانی حق بھی چھیننے کی تیاری ہے۔
سیکولرازم کو خطرہ
سیکولرازم ہمارے آئین ہی نہیں بلکہ سماجی رشتوں کی بھی روح ہے۔ یہ لفظ خواہ چند سال قبل ہمارے ملک کے دستور کا حصہ بنا ہو مگر اس کی معنویت صدیوں سے ہماری روحوں کی گہرائیوں میں موجود تھی۔ ہم ایک دوسرے سے میل جول میں کسی بھیدبھاؤ کا احساس نہیں کرتے تھے مگر اب بی جے پی کی سیاست نے عوام کے دلوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے ساتھ ساتھ آئین کے اندر بھی بھید بھاؤ ڈالنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب سے بی جے پی کو لوک سبھا الیکشن میں جیت ملی ہے ، تب سے اس کے ایجنڈے ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے ہیں۔ اس کے ممبران پارلیمنٹ واسمبلی اور نیتاؤں کی زبان سے بڑے بڑے بول نکلنے لگے ہیں۔ ان باتوں کو صرف ان کا بڑبولا پن کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر مورچے پر ظاہر وخفیہ طور پر کام شروع ہوچکا ہے۔ کامن سول کوڈ ایک متنازعہ موضوع رہا ہے مگر اب مرکزی سرکار کی کوشش ہے کی اس کا ڈرافٹ تیار کرکے ملک کے سامنے بحث کے لئے پیش کردیا جائے ۔ یہ بھڑوں کے چھتوں کو چھیڑنے والی بات ہوگی کیونکہ جہاں ہمارے ملک میں الگ الگ زبانیں، تہذیبیں ہیں، وہیں طور طریقے بھی الگ الگ ہیں۔ مختلف طبقات کو ایک طریقۂ زندگی پر مجبور کرنے کی کوشش ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتی ہے۔ان حالات نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ روشن خیال ہندووں میں خوف کی لہر پیدا کردی ہے مگر یہ صرف ان کے لئے ڈر کی بات نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے لئے اندیشے کی بات ہے۔
اس وقت ہمارا ملک شدید خطرات سے دوچار ہے۔ یہ خطرے دہشت گردی، کرپشن، خراب حکمرانی سے بھی زیادہ نقصاندہ ہیں۔ دہشت گردی کی پیدائش فرقہ پرستی کی کوکھ سے ہوتی ہے۔ اس وقت ہمارے ملک پر فرقہ پرست طاقتوں کا قبضہ ہے اور انھیں اپنے کام کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، ایسے میں ان کی حرکتیں آتنک واد کو بڑھاوا دینگی اور ہم کسی بھی طرح اس پر قابو نہیں پاسکتے ہیں۔ کرپشن سے عوام پریشا ن ہوتے ہیں، مگر موجودہ سرکار جو کرپشن کو ایشو بناکر آئی ہے، کرپشن سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوسکتی ہے اور آئندہ دو سال میں وہ جو زہر پھیلادے گی ، اس سے نکلنے میں ایک مدت لگے گی۔ ملک کے عوام نے سابقہ سرکار کی غلطیوں سے ناراض ہوکر بی جے پی کو اقتدار تک پہنچایا تھا مگر اب وقت آگیا ہے جب ان ووٹروں کو پچھتانا پڑے جنھوں نے بی جے پی کو اقتدار بخشا ہے۔
وہ دور بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی