نوجوانوں کی ذہن سازی اور اصلاح: کیوں اور کیسے؟ مجتبیٰ فاروق

زمانہ جتنا بھی آگے بڑھتا جائے گا نوجوانوں کی اہمیت، رول اور حیثیت بھی بڑھتی جائے گی۔ ہر زندہ قوم، تحریک اور نظریہ نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اقوام و ملل کو چلانے، تحریکوں کو متحرک رکھنے اور نظریات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہمیشہ نوجوان نے ہی نمایاں رول ادا کیا ہے۔ نوجوان بلند عزائم کے مالک ہوتے ہیں، جہد مسلسل اور جفاکشی ان کا امتیاز ہوتا ہے، بے پناہ صلاحیتیں ان میں پنہاں ہوتی ہیں، بلند پرواز ان کا اصل ہدف ہو تا ہے، چلینجز کا مقابلہ کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ شاہینی صفات سے وہ متصف ہوتے ہیں، ایک بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ساحل پہ کشتیاں جلانے کو تیار ہو جاتے ہیں، وہ ہواؤں کا رُخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، باطل دوئی پسند ہے اور حق لا شریک جیسا عظیم اعلان کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ میدان کارزار میں شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کی قوت ان میں موجود ہوتی ہے۔ یہی نوجوان ہیں جو باطل پرستوں کے خیموں میں خوف و دہشت کو ہلا سکتے ہیں۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو ہر قوم و ملت اور تحریک کے لیے امید کی واحد کرن ہوتے ہیں۔ اسی کرن کے سہارے اقوام و ملل اور تحریکیں آگے بڑھتی ہیں اور اہداف کے مختلف منازل طے کرتی ہیں۔ یہ طبقہ تب ہی قوم و ملت کے لیے کارگر ثابت ہو سکتا ہے جب اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ یہ طبقہ ہی ملت کے لیے سایہ دار اور ثمرآور درخت بن سکتا ہے جب ملت کا ہر طبقہ ان کی تعلیم و تر بیت اور اصلاح کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں اور ذرائع کو بروئے کار لانے کا تہیہ کر لے۔

نوجوانوں کی اسلامی خطوط پر رہنمائی کرنا نہ صرف دور حاضر کا بلکہ ہر دور کا تجدیدی کام ہوتا ہے۔ بقول مولانا ابوالحسن علی ندوی وقت کا تجدیدی کام یہ ہے کہ ’’امت کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقہ میں اسلام کے اساسیات اور اس کے نظام و حقائق اور نظام محمدی کا وہ اعتماد واپس لایا جائے جس کا رشتہ اس طبقہ کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ آج کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور نفسیاتی الجھنوں کا علاج بہم پہنچایا جائے جس میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بری طرح گرفتار ہے اور اس کی عقل و ذہن کو اسلام پر پوری مطمئن کر دیا جائے.‘‘ اس اہم اور بنیادی کام سے تغافل برتنا ایک سنگین جرم ہے، جس کا خمیازہ یقینا بھگتنا پڑے گا۔ نوجوانوں کے درمیان مقصد زندگی سے ناآشنائی، تزکیہ و تربیت کی کمزوری، اور ان کے اندر فکری، تعمیری اور تخلیقی سوچ کا پروان نہ چڑھنا بہت بڑا المیہ ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. اسلام کی بنیادی تعلیمات سے لاعلمی۔
2. گھر میں اسلامی ماحول اور شعور کا نہ ہونا۔
3. اسلامی اخلاقیات اور شرم و حیا سے عاری ہونا۔
4. بے روزگاری کی وجہ سے مختلف الجھنوں کا شکار ہونا۔
5. مغربی فکر و تہذیب اور جدیدیت کے اثرات کی وجہ سے لذت پرستی اور جنسی خواہشات کی لت لگنا۔
6. حیا سوز سیریلز، فلمیں، اور ویب سائٹس کی وجہ سے بےشمار اخلاقی برائیوں کا عام ہونا۔
7. کاسمیٹک اور کارپوریٹ کلچر کے پھیلاؤ کی وجہ سے نوجوانوں کا تناؤ اور مختلف اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہونا۔
8. نفسِ امارہ، ضمیر فروشی، اور مادہ پرستی جیسی روحانی بیماریوں کا عام ہونا۔
9. نوجوانوں کا والدین کی شفقت، محبت اور رہنمائی سے محروم ہونا۔

اس وقت مسلم سماج میں تین طرح کے طبقات موجود ہیں۔
ایک طبقہ وہ ہے جو مغربی فکر و تہذیب اور جدیدیت و مابعد جدیدیت سے مرعوب ہو کر اور آنکھیں بند کر کے اس کی تقلید محض کر رہا ہے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو مغربی فکر و تہذیب اور اس کے جملہ علوم کو اپنے دین و ایمان کے لیے خطرے کی علامت سمجھتا ہے، وہ اس سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ اور زندگی گزار نے کے لیے ماضی سے چمٹ کر رہنا ہی کامیابی کا واحد ذریعہ باور کرواتا ہے۔
تیسرا طبقہ متوازن سوچ کا حامل ہے، جو مذکورہ دونوں طبقات سے مختلف رجحان رکھتا ہے، یہ طبقہ ہر اچھائی اور خیر کی تلاش میں ہے۔ جو اس کو کہیں بھی ملے فوراً اس کو اخذ کر لیتا ہے۔

علم و آگہی کی تین راہیں:
نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح اس طرح کرنا کہ وہ اس متوازن طبقہ میں شامل ہو کر ایک ایسی زند گی گزار ے جو دین فطرت کو مطلوب ہے۔ اس کے لیے علم، تربیت اور سماج کا فہم وشعور ہونا ازحد ضروری ہے۔ وہ تین راہیں اس طرح سے ہیں:
1. علم:
علم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کے حصول کے لیے تگ و دو کرنا ہر مسلم نوجوان پر فرض ہے۔ علم ہی وہ چیز ہے جس کی بدولت ایک انسان اپنے خالق کو پہچان سکتا ہے اور اس کی بنیاد پر وہ اپنی ذات اور خودی کو پروان چڑھا سکتا ہے۔ اسی علم کی بنیاد پر رب کے رنگ میں (صبغۃ اللہ) رنگ سکتا ہے۔ اسی علم کی بنیاد پر ایک انسان صالح اور پرامن معاشرے کی تعمیر کے لیے جدوجہد کر سکتا ہے۔ انسان اپنے خالق کی قربت و معیت اسی معلم کی بنیاد پر حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی علم کے ذریعے سے طالب علم اور نوجوان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ طلبہ اور نوجواں جو علم حاصل کر رہے ہیں، وہ سیکولرزم اور مادیت کے زہر یلے اثرات سے مزین ہے۔ رائج نظام تعلیم میں ایمانی و اخلاقی اور روحانی اقدار کا وجود ہی نہیں۔ یہ نظامِ تعلیم مادیت (Metrialism)، عقلیت (Rationalism)، لذت پرستی (Hedonism)، اور استعماریت (Imprialism) جیسے فاسد اصولوں پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی بھی الہی عنصر موجود نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں امر یکہ، روس، یورپ اور چین جیسے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ممالک یعنی دنیا کی 30 فیصد آبادی میں اسی 80 فیصد جرائم ہوتے ہیں، اس کے برعکس 70 فیصد غیر تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ممالک میں جرائم کا گراف بہت کم ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ علم کو اس کا صحیح مقام دیا جائے اور اس کو وحی الہی کے اس ابتدائی پیغام کی طرف لوٹا دیا جائے جس میں فرمایا گیا کہ
’’پڑھو اے نبی ؐ! اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا، خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو تمہارا رب کر یم ہے جس نے علم کے خزانے سے علم سکھایا۔ (العلق)‘‘
یہ تو صرف ابتدائی پیغام ہے. قرآن مجید میں اس جیسی رہنمائی جگہ جگہ ملتی ہے۔ تقریبا 750 سے زائد آیات علم کے موضوع پر ہیں، لہذا قرآن کے نظریہ علم کو غور سے پڑھا اور سمجھا جائے اور پھر اپنے لیے راہیں متعین کی جائیں؛ علم کا رشتہ جب خالق کائنات کے ساتھ استوار ہو جائے گا تو ہم ایک صحت مند اور صالح معاشرے کی تشکیل میں کامیاب ہو سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   انقلاب یا بغاوت - عمار مظہر

