سوشل میڈیا اور عوام کی قوت - ثمینہ رشید

ستر سال ہوئے اس ملک کو بنے اور قوم نے اوّل روز سے جس پہ اعتماد کیا وہ ہمارے ملک کے محافظ تھے، جن کو آزادی کے فورا بعد ہی جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اڑتالیس کا سن اور ہندوستان سے ہونے والی پہلی جنگ جس نے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کشمیر اور دوسرے کو مقبوضہ کشمیر میں تقسیم کر دیا۔

پینسٹھ کی جنگ کس نے شروع کی اور کس طرح لڑی گئی، یہ تاریخ کےصحفحات پہ رقم ہے۔ دونوں ممالک اپنی اپنی جگہ فتح کے دعوے کرتے رہے۔ لیکن تاریخ دان بتاتا ہے کہ جب قوم کا ہر شخص اس خبر کو سن کر کہ لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ ہوگیا ہے، اپنے آپ کو جنگ کا سپاہی سمجھتا تھا اور ہزاروں لوگ اس جنگ میں شہید ہوگئے تھے، تب وہ ایک جنرل صاحب ہی تھے جنہوں نے تاشقند میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مؤرخ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ معاہدہ کشمیریوں کےلیے زہرِقاتل تھا۔ لیکن کورس کی کتابوں میں یہ سچ لکھا نہیں جاتا کیوں کہ ہم نے سچ کو تسلیم کرنے اور سامنے لانے کے بجائے عزت کا خیال رکھنا زیادہ ضروری سمجھا تھا۔ یہ فیصلہ جس نے بھی کیا، اس نے قوم کو جھوٹ کا انجیکشن لگانا شروع کر دیا، اور سویلینز کی اکثریت اپنے بہادروں کے قصیدے پڑھتی رہی۔

ہندوستان ہمارا دشمن پڑوسی ہے، کا سبق پڑھنے والی نسلیں آج بھی یہ سوچنے پہ مجبور ہیں کہ جب ہم اپنے پڑوسی کو کسی طور نہیں بدل نہیں سکتے تو پھر ہم امن اور دوستی کا سبق کیوں نہیں پڑھتے۔ اور اگر دشمن ہونے کا سبب صرف یہ ہے کہ وہاں غیر مسلم اکثریت رہتی ہے تو آج ہم چین کے دوست کیونکر ہیں۔ افغانستان ہمارا برادر مسلم ملک ہے مگر اس نے ہم سے کون سا برادرانہ سلوک کیا ہے، اور ایران کی بلوچستان میں مداخلت کے بعد بھی ہم ایران کو برادر ملک ہی کہتے ہیں تو کیوں؟ آخر ہم تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ ملکوں کے تعلقات دوطرفہ مفادات پہ قائم ہوتے ہیں، مذہب پہ نہیں۔ لیکن ہمارے بچے یہی معاشرتی علوم کا سبق پڑھ کر بڑے ہوتے ہیں جن میں انہیں حقائق سامنے لانے کے بجائے ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے کہ ہندوستان ہمارا دشمن ملک ہے۔

پینسٹھ کی جنگ کو چند سال گزرے تھے، جب اقتدار پہ براجمان جنرل یحی خان نے اقتدار کی ہوس اور اپنی پالیسیوں کی بدولت ملک کے مشرقی حصے کو احساسِ محرومی میں مبتلا کیا، اکثریت حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمن کو حکومت منتقل نہ کی اور دشمن کی سازشوں کو اپنی کمزوریوں کے سبب کامیاب ہونے کا موقع دیا۔ حمودالرحمن کمیشن گواہ ہے کہ کیسے ذلت کی داستان رقم ہوئی۔ دنیا نے سولہ دسمبر کو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہی نہیں دیکھا بلکہ 90 ہزار سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے کا منظر بھی دنیا بھر کی ٹی وی اسکرینوں پہ ہمارے سر جھکانے کا باعث بنا۔ اور پھر ایک شخص نے اپنے اقتدار کی خاطر اپنے ہی ملک کے ٹکڑے ہونا قبول کر لیا، نعرہ تو ہزار سال جنگ لڑنے کا لگایا مگر اپنے نوے ہزار لوگوں کو بچانے کے لیے شملہ معاہدے پہ سائن کرنے کے بعد کشمیر کو ایک عالمی مسئلے کے بجائے دو ملکوں کے سرحدی تنازعے میں تبدیل کر دیا۔ تاشقند اور شملہ معاہدے کے بعد اب ہم کس منہ سے کشمیر کی بات کرتے ہیں اور کارگل میں کیا کر کیا سکتے تھے، جبکہ خود کارگل ایڈونچر کے بارے میں اس وقت کی حکومت کا دعوی ہے کہ اسے تو اس کا علم ہی نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کی بنائی دنیا - محمد عامر خاکوانی

