کلبھوشن کیس یا مکافاتِ عمل؟ سنگین زادران

قوم کو انصاف دینے کے معاملے پر جو سلوک ہماری عدالتوں نے ماضی میں ہمارے ساتھ کیا، کلبھوشن کیس پر عین وہی سلوک عالمی عدالتِ انصاف نے اس ملک کے ساتھ کیا۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنا کیا ہوتا ہے؟ آج کا عدالتی نظام چاہے پاکستانی ہو چاہے عالمی، اس سے قطعی ناواقف ہے۔ یوں بھی معاملہ خونِ مسلم کا ہو تو خون کو گندا پانی قرار دے دیا جاتا ہے کہ جس کے بہنے سے کسی کی بے حرمتی نہیں ہوتی۔

عرب اسرائیل جنگ کی بات ہے. اسرائیلی بستیوں پہ دو چار سکڈ میزائل گر گئے، اس کے بعد پوری دنیا میں ایک واویلا مچ گیا کہ نہتی انسانی آبادیوں پر سکڈ میزائل گرا کر انسانیت کو پامال کر دیا گیا۔ وہی سکڈ میزائل روس افغانستان جنگ، امریکہ افغان جنگ اور عراق امریکہ جنگ میں نہتی انسانی آبادیوں پر بارش کی طرح گرتے رہے، کہیں پہ کوئی شور نہ مچا، نہ کہیں انسانیت پامال ہوئی، نہ تہذیب کے علمبرداروں کی جبین پہ کوئی شکن آئی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اسرائیل میں گرنے والے سکڈ میزائل جن بستیوں پہ گرے وہاں یہودی آباد تھے جبکہ افغانستان و عراق میں وہ میزائل جہاں گرے وہاں مسلمان آباد تھے۔ کم سے کم مسلمان کو ہی مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اندازہ ہوتا تو شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ خیر عالمی عدالتِ انصآف پہ آتے ہیں۔

بات ہے 1990ء کی جب بھارت نے پاکستان بحریہ کا انٹلانٹک ایئر کرافٹ مار گرایا تھا۔ پاکستان نے یہ معاملہ عالمی عدالتِ انصاف میں لے جانا چاہا مگر بھارت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ معاملہ عالمی عدالتِ انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ 31 مارچ 2014ء کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے جاپان کے خلاف ایک فیصلہ دیا جس کی رو سے جاپان جنوبی سمندر میں وھیل مچھلی کا شکار نہیں کر سکتا تھا۔ فیصلہ جاپانی مفادات کے خلاف تھا، جاپان نے اعلانیہ طور پر اس فیصلے کو رد کر دیا۔ 9 جولائی 2004ء کو اسی عالمی عدالتِ انصاف نے فیصلہ دیا کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں جو باڑھ لگا رہا ہے، وہ غیر قانونی ہے، اسرائیل اسے فوری طور پہ ترک کر دے اور جو باڑھ لگائی ہے اسے بھی ہٹا دے۔ 11 جولائی کو اسرائیل کی طرف سے بیان آ گیا کہ ہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے اس فیصلے کو نہیں مانتے۔ جنوری 1982ء میں جرمنی کے دو شہریوں نے امریکہ میں مسلح ڈکیتی کی جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ امریکہ کے پھانسی دینے سے قبل جرمنی معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف میں لے گیا جہاں فیصلہ ان دونوں ڈاکوؤں کے حق میں ہو گیا۔ اس کے باوجود امریکہ نے فروری 1999ء میں دونوں ڈاکوؤں کو سزائے موت دے دی۔

یہ چند مثالیں تھیں ان قوموں کی جو صحیح اور غلط کی تمیز کے بغیر اپنے مفاداتِ کی خاطر لڑنا مرنا جانتی ہیں اور انہوں نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ ان کا قومی مفاد اور قومی دفاع انہیں دنیا کی ہر مجبوری سے زیادہ عزیز ہے۔ زندہ قوموں کی زندہ رہنے کےلیے اپنی روایات اور اپنی مثالیں ہوتی ہیں۔ جن کو نہ صرف وہ خود تسلیم کرتے ہیں بلکہ جہاں ضرورت پڑے بزورِ بازو اپنی بقاء کےلیے دوسری قوموں سے بھی تسلیم کرواتی ہیں۔ ایمل کانسی سے لے کر ریمنڈ ڈویوس تک بار بار اس قوم کے حکمرانوں نے اس قوم کے وقار کو اپنی جوتیوں کے نیچے روندا ہے، محض اپنے مفادات کےلیے قومی مفاد جیسی مقدس شے سے طوائفوں سے بھی بدتر سلوک کیا ہے، لیکن کلبھوشن کی دفعہ نہیں۔ خدارا جاگ جائیں۔

اگر آج ایک کلبھوشن پاکستان سے زندہ واپس چلا جاتا ہے تو کل کو ہزاروں اس ملک کی سلامتی اور خودمختاری روندنے آئیں گے اس یقین کے ساتھ عالمی عدالتِ انصاف ان کو مرنے نہیں دے گی۔ سوائے بلاول زرداری کے، اس قوم کا ہر فرد کلبھوشن کے معاملے میں ایک ہی رائے رکھتا ہے، اگر حکمرانوں پہ چھوڑا تو یہ وہی کریں گے جو اب سے پہلے کرتے آئے ہیں۔ ویسے بھی جس نظام میں قاتل عدالتوں سے وکٹری کا نشان بنا کر نکلیں، اس نظام میں کسی کو انصاف نہ ملک کے اندر ملتا ہے نہ عالمی عدالتِ انصاف سے۔ حکمرانوں پہ مت چھوڑیں بلکہ کلبھوشن کی پھانسی کے مطالبے میں شدت سے پیش آئیں۔ یہ حکمران عالمی عدالتِ انصاف کے ان درجن بھر ججز کے ووٹوں سے نہیں بلکہ ہم عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے ہیں۔ آئیں اور ان سے کلبھوشن کی پھانسی کا مطالبہ کریں، اس سے پہلے کے کوئی اور قاتل جیل سے وکٹری کا نشان بنا کر بھارت چلا جائے اور ہم پھر مکافاتِ عمل کا شکار بن جائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com