من الظلمت الی النور - عالیہ ذوالقرنین

"کاشف.... کاشف!!!! میرے بیٹے.. میرے لال! کہاں ہو تم؟ جواب دو "اس کی آواز بھی اب نقاہت اور تکلیف سے بمشکل کچھ دور تک ہی پہنچ پا رہی تھی ۔
تپتے صحرا میں وہ ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی... حواس باختہ.. صدیوں کی تھکن چہرے پر لئے.. اس کے چہرے سے پسینہ آبشار کی طرح بہہ رہا تھا ۔ سارے جسم میں ریت بری طرح چبھ رہی تھی جسے سورج کی جھلسا دینے والی شعاعیں مزید اذیت ناک بنا رہی تھیں ۔ بھاگتے بھاگتے دوپٹہ اس کے پاؤں سے الجھ جاتا وہ منہ کے بل گرتی۔ بہت تکلیف سے اپنے ریت میں پھنسے ہوئے پاؤں باہر نکالتی اور دوبارہ اپنے کاشف کو آوازیں دیتے ہوئے دیوانوں کی طرح ادھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیتی۔ کبھی ایک ہاتھ ماتھے پر رکھ کر چندھیا دینے والی دھوپ روکتی اور دور تک اپنے بیٹے کو دیکھنے کی کوشش کرتی ۔ اس کا پاؤں ایک بار پھر اس کے دوپٹے سے الجھا اور وہ پھر زمین پر گر کر لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔ "شاید آخری وقت آ گیا ہے"یہ اس کے ذہن میں آنے والا آخری خیال تھا اور پھر اس کے حلق میں پیاس سے پڑنے والے کانٹے کی چبھن اس کا آخری احساس تھا۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ جانے کتنا وقت ہوش و حواس سے بیگانہ رہنے کے بعد اس کی تھکی ہوئی پلکوں میں جنبش ہوئی۔ آنکھیں کھولیں لیکن اب منظر بدل چکا تھا ۔ سورج کی تپش سرخ آندھی میں بدل چکی تھی اچانک اس کی نظر سامنے پڑی وہ تالاب تھا... بہت بڑا خون سے بھرا تالاب.... خوف سے اس کی چیخ نکلنے سے پہلے اس کی پھٹی ہوئی آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی ۔
"کاشف. کاشف... تو وہاں ؟.... باہر نکل.... کوئی ہے؟..... ارے کوئی میرے بیٹے کو اس خونی تالاب سے نکالے.. کوئی سن لے.... میرے اللہ تو تو سنتا ہے نا! میرے بیٹے کو نکال دے "اس نے جنونی انداز میں رونا شروع کر دیا -
" اماں !
اماں !.....کیا ہوا تو کیوں رو رہی ہے؟ یہ دیکھ میں کتنے سرخ گلابوں میں گِھرا ہوں ... کیا مہک ہے اس کی، تجھے آ رہی ہے نا.؟ آ تو بھی آ جا دیکھ تو سہی بہار کس طرح جھوم کر آئی ہے۔ اتنے سرخ گلاب؟... ماں تو دیکھ تو سہی. لا اپنا ہاتھ ان پھولوں پر رکھ دیکھ تو کتنے ٹھنڈے ہیں .. اب میں بس یہیں رہوں گا تو بھی آ نا!! ... آ جا... آجا نا میرے پاس !" اس کا بیٹا اس کا کاشف اس خونی تالاب میں خوشی سے گول گول گھومتے ہوئے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر تالاب کی طرف کھینچنے لگا-اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے زور سے چھڑایا ہی تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی -
" کیا یہ خواب تھا وہ خوف اور پریشانی کے ملے جلے احساس سے اٹھ بیٹھی۔ اپنا چہرہ تھپتھپایا تو پسینے میں بری طرح بھیگ چکا تھا ۔ منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے اچانک کاشف کا سوچا تو خیال آیا کہ ابھی تو وہ اس سے پیسے لے کر کچھ کتابیں لینے بازار گیا تھا ۔
وہ اور اس کا بیٹا کاشف ۔ وہ ایک دوسرے کی کل کائنات تھے۔ ابھی کل ہی تو اس نے امیرِختم نبوت کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے کی خوشخبری اسے سنائی تھی اور اسے بھی احادیث کے حوالوں اور کتابوں کے ثبوت سے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی مگر اس نے سنی ان سنی کر دی ۔ اور اب یہ خواب؟.... یہ کیسا خواب تھا جو بظاہر خوفناک تھا مگر اس کے بیٹے کا چمکتا دمکتا چہرہ اور کھنکھناتی آواز تو کسی اور ہی کامیابی کی داستان سنا رہی تھی ۔
"دھڑ..... دھڑ.... دھڑ..... دھڑ " دروازہ بری طرح پیٹا گیا اور پیٹا ہی جاتا رہا -
" ٹھہرو بھئی! کیا ہو گیا؟ " اس نے کچھ تشویش سے دروازہ کھولا-
" خالہ!.. خالہ.. جلدی کرو میرے ساتھ چلو.. "ساتھ والے خالد نے دروازہ کھلتے ہی اسے گھسیٹتے ہوئے کہا
" ارے خالد!... رک! کہاں کھینچے لے جا رہا ہے مجھے تو؟ " اس نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا مگر خالد نے اسے زبردستی بغیر کچھ بتائے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور جہاں روکی تو وہ خوف اور پریشانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
دھواں اور بارود کی بو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی ۔ جا بجا خون ایسے بکھرا تھا جیسے اس کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا ۔ ہر طرف ایک چیخ و پکار، رونے دھونے اور ایمبولینس کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ کہیں کسی کا کٹا ہوا ہاتھ اور پاؤں بے یارو مددگار پڑا تھا تو کہیں کھلا ہوا بھیجا اپنے ساتھ کی ہوئی زیادتی کی زندہ مثال پیش کر رہا تھا ۔ اس نے مضبوطی سے خالد کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا -
"خالد! یہ کیا ہوا ہے؟ تو مجھے یہاں کیوں لایا ہے؟ " وہ اتنے مضبوط اعصاب کی مالک نہیں تھی جبھی بلک بلک کر رو دی ۔
" خالہ! خود کو سنبھالو.. صبح کاشف سے سلام دعا ہوئی تو اس نے بتایا تھا کہ کچھ کتابیں لینے بازار جا رہا ہوں ۔ خالہ یہ وہی جگہ ہے جہاں کاشف کتابیں لینے آیا تھا ۔ یہاں دور دور تک لاشیں ہی لاشیں ہیں - میں یہاں آیا مگر مجھ سے کاشف کی پہچان نہیں ہو سکی ۔ تم اسے خود پہچان لو... خالہ خود پہچان لو " خالد بچوں کی طرح ہچکیوں سے رو رہا تھا۔
" نہیں .. میرا بیٹا یہاں نہیں ہو سکتا. میرا بیٹا یہاں نہیں ہو سکتا " وہ چیخ چیخ کر روتی رہی اور جنونی انداز میں کٹی پھٹی لاشوں ، بکھرے ہوئے اعضاء اور چیزوں کو دیوانوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر دیکھتی رہی ۔
" نہیں ....... " اس کی غیر معمولی چیخ پر خالد نے مڑ کر دیکھا تو وہ ایک پھٹا ہوا جوتا اٹھائے بے اسے تحاشا چومتی جا رہی تھی ۔ کبھی وہ جوتے کو چومتی کبھی اپنے سینے سے لگاتی گویا یہ اس کا کاشف ہو ۔ ان کہی بہت کچھ کہہ چکی تھی ۔ خالد کی پوچھنے کی ہمت نہ ھوئی ۔ اچانک وہ روتے روتے خاموش ہوئی کچھ سوچا اور بے ساختہ ہنسنے لگی " ارے! میں کیوں رو رہی ہوں؟ کیوں رو رہی ہوں میں؟ ہش ہش... خاموش.... سب خاموش ہو جاؤ میرے بیٹے پر کوئی آنسو نہ بہائے وہ گلابوں کے درمیان ہے وہ دیکھو! وہ ہنس رہا ہے۔ خوش ہو رہا ہے"اس نے خوشی سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔ پھر ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی اور خالد کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی:
"خالد! مجھے بھی اس مولانا کے پاس لے چل جس نے میرے بیٹے کو کلمہ پڑھایا تھا میں اپنے بیٹے کی یہ آخری خواہش ضرور پوری کروں گی وہ مجھے بھی گلابوں میں بلا رہا تھا -" اس نے اپنے بیٹے کے جوتوں کو بوسہ دے کر اپنے چہرے پر رگڑا اور خالد کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی۔