ڈُگڈگی - خالد ایم خان

مداری کے ہاتھ میں پکڑی ڈُگڈگی جسے وہ کمال فنکاری سے بجائے چلا جارہا تھا اور اُس سے بھی بڑھ کر اُس کا معصوم سا بندر، جو انتہائی مہارت سے ڈُگڈگی کی آواز پر مٹک رہا تھا۔ کبھی اُچھل اُچھل جاتا، کبھی ٹُھمکے لگاتا، بچوں کے چھیڑنے پر غصے سے "خی" کی آواز نکال کر بچوں پر جوابی حملہ کرتا۔ لیکن گلے میں پڑی مداری کی زنجیر بندر کو بے بس سا کر دیتی اور بندر غصہ میں غراتا اور سٹپٹاتا رہ جاتا۔ ڈُگڈگی کی آواز اور بندر کی اول جلول حرکتوں نے مجھے بھی کچھ دیر وہاں رُک جانے پر مجبور کردیا۔ میں ایک معقول جگہ پر بیٹھ گیا اور بڑے انہماک سے یہ بندر تماشہ دیکھنے لگا۔ اچانک ایسے محسوس ہوا جیسے کہ بندر بڑی معصومیت اور لاچارگی کے عالم میں پوچھ رہا ہو کہ"آپ جو خود کو سچائی کا علمبردار کہتے ہیں، آج ذرا میرے ایک سوال کا سچائی کے ساتھ جواب تو دیں۔ بتائیں حیوان ہم ہیں کہ انسان؟ آپ جو یہاں بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہیں، دل پر ہاتھ رکھ کر بیاں کریں کہ اس بھرے مجمع میں آپ کو کیا لگتا ہے کہ اصل میں حیوان کون ہے؟ پھر بھی کچھ ہچکچاہٹ ہے توآئیں کچھ دیر میرے ساتھ گھومیں یقیناً جواب مل جائے گا۔"

یقین جانیں میں سناٹے میں آگیا، کچھ دیر کو تو مجھے خود میں اور مداری کے بندر میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔ میں بھی خود کو ایک بندر ہی محسوس کررہا تھا جس کے گلے میں پڑا ایک ان دیکھا پٹّا نجانے کس مداری کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے خوفزدہ نگاہوں کے ساتھ اپنے اطراف میں دیکھا، یکبارگی ٹھنڈے پسینے کے قطرے میری پیشانی پر نمودار ہوئے اور پھسلتے ہوئے میری داڑھی کو تر کئے چلے جارہے تھے۔ میرے آس پاس چاروں طرف بندروں کے غول تھے، آگے پیچھے بھاگے ہر جگہ۔ جھنجھناہٹ، جھلاہٹ جن کے چہروں سے عیاں تھی۔ کہیں کوئی بندر غصہ میں اُچھل کر اپنے ہی جیسے دوسرے بندر کی جانب "خی خی" کرکے جھپٹتا تھا، لیکن اپنے سے طاقتور بندر کو دیکھ کر دُم دبا کر خاموشی سے سائیڈ پر ہو جاتا تو کہیں اپنے سے کمزور کے کندھوں پر چڑھ کر ناچنے لگ جاتا۔ مداری کے بندر اور اِن ان دیکھے بندر وں میں فرق تھا تو صرف ایک۔ وہ یہ کہ مداری کا بند ر تو تھا ہی مادر زاد ننگا، لیکن یہ بندر اپنے جسموں پر کپڑے ہونے کے باوجود بھی ننگے تھے۔

مداری کا بندر پیدائشی حیوان تھا لیکن یہ انسانیت سے گمراہی اختیار کرنے کے بعد حیوانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ بنے نظر آرہے تھے۔ وہ تو تھا ہی پیدائشی جاہل لیکن یہ جوخود کودنیا کا اعلیٰ ترین دانشور، عقلمند اور ذہین ترین انسان سمجھے ہوئے تھے اصل میں آج کی دنیا کے سب سے بڑے جاہل نظر آرہے تھے۔ یہ سب کس کی ڈگڈگی پر مٹک، تھرک اور اُچھل رہے ہیں؟ ان کی گردنوں میں ڈلے پٹے کس مداری بلکہ مداریوں کے ہاتھ میں ہیں ؟ اس سوال کا جواب آپ لوگ اپنے گریبانوں میں جھانک کر خود ہی تلاش کرنے کی کوشش کریں اور سوچیں آپ کو کون کون سا مداری جانے انجانے میں اپنی ڈگڈگی پر نچائے چلا جارہاہے، اور ایسا نچا رہا ہے کہ بس پوچھیں مت۔

