رمضان، میڈیا اور شیطان – آصف محمود

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی شیطان قید کر دیا جاتا ہے لیکن ہم پاکستانیوں کی کم نصیبی ملاحظہ فرمائیے کہ آمد رمضان کی ان مبارک ساعتوں میں ابلیس تو گرفتار ہو جاتا ہے لیکن ’اینکر اور اینکرنیاں‘ مکمل آزاد ہو جاتے ہیں۔

چنانچہ سارا سال نیم برہنہ رہنے والی ماڈلز دوپٹہ سر پر رکھتی ہیں اور ہمارا تزکیہ نفس شروع کر دیتی ہیں، کوئی منہ پر لیپا پوتی کر کے ہمیں سورہ نور کے مطابق حیا کے آداب سکھاتی پائی جاتی ہے تو کوئی بھارت میں ٹاپ لیس شوٹ کرانے کے بعداس قوم سے سکرین پر اجتماعی توبہ کرانے کے لیے جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ جن حضرات کی ہم نصابی سرگرمیوں پر سال کے گیارہ مہینے احباب دیوان لکھتے ہیں، رمضان کے آتے ہی وہ اپنی عمومی شہرت اور ان جملہ سرگرمیوں کے بوجھ سے دہری کمر لیے چہرے پر تقوی کی ملمع کاری کر کے انتہائی مہنگے اور زنانہ قسم کے کرتے پہن کر قوم کوسادگی کے درس دیتے پائے جاتے ہیں۔ خوف خدا کی اداکاری کرتے ہوئے یہ خواتین و حضرات کبھی رو دیں تو اس عالم بے خودی میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا نہیں بھولتے کہ خشیت الہی میں بہنے والے یہ آنسو ان کا مہنگا میک اپ خراب نہ کر دیں۔ سوچتا ہوں، ابلیس بھی قید خانے کی کسی کھڑکی سے جھانک کر ان نونہالانِ صحافت کو دیکھ لے تو عالم مستی میں گنگنائے: باقی نہیں اب میری ضرورت تہہِ افلاک۔

رمضان کا اصل پیغام تزکیہ ہے۔ اس ماہِ مقدس میں بہت سی جائز چیزوں کو بھی ترک کر دیا جاتا ہے کہ تزکیہ نفس کمال کو پہنچ سکے۔ رحمت دو عالم ﷺ کی سیرت مبارکہ پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ پورے اہتمام کے ساتھ رمضان کے منتظر ہوا کرتے تھے۔ لیکن کارپوریٹ میڈیا نے مذہب کو بھی کمرشلائز کر دیا۔ چنانچہ جو چہرے ہمیں فروری میں ویلنٹائن ڈے پر اخلاقیات کے جنازے نکالتے دکھائی دیتے ہیں، وہی چہرے رمضان میں اخلاقیات کے مبلغ بن جاتے ہیں۔

ہر شے جنسِ بازار بنا دی گئی ہے۔ مذہب کو رسم بنا دیا گیا ہے۔ رمضان گویا عبادات کا مہینہ نہ ہوا ایک تہوار ہو گیا۔ صبح دم سحری کی نشریات کے نام پر ایک تہوار، شام ڈھلی تو افطار کے نام پر تہوار، اچھل کود کے سارے لوازمات موجود لیکن تزکیہ کی روح غائب۔ پکوان بنانے کے نت نئے طریقے گویا غریب کی غربت پہ رقص ابلیس، پھر چاند رات کے نام پر بےحیائی کا ایک طوفان۔ کیا رمضان اسی رویے کا نام ہے؟

ایک شام میں نے ٹی وی آن کیا، رمضان کے مبارک مہینے کا آ غاز ہو چکا تھا۔ ایک بڑھیا ایک بڈھے کا ہاتھ تھام کر اظہار عشق کرتی ہے، کیمرہ زوم آؤٹ کرتا ہے، پس منظر میں ایک بچی حیرت سے یہ سب دیکھ رہی ہے۔ پھر قوم کو بتایا جاتا ہے کہ یہ رمضان المبارک کا خصوصی کھیل ہے۔

