میڈیا وار - ریاض علی خٹک

فلم شروع ہوتی ہے. دور وادی میں ایک گھوڑا گاڑی آہستہ آہستہ چلتی دکھائی دیتی ہے. کیمرہ بتدریج کلوز ہوتا ہے. آگے دو تھکے ہوئے چہروں کے جوان ہوتے ہیں. سفر کی گرد سے اٹے ستے ہوئے چہرے، کیمرہ گھومتا ہے. گھوڑا گاڑی کے اندر ایک ایک جوان سفید فام عورت بیٹھی ہوئی ہے. چہرہ تروتازہ لیکن بے چین دکھایا جاتا ہے. ایک صحتمند سفید فام اپنے آپ میں مگن بچی باہر دیکھتی دکھائی جاتی ہے. ایک بزرگ عمر رسیدہ فکرمند شخص ساتھ ہم سفر دکھایا جاتا ہے.

اچانک آس پاس کی چٹانوں پر کیمرہ گھوم جاتا ہے. بتدریج نمودار ہوتے سانولے چہرے دکھائی دیتے ہیں. بالکل سپاٹ چہرے، بےتاثر مشینی آنکھیں. سیکڑوں چہرے کیمرہ کلوز اپ کرتا ہے. بےزین کےگھوڑوں پر نیم برہنہ کردار کیمرہ ٹرن لیتا ہے. بچی کے چہرے پر بتدریج ابھرتا خوف دکھاتا ہے. سفید فام عورت کی خوف سے پھیلتی آنکھیں. بزرگ کی زیر لب کپکپاتی دعائیں، کیمرہ باہر جاتا ہے. فکرمند چہروں کے جوان ان کے آہستہ آہستہ ہتھیاروں کی طرف رینگتے ہاتھ دکھاتا ہے. کیمرہ واپس ننگ دھڑنگ ریڈ اینڈینز کو دکھاتا ہے. ان کے بے چین گھوڑے، ان کےسردار کو دکھاتا ہے. چہرے پر نقش و نگار کیے سردار کا سپاٹ چہرہ، جلدی سے باری باری سفید فاموں کے پریشان چہرے. کیمرہ مین کینوس جلدی جلدی بدل رہا ہے. کچھ ہی دیر میں دیکھنے والے کی تمام تر ہمدردی سمٹ کر گھوڑا گاڑی میں سمٹ جاتی ہے. ڈائریکٹر کو بس اسی وقت کا انتظار ہوتا ہے. جہاں ہمدردی نے اپنا کردار مکمل کیا، ریڈ اینڈینز نامانوس چیخیں مارتے حملہ آور ہوجاتے ہیں. ان کے پاس تیر ہوتے ہیں. نیزے ہوتے ہیں. گھوڑا گاڑی والوں کے پاس آتشیں ہتھیار. سوائے بچی کے سب ہتھیار چلارہے ہیں. بہت سے ریڈ اینڈینز مارے جاتے ہیں. ہر ریڈ اینڈین کے مارے جانے کے بعد کیمرہ بچی کا روتا چہرہ اور باقی تین سفید فاموں کی بہادری ضرور دکھاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا آخر کیا چاہتا ہے - عشرت زاہد

لیکن کچھ دیر بعد کیمرہ المیہ میوزک کے پس منظر میں جلتی گھوڑا گاڑی دکھاتا ہے. ایک نیم جلی بائبل، مردہ سفید فام عورت معصوم سی بچی کی لاش جسے کیمرہ زیادہ فوکس کرتا ہے. گاڑی کے پہیہ کے ساتھ ٹیک لگائے بوڑھے کی لاش اور کچھ فاصلے پر ایک جوان کی اوندھی لاش. المیہ میوزک کے پس منظر میں ہر دل دکھی ہوجاتا ہے.

اچانک میوزک بدلتا ہے. ہمت دلاتے ڈرم میوزک میں دوسرے جوان کو زحمی حالت میں ایک گھوڑے پر فرار ہوتے دکھایا جاتا ہے. اب ساری کہانی سمٹ کر اس ہیرو میں اٹک جاتی ہے. باقی ڈیڑھ گھنٹے کے لیے جس ہیرو کو ریڈ اینڈینز کو مارنے کا لائسنس ڈائریکٹر سے لے کر دیکھنے والے سب دے چکے. یہ 1950ء کی دہائی کی کسی بھی ویسٹرن فلم کا پلاٹ ہے.

کسی نے یہ نہیں سوچا کہ سپاٹ چہروں والے یہ ننگ دھڑنگ بھی انسان تھے. ان چار سفید فاموں سے جو پہلی ہی جنگ میں دس گنا زیادہ مارے گئے.
کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ریڈ اینڈینز کیوں ان کو مارنے نکلے.
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ سفید فارم یہاں کر کیا رہے تھے. ہیرو سپاہیوں کے جس قلعہ میں پہنچ جاتا ہے. وہ قلعہ کیوں کیسے کس کے خلاف بنایا گیا تھا. کسی سوال کی طلب بھی نہیں ہوتی. اور اگلے ڈیڑھ گھنٹہ ایک نسل کا قتل عام ہو رہا ہوتا ہے. یہ فلم و فکشن بھی نہیں کہ اس کے پس منظر میں ریڈ اینڈینز کا صفایا حقیقت میں ہی کردیا گیا. آج ریاست امریکا میں تبرک کی طرح یہ نسل کہیں مل جائے ورنہ موجود نہیں. یہ میڈیا وار ہے.

آج بالی وڈ کی فلم میں دہشت گردی کے لیے کندھے پر رومال، ایک نامانوس سی داڑھی یا مسواک کرتا کردار بہت.
آج ہالی وڈ کی فلم میں اسلامی نام بہت. آج مجھے ریڈ انڈینز کا دکھ سمجھ آ گیا، کیونکہ آج کی فلموں میں ولن کا کردار مجھے ملا ہوا ہے. آج میڈیا بھی ترقی کرگیا. یہ 1950ء نہیں، 2017ء ہے. آج ہمدردی لینے کے لیے بچوں کی لاشیں بھی میری ہیں. اجڑی ہوئی آبادیاں بھی میری ہیں. سکرینوں پر دکھائے جانے والے چنگھاڑتے جہازوں کے بم بھی مجھ پر ہی گر رہے ہیں. اور دنیا کی نظر میں ولن بھی میں ہی ہوں.

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.