بچے بڑے ہو گئے ہیں - حرم فارس

یونیورسٹی کے ماحول سے ابھی تک انسیت پیدا نہیں ہوئی۔ یہ ہائر ایجوکیشن ہے، ہم سکول کالج سے نکل آئے ہیں، بڑے ہو گئے ہیں۔ ہماری توقعات بھی ہائی لیول پر چلی گئیں لیکن مایوسی تب ہوئی جب یہاں صرف ہلچل دیکھی۔ تربیت کیا ہوتی ہے؟ یہ بتانے کا وقت یونیورسٹی لیول پر کم ہوتا ہے۔ مجھے میٹرک کی کلاس انچارج ٹیچر کی بات یاد آنے لگی۔
وہ بڑی شد و مد سے کہا کرتی تھیں کہ سیکھ لو جو سیکھنا ہے، سیکھ لو! آگے کالج میں پھر شاید کوئی ہاتھ پکڑ لے مگر یونیورسٹی میں چھوڑنا ہوگا، خود چلنا ہوگا۔ ابھی ہم تربیت کر رہے ہیں، تب کوئی نہیں بتائے گا کہ یہ جو لڑکا لڑکی اکھٹے بیٹھے ایک دوسرے کے کاندھے پر گرتے ہنس رہے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ جو گروپ کلاسز بنک کر کے ہوٹلنگ کر رہا ہے یہ ٹھیک نہیں ہے، بس حاضری کٹے گی، جی پی گرے گا اور خلاص! جس کو ڈگری چاہیے لے، جس کو ڈراپ ہونا ہے، ہو جائے۔
تب مستقبل کا کھینچا گیا یہ نقشہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایسی بھی کیا بات ہے؟ آخر تعلیم کے اس اہم موڑ پر آ کر تو ہمیں اساتذہ کی اور ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ہم تیاری کے بالکل آخری مراحل پر ہوتے ہیں، قوم کے معمار بننے جا رہے ہوتے ہیں، سالوں کی محنت کا نتیجہ نکلنا ہوتا ہے۔ سر پر کیپ ہاتھ میں ڈگری، سینے میں علم اور کردار میں عمل لے کر معاشرے کا مفید شہری بننا ہوتا ہے تو کیا عمارت کھڑی کرنے والے اسکو آخر میں ادھورا چھوڑ دیں گے؟
لیکن ہم ادھورے چھوڑے جانے لگے۔ پیسے لگائے، داخلے لیے، صرف ہم نہیں پیسہ لگا رہے، ادارے بھی کبھی بناوٹ پر لگا رہے ہیں کبھی سجاوٹ پر۔ پہلا سمسٹر ذہنی دباؤ اور یونیورسٹی کے انجانے ماحول میں ہی گزر گیا۔ پہلے مڈ میں ہم ابھی نئے تھے، محنت کی، نمبر کمائے۔ چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، رٹے لگ رہے تھے گلے سوکھے پڑے تھے۔ پیپرز دیے اور دھڑکتے دلوں کے ساتھ رزلٹ کا انتظار کرنے لگے۔ مڈ کا رزلٹ آیا اور فائنل کی تیاری شروع ہوئی اب ہم یونیورسٹی کے طالبعلم بن چکے تھے۔ فائنل میں جیبوں سے، چادروں کے نیچے سے موبائل نکال نکال کر نقل ہوئی اور جن کے چہروں پر ہوائیاں اڑا کرتی تھیں وہ 3.00 سے اوپر جی پی لے کر مسکراتے ہوئے پائے گئے۔
ٹیچنگ پروفیشن کی میم نے جب پوچھا کہ 2.00 جی پی کس کا ہے؟ تو ایک ہاتھ بھی نہ کھڑا ہوا کیونکہ نقل کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ہم جیسے طلبہ جو رات کو تین تین بجے تک کتابیں لے کر امتحان کی تیاری کرتے تھے اس رویے سے دلبرداشتہ ہو کر سب کے چہروں کی رونق دیکھنے لگے اور چند محنتی طلبہ نے سوچا کہ اگلے سمسٹر میں ہمارے ہاتھوں میں بھی موبائل ہوگا۔