2. تربیت:
علم کے بعد دوسری چیز تربیت ہے جس کے ذریعے سے طلبہ اور نوجوانوں کو اسلام کے متعین کردہ حدود کا پابند کیا جاسکتا ہے۔ قرآن مجید نے تربیت کے لیے اچھا، خوبصورت اور بلیغ لفظ استعمال کیا ہے جس میں جامعیت کے ساتھ ساتھ گہرائی بھی ہے. تزکیہ کے معنی نفس کو جملہ برائیوں،گندگیوں اور شرک جیسے کبائرگناہوں سے پاک کرنا اور پھر اس کو اچھائیوں اور خوبیوں سے خوب ترقی دینا اور پروان چڑھانا ہے۔ تزکیہ نفس ہی اخلاقی، روحانی اور مادی ترقی کا ضامن ہے۔ تزکیہ فرد کی اصلاح و تعمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ اقدار پر مبنی سیاست بھی اس کا مطلوب ہے۔ تزکیہ نفس ہی کو حقیقی کامیابی قرار دیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی. (سورہ اعلیٰ) دوسری جگہ یہ بھی آیا ہے کہ جس نے اس کو بُرائی کی طرف مائل کیا، وہ ناکام ہوا۔ ارشاد باری تعالی ہے: یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔(الشمس) لہذا ضروری ہے کہ نو جوانوں کے فکر و عمل کو صحیح رخ دیا جائے۔ انہیں اسلام کے دیے ہوئے نظام تزکیہ کے مطابق ڈھالا جائے، انہیں سوچنے سمجھنے اور فہم و شعور حاصل کر نے کا زاویہ متعین کیا جائے۔

3. سماجی فہم و شعور:
سماج کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے؟ اس کے محاسن کیا ہیں؟ اس کے فاسد عناصر کیا ہیں؟ ان سبھی پہلوؤں کا صحیح اورگہرا شعور اور فہم ہونا چاہیے۔ سماج گھر کی طرح ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ گھر ایک چھوٹی سی اکائی ہوتی ہے جبکہ سماج ایک بڑی اکائی کا نام ہے۔ اس بڑی اکائی کو صالح بنیادوں پر تشکیل دینا ہر نوجوان کی اولین ذمہ داری ہے۔ بشرطیکہ اس کو اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہو۔ اسلام ذمہ داری، ملنساری، اتحاد و اتفاق، جذبہ مسابقت الی الخیر اور عدل و انصاف کی تلقین کرتا ہے۔ یہ صالح معاشرے کے بنیادی اوصاف ہیں ان ہی کے ذریعہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ اسلام دوسروں کے حقوق ادا کرنے کے علاوہ خیر خواہی کی بھی تلقین کرتا ہے۔ اسلام دوسروں سے منہ پھیر کر زندگی گزارنے سے منع کرتا ہے اور سماج سے الگ تھلگ رہنا یا کٹ کے رہنے سے بھی باز رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے حضرت لقمان کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اور تم لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو۔ (لقمان)

لائحہ عمل
نوجوانوں کی تعلیم و تر بیت اور اصلاح کے ضمن میں تین ادوار کا اہم اور نمایاں رول ہے۔
1. والدین،گھر اور دیگر سرپرستوں کا رول
2. اسکول کالجز اور دینی اداروں کا رول
3. مسلم دانشوروں، قائدین، تنظیموں اور تحریکوں کا رول

والدین، گھر اور دیگر سرپرستوں کا رول:
نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں والدین اور گھر کا سب سے اہم اور کلیدی رول ہوتا ہے۔ والدین اور گھر ہر بچے کا اولین مدرسہ یا تربیت گاہ ہوتے ہیں جہاں سے بچے نہ صرف ابتدائی اور بنیادی باتیں سیکھتے ہیں بلکہ عادات و اطوار اور رویہ بھی گھر ہی سے سیکھنے کو ملتا ہے۔ والدین جتنا اسلامی علوم و تربیت سے آگاہ ہوں گے اتنا ہی وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں گے۔ جو والدین خود دین رحمت پر قائم و دائم ہوں، وہ اپنے بچوں کی اسلامی خطوط پر بہترین تربیت کر سکتے ہیں، اور جو والدین اپنے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت سے محروم رکھتے ہیں، وہ ایک عظیم جرم کا ارتکاب کر تے ہیں۔ جو بچہ اپنے ماں باپ کی تعلیم و تربیت سے محروم رہے، وہی حقیقتی معنوں میں یتیم کہلاتا ہے۔ بقول ایک عربی شاعر: ”یتیم وہ نہیں ہے جس کے والدین فوت ہو چکے ہوں اور اس کو تنہا اور بےسہارا چھوڑ گئے ہوں، یتیم تو وہ ہے جس کی ماں نے اس سے بےاعتنائی برتی ہو اور باپ مصروف رہا ہو۔“
لہذا والدین اور گھر کے دیگرافراد پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تربیت، رہنمائی اور اصلاح کرنے پر ایک لمحہ کے بھی غافل نہ رہیں۔ اور اگر وہ اس سے غفلت برتیں تو اس سے نہ صرف ان کو شرمندگی اور رسوائی اٹھانی پڑیں گی بلکہ اس کا خمیازہ پوری ملت کو بھگتنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ انقلاب نہیں۔ انتشار ہے - محمود شام

