سی ایس ایس امتحان میں اتنے لوگ فیل کیوں ہوتے ہیں؟ کرم الہی

آج کے مشرق اخبار میں انجم الطاف نامی کسی پروفیسر صاحب نے سی ایس ایس امتحان میں بڑی تعداد میں امیدواروں کے فیل ہونے کے وجوہات پر ”ثبوت، مشاہدے اور تحقیقات“ کی روشنی میں چند سطور لکھی ہیں. پڑھ کر حیرت ہوئی کہ جس ثبوت، مشاہدے اور تحقیق کا وعدہ پروفیسر صاحب نے کیا تھا وہ تو محض اندازوں کا مربہ تھا. معلوم نہیں کتنے امیدوار اس طرح کی تحریریں پڑھ کر سی ایس ایس کے بارے میں غلط رائے قائم کرتے ہیں. سوال یہ ہے کہ سی ایس ایس امتحان میں جہاں ہزاروں امیدوار بیٹھتے ہیں، وہاں آخر کیا وجہ ہے کہ امیدواروں کی اتنی قلیل تعداد (عموما 2 سے 5 فیصد تک) بڑی مشکل سے تمام مراحل طے کرکے فائنل میرٹ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے؟ حالانکہ کئی طلبہ دیگرامتحانات میں بڑے اچھا سکور کرلیتے ہیں. اس کا جواب پروفیسر صاحب نے یہ دینے کی کوشش کی ہے کہ سی ایس ایس امتحان شاید تابعداری کا امتحان ہے اور اس مقصد کے لیے کوچنگ اکیڈمیز وہی کام کررہی ہیں جو مدارس کر رہے ہیں یعنی معروف بیانیے کے مطابق ذہن تیار کر کے تنقیدی فکر کی حوصلہ شکنی کرنا، پروفیسر صاحب کا یہ جواب محض مفروضہ ہے اور وہ بھی قطعی طورپر پر غلط. اس ذہنیت اور انداز کے ساتھ اگر پروفیسر صاحب بھی سی ایس ایس امتحان میں بیٹھ گئے تو فیل ہونے کے قوی امکانات ہیں.

اصل میں سی ایس ایس امتحان عام امتحانات سے ذرا ہٹ کر ہے. یہاں امیدوار کی محض ذہانت کا ٹیسٹ نہیں ہوتا، اس کی پوری شخصیت کی اکسپلوریشن اور ایکسپوزیشن ہوتی ہے. عام امتحان میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ امیدوار کو متعلقہ مضامین کے بارے میں کتنی معلومات ہیں؟ اس کا اسلوب بیان کیسا ہے؟ اس کا اپروچ کیسا ہے؟ کچھ امتحانات میں شخصیت کے دیگر پہلوؤں کو بھی پرکھا جاتا ہے مثلا اس کے اندر قوت فیصلہ کتنی ہے؟ وہ فیصلہ کرتا کیسے ہے؟ اس کی جذباتی ذہانت کا کیا معیار ہے؟ وہ سوشل ہے یا تنہائی پسند؟ وہ امبیشس ہے یا قنوطیت پسند؟ وہ جارحانہ مزاج رکھتا ہے یا حکیمانہ؟ وہ جلد مایوس ہوجاتا ہے یا مشکل حالات میں بھی پرامید رہنے والا ہے؟ وہ تقریر و تقریر میں کیسا ہے؟ وہ تخلیقیق اور تنقیدی فکر کا مالک ہے یا لکیر کا فقیر؟ کسی بھی شخصیت کے مخفی اور ظاہری، بدنی، ذہنی اور جذباتی پہلوؤں کو جانچنا آسان کام نہیں ہوتا. سی ایس ایس امتحان امیدواروں کے شخصیت کےان اہم پہلوؤں کو ایکسپلور کرتا ہے جو ایک متوازن، کامیاب اور مؤثر منتظم کے لیے ضروری ہوتے ہیں. ان میں آئی کیو (ذہانت)، ای کیو (جذباتی ذہانت)، معاملہ فہمی، قوت فیصلہ، معتدل مزاجی، منظم انداز فکر و عمل، تخلیقی صلاحیت، اچھی صحت، مؤثر تحریر و تقریر، علم کی گہرائی، مثبت نفسیات، تعمیری سوچ وغیرہ شامل ہیں. یہاں صرف تحریری امتحان میں امیدوار کے سکور کو نہیں دیکھا جاتا نہ شخصیت کے ایک دو پہلوؤں کو جانچا جاتا ہے. اس لحاظ سے بی اے/بی ایس سی، ایم اے/ایم ایس سی، جی میٹ، جی آر ای، سیٹ وغیرہ اور سی ایس ایس امتحانات میں زمین آسمان کا فرق ہے.

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت سازی زندگی کے آئینے میں - مدیحۃالرحمن

کوچنگ اکیڈمیز امیدواروں کی تحریر و تقریر اور پریزینٹیشن سکلز کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ امیدواروں کی شخصیت کے پیدائشی اور عمر کے ساتھ پختہ ہونے والے پہلوؤں کو چھپاسکتی ہیں نہ چند ہفتوں میں بدل سکتی ہیں، جبکہ سی ایس ایس امتحان ان ہی پہلوؤں کو جانچنے کرنے کا عمل ہے. اس سے نکلنے والا ہر شخص ضروری نہیں کہ ذہانت کے لحاظ سے نابغہ روزگار اور بے مثل ہو لیکن یہ ضرور ہے کہ مروجہ ٹیٹس کی روشنی میں مطلوبہ خصائص اور صلاحیتوں کے لحاظ سے باقی امیداروں کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے. ہر مرحلے میں کوشش ہوتی ہے کہ صرف وہی امیدوار ڈھونڈے جائیں جو پبلک سروس کے لیے موزوں ہوں. بہت سارے امیدواراس لیے رہ جاتے ہیں کہ مطلوبہ صلاحیتوں پر پورا نہیں اترتے. ایسے امیدوار بھی کم نہیں ہوتے جو مناسب تیاری کے بغیر امتحان میں قسمت آزمائی کرتے ہیں کیونکہ وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ سی ایس ایس محض قسمت کا کھیل ہے. اس لحاظ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہزاروں امیدوارں میں سے ایک قلیل تعداد ہی شارٹ لسٹ ہوسکتی ہے.