رمضان کا مبارک مہینہ ان چینلز نے یوں کمرشلائز کر دیا ہے کہ دین کی روح ہی نہیں سماج کی بنیادی اخلاقیات بھی روند دی گئی ہیں۔ کم از کم ایک مہینہ تو ایسا ہونا چاہیے کہ سفید پوش یا غریب آدمی آسودگی سے گزار سکے۔ لیکن چینلز پر کیا ہو رہا ہے؟ رقصِ ابلیس۔لوگوں کو کھانے کا نہیں ملتا اور یہ کم بخت افطار کے کھابوں کے قصے بیان کرتے ہیں، پیشہ ور واعظ مسلط ہو جاتے ہیں جو لوگوں کا تزکیہ کرنے کا ڈرامہ کرتے وقت ساتھ چلو بھر پانی بھی نہیں رکھتے کہ ضمیر ملامت کر لے تو وہ اس میں ڈوب مریں۔ آخری عشرہ تو بالکل الگ تھلگ ہو کر خدا کو راضی کرنے کا عشرہ ہے لیکن ہمارے چینلز پر فیشن شوز شروع ہو جاتے ہیں کہ عید کی تیاری یوں کرنی ہے، کپڑے فلاں بہت اچھے ہیں اور جیولری ایسی ہونی چاہیے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ عبادات کا یہ مبارک مہینہ میڈیا کی ان خرافات کی وجہ سے اس ملک کے سفید پوشوں کے لیے کیسا امتحان بن جاتا ہے۔

پھر آخری عشرہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ رمضان کا کمال ہے۔ اس عشرے میں مسلمان ایک طرح سے دنیا سے کٹ جائیں تو مذہب اس کی تحسین کرتا ہے۔ لوگ اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں اور دنیا سے کٹ کر صرف اللہ کے ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس عشرے کے آغاز ہی سے چینلز پر عید کی تیاریوں کے نام پر ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ رمضان کی اصل روح اور اس پیغام کا کوئی خیال نہیں رہتا۔ اللہ کے آخری رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں کی تلاش کرو۔لیکن ہمارے یہ افلاطون قسم کے اینکرز جو رمضان میں ہمارے اعصاب پر مسلط ہو جاتے ہیں ہمیں خوب تیقن سے بتاتے ہیں کہ ستائیس کی رات لیلتہ القدر ہے۔

رمضان کا ماہ مقدس لوگوں کو خدا کی طرف راغب کرتا ہے ۔لیکن ہمارے چینلز پر کیا ہوتا ہے؟ اداکار اور اداکارائیں میک اپ اور زیورات سے لدی پھندی قہقہے لگا رہی ہوتی ہیں اور بتایا جا رہا ہوتا ہے، کس نے پہلا روزہ کیسے رکھا اور پھر جھوٹ بولنے کا ایک مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے ایسے نومولود مبلغین مصنوعی تقوی منہ پر سجائے نمودار ہوتے ہیں کہ آدمی حیرت سے سوچتا ہے اللہ کا یہ مقرب بندہ اب تک کہاں چھپا تھا۔ ایک عالم ان کے تقوے پر سر دھنتا ہے اور ان کے جذبہ ایمانی پر صدقے واری جاتا ہے، لیکن جو لوگ ان مبلغین سے شناسائی رکھتے ہیں ان کے لیے وجود میں ہونے والی کریہہ گدگداہٹ اور متلی پر قابو رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

رمضان کے مہینے میں کیا معاملہ ہے کہ میڈیا کو سنجیدہ اہلِ علم اور علماء نہیں ملتے؟ کیا علم اور علمی رویے اس بستی سے اٹھ گئے ہیں؟ یقیناًایسا نہیں۔بلکہ معاملہ ترجیحات کا ہے۔ کارپوریٹ میڈیا کو سنجیدہ مباحث اور اہلِ علم کی گفتگو سے کوئی رغبت ہی نہیں۔ اسے اپنا وقت بیچنا ہے۔ چنانچہ سنجیدہ بزرگان دین سے رجوع کر کے سکرینوں پر ڈھنگ کی کوئی چیز دکھانے کی بجائے وہ ماڈلز، اداکاروں، اداکاراؤں، اور اینکرز پرسنز پر کفایت کرتا ہے۔ اور یہ لوگ ہمیں دین سکھاتے پائے جاتے ہیں۔ کرکٹ کے ماہرین یہی ہیں، امور خارجہ یہی سلجھاتے ہیں، تعلیمی پالیسیاں انہی کی مرہونِ منت ہیں، امور داخلہ ان کی دانش سے طے پاتے ہیں، حتی کہ ملک میں گندم کی فصل بھی اچھی ہو جائے تو یہ ان کی دانش کا کمال ٹھہرتا ہے۔ غسل کے فرائض بھلے سے انہیں آتے ہوں یا نہیں، لیکن اب قوم کی مذہبی رہنمائی بھی یہی فراہم کریں گے۔

رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی اللہ شیطان کو گرفتار کر لیتا ہے۔اللہ کی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنے اپنے شیطانوں کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا۔

Comments

FB Login Required

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

Protected by WP Anti Spam