سویلین اپنے حکمران منتخب کرتے ہیں اور پھر وہ اپنے اداروں کے سربراہ چنتے ہیں اور پھر انھی اداروں کے سربراہان ریاست کے ستون ہونے کے صرف اپنے ہی اختیارات و طاقت کو یاد رکھتے ہیں، باقی سب بھول جاتے ہیں۔ سویلینز کو اقتدار سے الگ، اور کچھ کو مقدس اور کچھ کو گنہگار قرار دے کر خود ساختہ تطہیر کا عمل شروع کیا جاتا رہا۔ کبھی غلط فیصلے اور دستور سازی کے ذریعے اور کبھی عدلیہ سے کروائے گئے فیصلوں کے ذریعے۔ ملک کے ستر سال کی تاریخ پہ لکھی تیس سال کی آمریت کی داستان گواہ ہے کہ قوم صرف آوازِ حق بلند کرنے کے جرم میں کیسے زنداں کی مشکلیں اٹھاتی رہی۔ مگر اس نے اپنے اداروں پہ اعتماد قائم رکھنے کی شعوری اور لاشعوری کوشش کی۔ خوش امیدی کا چراغ جلائے رکھا۔ سویلینز کی بدقسمتی یا خوش قسمتی ہی تھی کہ انہوں نے ہمیشہ سب سے زیادہ محترم اپنے اداروں کو ہی جانا۔

پہلا مارشل لاء لگا تب بھی اور دوسرا لگا تب بھی، قوم اپنے محافظوں کی محبت کی وجہ سے تقسیم ہوگئی۔ کبھی فیض اور کبھی جالب جیسے سینکڑوں لوگ سڑکوں پہ ڈنڈے کھاتے رہے اور کبھی زنداں کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن عوام کی آواز اور سچ لکھنے کے دعویدار صحافی اپنے اخباروں کے فرنٹ پیجز پر ان کی سزاؤں کے خلاف نہیں بلکہ ان کی سزاؤں کے حق میں فتوے چھاپتے رہے۔ قصور اس میں بھی شاید اس قوم کا ہے کہ وہ کسی صورتحال سے کبھی بھی بد دل نہ ہوئی کہ شاید اس میں بھی اس ملک کی اور ان کی ہی بہتری ہو۔

لیکن کب تک؟ آخر وکلاء تحریک نے معاشرے میں ایک نیا شعور پیدا کیا اور مشرف آمریت سے چھٹکارا حاصل کیا۔ لولی لنگڑی جمہوریت کو کچھ تقویت ملی۔ ہماری بدنصیبی ہے کہ قوم میں آمریت کے اندھیروں نے سیاسی شعور پنپنے نہ دیا اور ملک دو سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں یرغمال ہوگیا۔ ایک پارٹی کے لیڈر کی قربانی کی بنیاد پر ان کے ورثاء محلات خریدتے رہے تو دوسری پارٹی اپنی باری پہ اپنے خزانوں میں اضافے کرتی رہی۔ لیکن کہیں نہ کہیں نادیدہ ہاتھ بھی حائل رہے بادشاہ گروں کی طرح۔ ہم نے سیاست دانوں کی غلطیوں پہ آواز اٹھائی اور سیاستدان اور منتخب نمائندے اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں کی سزا پاتے رہے لیکن اپنے آمروں سے ایک حرفِ ندامت کا اقرار کبھی نہ سنا۔ منتخب نمائندوں کو اپنے اختیارات کبھی نہ مل سکے۔ اس وجہ سے جمہوریت کا سلسلہ پنپتا ہے نہ عوام میں روایتی شعوری بیدار ہوتا ہے۔

افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ جمہوریت کے نام پہ آنے والے حکمران بھی سوائے اپنی کرپشن اور نااہلیت کے کچھ ثابت نہیں کرسکے۔ ان کی اخلاقی کمزوری نے ثابت کیا کہ یہ محض گفتار کے غازی تھے اور ہیں۔ ان کے کردار کو لالچ اور کرپشن کا گھن چاٹ گیا ہے۔ ان کی داستانیں اب دو عالم سنتا ہےلیکن نہیں سنتے تو ہمارے عوام جن کے دلوں اور کانوں پہ شاید رب کی طرف سے ہی پٹی بندھ گئی ہے۔ اب بھی اکثریت ان ہی کے گن گاتی ہے۔ لیکن آہستگی سے ہی سہی کافی لوگوں کی آنکھوں پہ بندھی پٹی کھلنے کی امید بندھی ہے۔ شعور پنپنے لگا ہے۔ اب جہاں یہ شعور نااہل حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کرچکا ہے۔ وہیں لوگوں میں کسی بھی غلط اقدام کو بغیر کسی ڈر کے غلط کہنے کی جرات عطا ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں - بشری نواز

چند سال پہلے سوشل میڈیا کے استعمال کا آغاز ایک سیاسی جماعت کی طرف سے کیا گیا۔ اس جماعت کے چاہنے والوں نے اس کو اچھا برا ہر طرح سے استعمال کیا۔ میڈیا اور روایتی سیاستدانوں نے عام لوگوں کے اس طرح سے اپنی رائے کے اظہار پہ کافی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ آج سوشل میڈیا روایتی میڈیا کے متوازی میڈیا ہے اور اس روایتی آواز کےبرعکس عوام کی آواز ہے۔ اور یہی وہ طاقت ہے جس نے جہاں اقتدار کے ایوانوں کو ہلا دیا ہے وہیں اس سے ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ آج برف پگھلی ہے، جن پر آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھا سکا، سوشل میڈیا کے ذریعے ایک عام آدمی بھی ان سے سوال کرسکتا ہے۔ آج ہم عوام ایک طاقت ہیں، ایک آواز ہیں اور سوشل میڈیا ہمارا پلیٹ فارم ہے.

اب سوشل میڈیا نے اداروں پہ اثرانداز ہونا شروع کردیا ہے۔ کہنے کو صرف ایک ٹوئٹ ہی تھا جس میں کُھلے عام ایک سویلین حکومت کو چیلنج کیا گیا تھا، لیکن یہ عوام کا براہ راست ردعمل اور تنقید تھی کہ جس نے بہت کچھ بدلنے پر مجبور کردیا۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ موجودہ حکومت میں ایسی بردباری اور اخلاقی جرات ہے کہ جس کی وجہ سے ایسا کیا گیا تو یہ محض غلط فہمی ہے۔ موجودہ حکومت اگر اتنی ہی اخلاقیات کی علمبردار ہوتی تو ایسا کیا ہی نہیں جاتا۔ آج عوام کی وجہ سے ایک امید کی کرن نظر آتی ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے اختیارات کا استعمال کریں گے۔ کسی حکمران کے حکم اور خوف سے نہیں بلکہ عوامی خواہشات کے مطابق۔

وقت آ گیا ہے کہ لالچ اور کرپشن کی اَن دیکھی زنجیروں کو ہر حال میں ٹوٹنا ہوگا۔ عوام کو برابری اور مساوات کا بنیادی حق دینے کے ساتھ حکومت اور اداروں کو اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے کیونکہ اب آواز اٹھانے والے فیض اور جالب اور ان کے گنتی کے ساتھی نہیں، لاکھوں اور کروڑوں عوام ہیں۔ اور جس ملک میں عوام کی آنکھوں پہ بندھی بےشعوری کی پٹیاں کھل جائیں، اور وہ اپنے حق کو پہچاننا اور اس کے لیے آواز اٹھانا سیکھ لیں، ان کی تقدیر کو بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.