رمضان کی آمد، کرنا کیا ہے؟ نیر تاباں

لیجیے جناب! اپنے بیٹے کے عید گفٹس لیکر، چپکے چپکے ان کی پیکنگ کر کے رکھ لیا ہے۔ اپنی فرینڈ کے بچوں کے عید کے تحائف بھی بالکل تیار ہیں۔ کپڑے بھی لے کر ہینگر پر لٹکا دیے ہیں۔ اپنے عید کے کپڑے میں پاکستان سے لیتی آئی تھی اس لیے وہ جھنجھٹ بھی پار لگ چکا۔ یہ سب اس لیے کہ پورے سال کے بعد رمضان آنے والا ہے، وہ یہ سوچنے میں کہ کیسے کپڑے بنواؤں، ساتھ کیسا دوپٹہ، کیسے جوتے میچ کروں، بچے کے لیے کیا کیا لینا ہے، باقیوں کو کیا تحفے تحائف دینے ہیں۔ اس چکر میں بابرکت مہینہ بازاروں میں خوار ہونے میں نہ ضائع ہو جائے۔ پورے سال کے گناہ بخشوانے ہیں، وقت کہاں ہوگا ضائع کرنے کے لیے؟!

رمضان سے پہلے آخری تفصیلی grocery کے ساتھ کھجوریں لے آؤں گی، جنہیں دھو کر، خشک کر کے، گٹھلی نکال کر واپس باکس میں سجا کر مسجد میں چھوڑ‌ کر آؤں گی۔ ساتھ میں‌ جس چیز کی بھی توفیق ہو سکی، وہ بھی ان شاء اللہ مسجد میں روزہ افطار کرنے والوں کے لیے رکھ دوں گی۔ یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ترغیب دینا ہے کہ دوسرے کو روزہ افطار کروانے کا ثواب لینے کے لیے ضروری نہیں کہ بڑی بڑی افطار ”پارٹیز“ کی جائیں۔ پارٹیز کے لیے پورا سال کم نہیں۔ ایک افطار پارٹی کے لیے رنگا رنگ افطاری اور ڈنر بنانے میں پورا دن کوکنگ میں لگ جائے، بعد کا سارا ٹائم برتن دھونے اور کچن سنبھالنے میں ضائع ہو، اور کھانے والے اوور ایٹنگ کر کے عبادات نہ کر سکیں تو یہ کہاں کا فائدہ ہے۔ اگر افطار پر بلانا بھی ہو تو کھجور، پھل (چلیں، بہت ہی جی چاہے تو فروٹ چاٹ بنا لیں) اور اس کے بعد ون ڈش ڈنر کر لیں۔ عین افطاری کے وقت روزہ کھولتے ہی باہر چیک کریں، جو بھی ابھی گھر نہیں پہنچا اس کو کھجور اور دودھ/شربت/پانی دیں اور روزہ دار کا روزہ کھلوانے کا ثواب بھی لیں، پیاسے کو پانی پلانے کا بھی، مسافر کی مدد کا بھی۔ اسی طرح‌ اگر ممکن ہو تو اپنے پڑوسی، رشتہ داروں کو بھی پہلے سے کھجوریں ہدیہ کر دیں اور پیار سے تاکید بھی کر دیں کہ روزہ ان سے کھولنا تا کہ تمہارے ساتھ ساتھ اللہ تعالی مجھے بھی ثواب دیں۔

پاکستان میں بجلی جاتی ہے اس لیے شاید ممکن نہ ہو لیکن باہر رہنے والے میری طرح کافی سارا آٹا پہلے سےگوندھ کر رکھ سکتے ہیں۔ گندھے ہوئے آٹے کو balls کی شکل میں کر کے، cling wrap میں یا بڑے ziplock بیگز میں ڈال لیں تا کہ فریزر برن نہ ہو۔ جس دن استعمال کرنا ہو، پچھلے دن فریزر سے نکال کر فریج میں رکھ لیں۔ بالکل تازہ گندھے آٹے جیسا ہوگا۔ اس سے بھی وقت کی کافی بچت ہو گی۔

صفائی ستھرائی تو خیر سب پہلے سے کر ہی لیتے ہیں۔ رمضان میں ہاتھ ہولا ہی رکھیں تا کہ وقت کی بچت ہو سکے۔ اگر صفائی کے لیے گھر میں کوئی ہیلپر ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی روزے سے ہوگی۔ اس بات کا خصوصی خیال رکھیں۔ کھاتے پیتے رشتہ داروں کی افطار پارٹیز کرنے کے بجائے اس کو افطاری کے لیے کچھ زائد رقم دے دیجیے۔

کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جیسے جب کوئی بہت خاص، من پسند بندہ ہمارے گھر چلا آئے تو ہم اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں، اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر خود سونے نہیں چلے جاتے، جگ راتے کر کے گپیں لگاتے ہیں، اس کو گھر چھوڑ کر باہر گھومنے اور شاپنگ کرنے نہیں چلے جاتے، بالکل اسی طرح رمضان کو بھی بہت خاص مہمان کی طرح ٹریٹ‌ کریں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، اسے کھانے پینے، سونے، غیر ضروری کاموں میں ضائع نہ کریں۔ اتنے انتظار کے بعد تو آتا ہے، اور اتنی جلدی چلا جاتا ہے، خیال تو رکھنا چاہیے ناں؟

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com