نیا ڈپارنمنٹ بنا ادھر شفٹ ہو گئے۔ چند روز میں ہی وہاں واش رومز میں گندگی بکھری دکھائی دینے لگی جیسے نرسری کے بچوں کی کلاس روم کا حال بھی نہ ہوتا ہوگا۔ روز آیا چیختے ہوئے پائے جانے لگیں کہ کلاسز سے بہت ریپرز نکلتے ہیں باوجود اس کے کہ مین ڈور پر صاف لکھا ہے کہ نیو ڈپارٹمنٹ میں کھانے پینے کی اشیا لانا منع ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

کامن روم کو جلد ہی پریئر روم میں بدل دیا گیا اور لاک کر دیا گیا کیونکہ وہاں کا حال بھی دیکھنے کے قابل نہ ہوتا تھا۔ ملٹی میڈیا آئے دن خراب ہو رہا ہے، مائیکس کا ساؤنڈ سسٹم زیرو ہے۔ کلاسز میں پڑھایا جانے والا زیادہ تر کونٹینٹ کم مدت میں سلیبس پورا کرنے کے چکروں میں سر سے گزرتا رہا۔ ٹیچر ایک سائیکاٹرسٹ بھی ہوتا ہے لیکن جس کے پاس وقت ہی نہ ہو اس سے ہم کیا نفسیات و مشکلات سلجھائیں؟ مشکل بتائیں تو جواب زیادہ تر یہی ہوتا ہے کہ اب آپ کوئی نرسری کے بچے نہیں جو ہر بات بتائی جائے۔ ہم پھر کسی سے یہ بھی نہیں کہہ پاتے کہ ہمیں صرف یہی بتا دے کہ جو کچھ اب ہمیں پڑھایا جا رہا ہے کیا وہ نرسری میں پڑھا دیا گیا تھا؟! بچوں کو ٹشو سے ناک صاف کرنا تو آ گیا ہے لیکن وہ یہ نہیں سیکھ پا رہے کہ پرائمری سکول میں ایمانداری پر پڑھایا جانے والا باب اپنے کردار پر اپلائی بھی کرنا ہے۔ اسائمنٹس کے بوجھ سے سر تا پاؤں لد جاتے ہیں، سر پر پڑتی ہے تو اسائنٹمنٹس کاپی کرنے میں وقت صرف ہو جاتا ہے۔ 25 نمبر کون ہاتھ سے جانے دے؟
اس سب سے قطع نظر لڑکیوں کے چہروں پر میک اپ کی تہیں نفاست سے سجی ہوتی ہیں۔ زلفیں لہرا رہی ہوتی ہیں۔ ہر چہرے پر نخوت ہے۔ اخوت کا درس کون پڑھائے ؟ لباس سے ڈیسنٹ و ڈیشنگ پرسنالٹیز۔ ۔ آہا۔۔کیا کہنے !
شروع شروع میں جا کر سوچا تھا کہ بہت قابل لوگوں کے درمیان آ گئی ہوں اور پھر اب لباس و چہرے سے قطع نظر قابل ڈھونڈتے وقت گزر رہا ہے۔
ایک سال پریشانی میں سر پکڑے بیٹھے رہے اور پھر مجھے جلد سمجھ آ گئی کہ ہم مستقبل کے استاد بننے جا رہے ہیں۔ ہمیں بچوں کو ان سب باتوں سے منع کرنا ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ بچے بڑے ہو گئے ہیں، اب ہاتھ نہیں پکڑنا اب ریس ہے جو پہلے پہنچ گیا وہ جیت جائے گا، چاہے وہ کار پر پہنچے اور دوسرا پیدل بھاگ رہا ہو۔
یہ ایجوکیشن فیکٹلی ہے باقی فیکٹلیز سے ڈاکٹر یا انجیئر اور باقی سب بنے بنائے مل جاتے ہیں پریہاں قوم کے معمار بنتے ہیں اور آ جا کر پھر آپ شکایت کرتے ہیں کہ آج وہ معمار میسر ہی نہیں جو روح انسانی کو بنائے، سجائے !