اسکول کالجز اور دینی اداروں کا رول:
عصر حاضر میں تعلیمی ادارے تربیت گاہ کے بجائے ذبح خانہ کی شکل اختیار کرچکے ہیں. بقول لسان العصر اکبر الہ آبادی
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
نونہالوں اور نوجوانوں کو اگر مہذب طریقے سے قتل کرنا ہو تو ان تعلیمی اداروں سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتی۔ ان اداروں میں طلبہ کو علم کے نام پر معلومات اور جانکاری تو فراہم کی جاتی ہے لیکن ان کو اصل حقیقت سے ناواقف رکھا جاتا ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں ایک نوجوان اور طالب علم ان بنیادی سوالات کا جواب دینے اور حاصل کرنے سے پوری طر ح سے قاصر ہے کہ میں کون ہوں؟ میرا خالق و مالک کون ہے؟ میری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ مجھے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا میں کیوں بھیجاگیا؟ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد کہاں جانا ہے؟ وہ تعلیم جو جدید تعلیمی ادارے فراہم کر رہے ہیں، وہ اگر خالق و ممالک سے دوری پیدا کرتی ہے تو اس کا کیا فائدہ؟ اقبال کی زبان میں:
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
اولاد بھی املاک بھی جاگیر بھی فتنہ
لہذا تعلیمی اداروں میں نصاب اس طرح تشکیل دینا ہوگا کہ وہ طلبہ کی ہمہ جہت اور ہمہ گیر تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیری اور اور بامقصد ہو۔

مسلم دانشوروں، قائدین، تنظیموں اور تحریکوں کا رول:
نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، اصلاح اور ان کے اندر تصور خلافت کو بیدار کرنا مسلم دانشوروں، تنظیموں اور تحریکوں کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ تصورِ خلافت اسلام کا اہم اور بنیادی تصور ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، اب جو کوئی کفر کر تا ہے، اس کے کفر کا وبال اس پر ہے۔ (البقرہ)
اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہے کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں. خالق کائنات نے انسان کو ایسے ہی نہیں چھوڑا بلکہ اس کے لیے زمین و آسمان کو مسخر کیا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: جس نے سورج اور چاند تمھارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں۔ اور رات دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو اس لیے تخلیق کیا کہ یہ تمہارے لیے ہر اعتبار سے فائدہ مند ہے۔ غرض کہ یہ حقیقی اور بنیادی تصور نوجوانوں کے ذہنوں میں نقش کیا جائے تاکہ وہ اس دنیا میں نیابت یا خلافت کا فر یضہ انجام دے کر دونوں جہانوں میں سر خ روئی اور کامیابی سے ہم کنار ہو سکیں۔ نوجوانوں کی صحیح تربیت، اصلاح اور ان کا صحیح استعمال ہی مستقبل میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ مجموعی طور پر ان تینوں اداروں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ:
1. نوجوانوں کے ذہنوں میں تصور خلافت، عقیدہ رسالت اور عقیدہ آخرت جیسے بنیادی اور اہم تصورات کا صحیح شعور بیدار کریں۔
2. نوجوانوں کو اخلاقی و روحانی، سماجی و فکری طور سے تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں دنیا کی قیادت کر سکیں۔
3. نوجوانوں میں ایسی اسلامی بصیرت اور وژن (Vesion) پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ نہ صرف ملت اسلامیہ بلکہ پوری دنیا کی رہنمائی کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکیں۔
4. اسلامی علوم بالخصوص قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا تاکہ وہ ہر میدان میں دنیا کو ایسے متبادل فراہم کر سکیں جو الہی ہدایات اور اقدار پر مبنی ہوں۔
5. نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے اس طرح آراستہ کرنا کہ وہ علم کی تقسیم کے قائل نہ رہے. انھیں تعلیم اکائی کی حیثیت سے دی جائے، علم کی دینی اور دنیوی خانوں میں تقسیم کسی بھی طور سے درست نہیں ہے۔
6. ان میں ایسی دعوتی سپرٹ پیدا کرنا کہ وہ ہر جگہ داعی کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر سکیں۔

(مجتبی فاروق ادارہ تحقیق و تصنیف، علی گڑھ سے بطور اسکالر وابستہ ہیں)