جنسی بھیڑیے بچوں پر حملہ آور ہیں - عابد محمود عزام

یہ ایک بہت ہی افسوس ناک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روز بروز ایسے ایسے خوفناک حقائق و واقعات سامنے آتے ہیں جن کو شیطانیت و درندگی کے کھلے مظاہر کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چند سال پہلے تک کم از کم ہمارے معاشرے میں اس قسم کے شرمناک جرائم کی اتنی بھرمار نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جنسی زیادتی پاکستان کا تیسرا سنگین ترین جرم بن چکا ہے۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہوس کے پجاریوں نے معصوم بچوں کو بھی نہ چھوڑا۔ بچوں کے ساتھ ایسے ایسے دل دہلا دینے والے سانحات رونما ہوتے ہیں، جن کو لکھتے ہوئے قلم بھی تھرتھرا اٹھتا ہے۔ بچوں کا جنسی استحصال پوری دنیا میں بڑھتا جا رہا ہے، مگر ہمارے لیے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ خود ہمارا ملک پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ”ساحل“ کی طرف سے 23 مارچ کو شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ 2016ء کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں سب سے زیادہ سنگین جرم زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا قتل ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ان والدین پر کیا گزرتی ہوگی جن کے بچوں کو جنسی زیاہ کا نشانہ بنایا گیا ہو اور پھر قتل کردیا گیا ہو۔ یہ تصور ہی اتنا خوفناک ہے کہ ذہن میں آتے یقینا ہر والدین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہوں گے، لیکن پاکستان میں بچوں کے جنسی زیادتی کے بعد قتل کے واقعات پیش آرہے ہیں، مگر مجرم آزاد ہیں۔ 12مئی کو شایع ہونے والی خبر کے مطابق قصور میں تھانہ صدر کی حدود میں تین ماہ کے دوران 5 سال سے 11 سال تک کی پانچ بچیوں کو قتل کردیا گیا ہے، جن کی لاشیں زیر تعمیر گھروں اور حویلیوں سے ملیں۔ نشانہ بننے والی معصوم بچیوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ متاثرین نے کہا کہ ان دردناک واقعات کے بعد کسی بھی اہم شخصیت اور پولیس افسر نے داد رسی کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ قصور تھانہ صدر کے علاقہ میں کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعات پر متاثرہ خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ رات کو گھروں کے باہر سوتے ہوئے اکثر بچیاں غائب ہوئیں، جبکہ کچھ کو سودا سلف لانے بھیجا تو وہ گھر واپس نہ آئیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں، اس لیے کوئی ہماری مدد کو نہیں آیا۔ قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ کے بعد والدین نے خوف کے باعث سکول جانے والی اپنی بچیوں کو سکول جانے سے روک دیا ہے۔ قیامت خیز واقعہ نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کو جھنجھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد تو یوں لگتا ہے کہ ہم گویا درندوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ جہاں کسی کی بھی جان و عزت محفوظ نہیں ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے واقعات پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

وطن عزیز میں ایسے دلخراش سانحات کی روک تھام نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق کے قوانین اور بل منظور ہوئے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ ملک میں بچوں کے ساتھ سیکڑوں جنسی اسکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ بہت سے مجرم گرفتار بھی ہوئے، مگر چھوڑ دیے گئے۔ چند سالوں سے بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بیرون ملک فروخت کرنے کے بھی متعدد اسکینڈل سامنے آئے ہیں، جن میں کئی مجرم پکڑے گئے، جنہوں نے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔ قصور واقعہ سب کے سامنے ہے، جس میں 300 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ سرگودھا میں بھی بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والا ملزم پکڑا گیا۔ سوات میں بھی کئی لوگ اسی جرم میں پکڑے گئے، ان کے علاوہ بھی دیگر علاقوں سے ایسے مجرم پکڑے گئے، جنہوں نے یہ ویڈیوز بیرون ملک فروخت کر کے لاکھوں روپے کمائے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ چند دن کے بعد ایسے واقعات میڈیا سے بالکل ہی غائب ہوجاتے ہیں اور میڈیا کی آنکھ دوبارہ اس وقت کھلتی ہے جب دوبارہ اس قسم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، حالانکہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اس وقت تک معاملے کو اٹھائے رکھے جب تک مجرموں کو سزا نہیں مل جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   خدارا! اپنے بچوں کو سمجھیں - عبدالباسط ذوالفقار

اس معاملے میں جہاں حکومت ذمہ دار ہے جو مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچاتی، وہیں کافی حد تک قصور والدین کا بھی ہے، کیونکہ والدین بچوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے اور انہیں اپنی حفاظت کرنا نہیں سکھاتے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ”ساحل“ کی تحقیقات کے مطابق بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کرنے والے مجرمان میں گھر کے اندر کے افراد، رشتہ دار اور واقفِ کار بھی ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو بچوں کو جانتے تھے۔ ادارے نے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا کہ یہ لوگ بچوں کو پھسانے کے لیے تحائف کی پیشکش کرتے ہیں، ان سے محبت کا اظہار اور مختلف کاموں میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ جنسی زیادتی میں کامیابی کے بعد یہ افراد بچوں پر اس راز کو خفیہ رکھنے کے لیے دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔ ایسے میں بچوں کو بچانے کے لیے والدین کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے۔ والدین کا فرض بنتا ہے کہ بچوں کو ہر قسم کے خطرے کے لیے تیار کریں۔ بچوں کو اپنائیت کا احساس دیں، تاکہ وہ اپنی ہر بات والدین کے ساتھ شیئر کر سکیں۔

والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اس حوالے سے مکمل اعتماد میں لیں کہ وہ دن میں کسی بھی اجنبی سے ملیں تو اس کا ذکر کھل کر آپ سے کریں۔ انہیں پیار سے سمجھائیں کہ کوئی بھی اجنبی شخص آپ سے آپ کا نام، امی ابّو کا نام یا گھر کا پتہ پوچھیں تو ہرگز انہیں نہ بتائیں۔ ان کے روزانہ کے معمولاتِ زندگی کے حوالے سے دریافت کریں۔ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ آپ نے اسکول آتے جاتے، بازار یا کہیں اور جاتے ہوئے کس قسم کے لوگوں سے بات کرنی ہے اور کس قسم کے لوگوں سے بات نہیں کرنی ہے۔ ہمیشہ اپنے ہم عمر بچوں سے دوستی کریں، ان کے ساتھ کھیلیں کودیں اور اگر ان سے بڑی عمر کا لڑکا یا لڑکی دوستی کی آفر کریں تو فوراً اسے رد کر دیں۔ اگر خدانخواستہ کوئی بھی اجنبی شخص انہیں کوئی ٹافی، تحفہ یا کوئی اور چیز دے تو ان سے ہرگز نہ لیں اور ایسے لوگ کسی پارک، باغ یا کسی اور جگہ گھومنے کے بارے میں کہیں تو ان کے ساتھ مت جائیں۔ اگر ایسے لوگ کسی بھی جگہ آپ سے زبردستی کریں یا آپ کو اٹھا کر کہیں لے جانے کی کوشش کریں تو زور زور سے شور مچائیں اور مدد کے لیے پکاریں۔ بچوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اگر اسکول یا مدرسے سے چھٹی ہوتی ہے تو اپنے دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ ہی وہاں سے نکلیں۔ اگر مدرسے کا مولوی یا اسکول کا ٹیچر آپ کو اکیلے میں مزید رہنے کا کہے تو انکار کر دیں اور گھر کی طرف نکلیں۔

ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کو ایک اور اہم قدم بھی اٹھانا ہوگا جس کی جانب اکثر توجہ نہیں جاتی، وہ یہ کہ انٹرنیٹ سے فحش مواد ختم کرنا ہوگا، کیونکہ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں جنسی تشد د انٹر نیٹ پر فحش ویب سائٹس کے آنے کے بعد سے زیادہ ہوا ہے۔ ماہرین نفسیات بھی فحش مواد کا جنسی جرائم کے ساتھ ہمیشہ سے گہرا تعلق بتلاتے آئے ہیں۔ ماہر نفسیات و سماجیات کہتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی وجہ میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعے دستیاب ایسا (فحش) مواد ہے جو نوجوانوں کو مسلسل اشتعال کی حالت میں رکھتا ہے اور پھر وہ اپنی تسکین اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے آسان ہدف کی تلاش کرتے ہیں۔ ”جان کورٹ“ نے تو باقاعدہ متعدد یورپین ممالک میں جنسی جرائم کی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ جوں جوں معاشرے میں فحش مواد بڑھا ہے توں توں جنسی جرائم بھی بڑھے ہیں۔ مجرموں کی اکثریت ایسی ہوتی ہے جو اسی فحش مواد سے متاثر ہو کر جنسی جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک جملہ - جانیتا جاوید

امام غزالی فرماتے ہیں: ”جانوروں میں خواہش ہوتی ہے، عقل نہیں۔ فرشتوں میں عقل ہوتی ہے، خواہش نہیں۔ انسان میں عقل اور خواہش دونوں ہوتی ہیں۔ اگر عقل خواہش پر غالب آ جائے تو انسان فرشتہ بن جاتا ہے اور اگر خواہش عقل پر غالب آ جائے تو انسان جانور بن جاتا ہے“۔

جب انسان فحش مواد دیکھتا ہے تو وہ ہیجان کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی خواہش عقل پر غالب آ جاتی ہے۔ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے خواہش کا پجاری انسان آسان اور کمزور ہدف بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالتا ہے۔ انسانوں کو جنسی زیادتی پر برانگیختہ کرنے والا فحش مواد اس قدر عام ہے کہ انٹرنیٹ پر ہونے والی سرچ میں سے 25 فیصد فحش مواد ہوتا ہے اور ہر سیکنڈ کم سے کم 30 ہزار لوگ اس طرح کی سائٹ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کمپنی ’مین ون‘ کا کہنا ہے کہ اس کے تخمینے کے مطابق تقریباً ستّر لاکھ افراد ہر روز فحش ویب سائٹ پر جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت انٹرنیٹ پر صرف کم عمر بچوں کی فحش سائٹس ایک لاکھ کے قریب ہیں اور باقی فحش سائٹس کی تعداد پینتالیس لاکھ اور فحش انٹرنیٹ پیجز کی تعداد پونے چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود سائٹس پر فحش ویڈیوز سے سالانہ پچیس ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ذاتی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، کم از کم موبائل فون تو تقریباً ہر کسی کے پاس ہے جس میں کسی بھی قسم کی ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کر کے دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان تمام حقائق کو جاننے کے بعد متعدد ممالک فحش سائٹس پر پابندی لگانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ چند سال پہلے برطانوی وزیر ِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ وہ فحش ویب سائٹس کو بلاک کر دیں، ایسا فحش مواد رکھنا جس میں جنسی زیادتی کی عکاسی کی گئی ہو جرم قرار دیا جائے گا۔ ”ڈیلی ٹیلی گراف“ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں شامل ڈچ ممبر ’کارتیکا تمارا‘ نے یورپی پارلیمنٹ کے سامنے مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہر قسم کی فحاشی پر مکمل پابندی عائد کی جائے، جبکہ بھارت میں سینٹر فار سوشل ریسرچ سے تعلق رکھنے والی ”رنجنا کماری“ اور ”کملیش واسوان“ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا تھا: ”فحش نگاری خواتین اور بچوں کے خلاف جارحیت اور جنسی تشدد کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا انٹرنیٹ پر جاری فحش سائٹس پر فوری پابندی لگائی جائے۔“

ان حقائق کے بعد حکومت پاکستان کو فحش مواد انٹرنیٹ سے مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا، کیونکہ فحش سائٹس معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کا ایک بڑا محرک ہیں۔اس معاملے میں پورا معاشرہ بھی ذمہ دار ہے جو ایسے معاملے پر خاموش رہتا ہے، جو فحش سائٹس بند کرنے کے لیے حکومت پر دباﺅ نہیں بڑھاتا اور اپنی آواز بلند نہیں کرتا۔ اگر عوام اس معاملے میں آواز بلند کریں گے تو ذمہ دار اداروں کو مجبورا تمام فحش سائٹس کو بند کرنا پڑے گا۔اگر عوام خاموش رہیں گے تو خود سے کچھ نہیں ہوگا۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.