کہیں ہمارے مداری کی ڈگڈگی اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں بجتی ہے تو کہیں اس ڈُگڈگی کی آواز ہمارے ملک کے مقدس اور اعلیٰ ترین کہلائے جانے والے انصاف کے اداروں کی بُلند وبالا فصیلوں سے سُنائی دی تو کبھی یہ ڈُگڈگی ذہانت اور دانشوروں کی فیکٹریاں کہلائے جانے والے آج کی دنیا کے میڈیا کی چار دیواریوں کے اندر بیٹھے میڈیائی مداریوں کے ہاتھوں میں پکڑی دکھائی دی۔ جن کی ڈُگڈگی کی آواز پر بڑے بڑے نامی گرامی بندر ناچتے دکھائی دیے، جہاں بندر "خی خی" کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے غضب ناک انداز میں کاٹنے کو بھی دوڑتے ہیں۔ آج کل مذکورہ ڈُگڈگی ملک کے اہم دیگر اداروں میں بھی پہنچا دی گئی ہے جہاں کے مداری بڑے ظالمانہ انداز میں اس ڈگڈگی کی لے پر آج کے بندروں کو نچا رہے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ اب بڑے اور ظالم قسم کے مداریوں نے بہت سارے بندروں کو بھی مداریوں کا فن سکھا دیا ہے۔ اس لئے اب ڈگڈگی مداریوں کے ہاتھوں سے نکل کر بندر نما مداریوں کے ہاتھ لگ چکی ہے جہاں بندر نما مداری اس ڈگڈگی پر ایسے ایسے کمالات دکھاتے نظر آتے ہیں کہ بیان سے باہر ہے جیسا کہ وزارت پانی وبجلی، واپڈا، کے الیکٹرک،پیمرا،اواگرااور دیگر مداریوں نے اپنی ڈگڈگی بندر نما مداریوں کے ہاتھوں میں پکڑا دی ہیں جو اپنی ڈگڈگی کی لے پر ہمیں نچائے چلے جارہے ہیں اور ہم"جنا تیری مرزی نچا بیلیا ہو جنا تیری مرزی"

ان بندروں کی حرکات سے اس مُلک کے ہر غریب شخص کے منہ سے بددعائیں نکلتی ہیں ان ظالموں کے لئے۔ اس ملک کا ہر متوسط اور غریب شخص اپنی جھولیاں اُٹھا اُٹھا کر ان ظالموں کو بدعائیں دیتا نظر آتا ہے۔ خدا کی پناہ! نہ گیس ہے، نہ پینے کو صاف پانی ہے، نہ بجلی ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کے بعد مریخ کے گڑھوں کا نمونہ پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ دس، بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے بعد رات کو ایک پرانے پنکھے کی ہوا کے نیچے آرام کرتے عام آدمی پر، اُس کے معصوم بچوں پر بجلی کے محکمہ والے بندر نما مداری رات دو سے تین بجے کے درمیان بجلی بند کرکے بجلی گرا دیتے ہیں۔ بند کریں بجلی اس ملک کے وزیر اعظم کے گھر کی، اُس کے وزراء کے گھروں کی، بند کریں بجلی چیف جسٹس کے گھر کی، تمام سیاستدانوں کے گھروں کی کیونکہ سب سے بڑے قصور وار تو یہ لوگ ہیں، جو مسلسل تین چار دہائیوں سے اپنے ہاتھوں میں پکڑی ڈُگڈگی پر اس ملک کی عوام کو نچا رہے ہیں۔ جھوٹے دعوے وعدے کرکرکے ان بندروں کو نچا رہے ہیں اور جو بس خی خی کرکے سو جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

میری سوچوں کے تانے بانے بھی ٹوٹ سے گئے دور کہیں بہت دور سے ڈگڈی کی آواز بہت قریب آتی چلی جارہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ بندر، جی ہاں مداری کا بندر، بڑی معنی خیز نگاہوں سے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ جیسے پوچھ رہا ہو بتاؤ، جواب کیوں نہیں دیتے مجھے؟ اچانک مداری کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی "بچہ جمورا! صاب کو صاب بن کے دکھاؤ،" بندر اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر سر ہلا ہلا کر چلتے ہوئے، "جمورا! صاب کو سلیوٹ کرو، صاب پیسے دے گا،" بندر اپنے دانت نکال کر مسکراتے ہوئے مجھے سلیوٹ کرتا ہے اور مجھے ایسا لگا جیسے چھوٹا سا بندر بڑے بندر کو سلیوٹ کر رہا ہو۔ میں بھی مسکرا دیا، لیکن میری مسکراہٹ اس وقت ایک ایسی مسکراہٹ تھی جس میں شرمندگی تھی،بے بسی تھی، میں اپنی خجالت مٹانے کو مسکرا رہا تھا، میں کیسے ایک بندر سے ہار مان جاتا؟ آخر کو میں اشرف المخلوقات ہوں، انسان ہوں، چاہے کہنے کی حد تک ہی سہی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */