خوش آمدید ماہِ احتساب - اشفاق پرواز

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جو ہم پر سایہ افگن ہونے جا رہا ہے۔ امت مسلمہ کے لیے رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا پیغامِ مسرت لا رہا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ نبویﷺ ہے:’’ یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عُشرہ رحمت،دوسرامغفرت اور تیسرا خلاصی ازنارِ جہنم ہے۔‘‘ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنی دنیوی زندگی کو سجانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی زندگی کو سنوارنے کی خاطر اس ماہِ مبارک میں روزے رکھ کر اور اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کر کے فرائض اور نوافل کا اہتمام کرتے ہیں ۔ خدائے تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں روزوں کا مقصد بیان کرتے ہوے فرمایا ہے کہ اس سے بنی نوع انسان میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔تقویٰ ایک مستقل صفت ہے جس کا مرکز انسانی قلب ہے۔خداے تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں ( اسی طرح) جس طرح تم سے پہلے (لوگوں پر) یہ فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہوجائے۔( سورہ البقرہ آیت۱۸۳)
انسانی قلب جب اس سے متصف ہو جاتا ہے، تو انسان کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ اس کے فکر و عمل میں حیرت انگیز انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور اس کی آنکھ، کان، زبان،ہاتھ اور پاؤں پر تقویٰ کا رنگ غالب آجاتا ہے۔ ان کی کار کردگی میں قابلِ تعریف تبدیلی آتی ہے۔کل تک گناہ گاری میں غرق،سرکشی، جھوٹ، فریب کاری،مکّاری، دھوکہ دہی، شراب نوشی اور بدکاری میں مبتلا، سودی لین دین، ناجائز کاروبار، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی،ملاوٹ، رشوت خوری، خیانت اور بددیانتی جیسے جرائم سے وابستہ شخص کے لیے اب توبہ کے دروازے یکسر کُھل جاتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کی پہلی ہی رات کو آسمانِ دنیا پر نزول فرما کر اعلان فرماتا ہے ’’ اے خیر کے طلبگار آگے بڑھ اور اپنے لیے زیادہ سے زیادہ خیر حاصل کراور اے طالب شر اپنے شر سے توبہ کر، آج تمہارے لیے توبہ کے دروازے کھلے ہیں ۔ ‘‘ (ترمزی،ابن ماجّہ، احمد)۔ اس جیسا روح افزا پیغام ماہِ مبارک کی ہر رات کو صبح صادق تک خدا کے باغی بندے کو سنایا جاتا ہے تاکہ وہ گناہوں سے پلٹ کر راہ ہدیٰ کو اپنائے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس نے ایمان اور طلب ثواب کی وجہ سے اپنے روز ے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ (صغیرہ) معاف ہوجاتے ہیں ۔ (بخاری و مسلم)۔ اس عادلانہ اور منصفانہ ارشاد سے اس کو مغفرت کی نوید سنائی جاتی ہے۔غرض یہ کہ اگر وہ گناہوں کی دلدل میں زندگی گزارنے کا عادی تھا،اس ماہِ مبارک میں اگر وہ اپنی زندگی خدائے تعالیٰ کی بندگی میں گزارنے کا عہد کرے اور ایک اطاعت شعار غلام کی طرح اپنے آقاکے ہر حکم کی تعمیل میں سرگرمِ عمل ہونے کا پکا ارادہ کرے تو خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لیے مغفرت کے دروازے اس مبارک مہینے کے صدقے کھول دے جاتے ہیں ۔
ماہِ رمضان ایک مسلم کو اس کے قول و فعل کے لحاظ سے تقویٰ کا پابند بنا دیتاہے۔اُس کے روز و شب کو خدا کی حقیقی بندگی اور رسولﷺ کی اطاعت میں بسر کروانا چاہتا ہے۔ اور یہ بندگی و اطاعت تا حیات نہ کہ کسی محدود وقت کے لیے عارضی اور غیر مستقل بنیادوں پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ایک مسلمان کی پوری زندگی تقویٰ اور ایمان سے لبریز ہونی چاہیے، وہی تو ماہ صیام کا پیغام ہے۔اگر کوئی شخص روزے رکھتا ہے لیکن بدیوں سے خود کو دور نہیں رکھتا اُس کی مثال اُس مریض کی سی ہے جو بیماری سے شفایاب ہونے کے لیے دوائی لیتا ہے مگر پرہیز کرنے کی زحمت نہیں اُٹھاتا، ظاہر ہے ایسا مریض کبھی شفایاب نہیں ہوگا۔علاج پر اس کا پیسہ بھی ضائع اور صحت یاب ہونے کی بھی توقع نہیں ۔آنحضور ﷺ کا ارشاد ہے ’’جس شخص نے روزے رکھنے کے با وجودجھوٹ بولنااور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے۔ ‘‘ اس فرمانِ مبارک سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ایک روزہ داراپنے غیر اسلامی طرز عمل پر ہی عمل پیرا رہے اور بد اعمالی سے پرہیز نہ کرے تو ایسے روزوں سے اس کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہونانا ممکن ہے۔بلکہ وہ صرف اور صرف بھوک اور پیاس سے دوچار ہوگا۔
دو دہائیوں سے ریاست جموں وکشمیرکے معاشرے میں گناہوں کا بازار نہایت ہی گرم ہے۔بھیانک برائیاں جنم لے چکی ہیں ۔ اولیا اللہ کی یہ سرزمین جسے’’ پیرہ وار‘‘ کہتے ہیں جرائم کی آماج گاہ بنتی جا رہی ہے۔خواتین کے ساتھ روز روز کی زیادتیاں اور ایسی خطائیں عام ہو چکی ہیں جن کا 20 سال پہلے وقوع پزیر ہونا کسی کے خواب و خیا ل میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ لیکن آج شیطانی قوتوں نے اپنا جال اس دھرتی کے طول وعرض میں پھیلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔نوجوان نسل اپنی شاندار تہذیب و تمدن سے نا آشنا اسلامی اخلاقیات سے دور بھاگتی نظر آرہی ہے۔مغربی تہذیب نے یہاں اپنی مشکیں کس لی ہیں ۔نوجوانانِ نے اپنی تعلیم، طرزِ کلام، نشست و برخاست، خوردونوش اور دیگر معاشرتی معاملات میں مغربی تہذیب کو اپنا یا ہے۔وہ فیشن پرست بن گئے ہیں ۔بے حیائی عام ہو رہی ہے اور اس میں تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ پیش پیش ہے۔ حلال وحرام کی کوئ تمیز نہیں رہی ہے۔سب اسی دنیائے فانی کوبنانے اور سجانے لگے ہیں ۔ آخرت کی طرف نگاہ اُٹھانا بہت گراں گزرتا ہے۔نفسانی خواہشات کا عفریت سروں پر سوار ہے اور اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے کسی حد تک بھی جایا جا سکتا ہے، جس کی شہادت وادی کا چپہ چپہ دے رہا ہے۔ان مخدوش حالات میں ماہِ مبارک کا آنا مردہ جسموں میں نئی جان ڈالنے کے برابر ہے۔اور ایک نعمت بے بہا اور تدیاک ہمہ درد ہا دوا است۔ماہِ صیام مسلمانوں کو ایک سنہری موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ گناہوں سے تائب ہو جائیں۔ بغاوت سے دامن بچائیں اور خالقِ کائنات کی اطاعت گزاری کا عہد باندھیں ۔ بُرائی و بے حیائی کو ترک کر کے رب ذالجلال کے دربار میں سجدہ ریز ہو جائیں اور تقویٰ کی روش اختیا ر کر کے ماضی کی غلطیوں کی تلافی کریں ۔ اس جذبہ کے ساتھ جو لوگ ماہِ رمضان کا استقبال کرتے ہیں اور روزوں ، نمازوں ، تراویح و نوافل کا اہتمام کرتے ہیں ان کے لیے واقعی یہ خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ایک حدیث مبارک میں آیا ہے کہ اس ماہ میں جس نے ایک نیکی کی اس نے گویا غیر رمضان میں ایک فرض ادا کیا۔اور جس نے اس مہینے میں ایک فرض ادا کیا، اس نے گویا غیر رمضان میں 70 فرض ادا کیے۔
ہمیں چاہیے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں ، اس کے احکام پر عمل کریں ، ضرورت مندوں ، محتاجوں کی مدد کریں ، حلال رزق کے حصول کی فکر کریں ۔ خدائے تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن کر زندگی گزارنے کا تہیہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماہ ِمبارک ماہِ رمضان کے فیوض و برکات سے مالا مال کرے۔ اس کی رحمت، مغفرت اور پروانہ آزادی سے سرفراز فرمائے اور ہمیں اس ماہِ مبارک میں ایسی تربیت نصیب ہو جائے جو ہمیں باقی گیارہ مہینوں میں تمام بدیوں ، برائیوں ، نفسانی خواہشوں اور شیطانی وسوسوں سے بچا کر رکھے۔ (آمین)