73 فرقوں میں رسول ﷺ کا فرقہ اور کامن سینس - مجیب الحق حقی

مسلمانوں میں 73 فرقوں والی حدیث سے سب ہی واقف ہیں۔ اس حدیث مبارکہ کو امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے کچھ ایسافرمایا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی ہو بہو ہر وہ برائی ہوگی جو بنی اسرائیل میں ہوئی، اور مماثلت ایسی کہ جیسے جوتوں کا جوڑا، یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں کسی نے ماں سے زنا کیا ہوگا تو میری امّت میں بھی کوئی ایسا کرے گا۔ بنی اسرائیل میں 72 فرقے ہوئے تو میری امّت میں 73 فرقے ہوں گے جو سب جہنّمی ہوں گے سوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کے استفسار پر کہ وہ فرقہ کون سا ہوگا تو آپ ﷺ نے کچھ ایسا فرمایا کہ جو میرے اور میرے اصحاب کی پیروی کرے۔ (مفہوم)۔

اپنی عاقبت کے حوالے سے پریشان کر دینے والی اس حدیث پر بہت غور کیا تو ایک نکتے نے مجھے مطمئن کیا۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جو کامن سینس سے حاصل ہوئی اور اس کو اس لیے شیئر کر رہا ہوں کہ شاید مجھ جیسے متذبذب اصحاب کے وسوسے دور ہوں۔ آگے اس حدیث کی ایک دوسرے زاویے سے تشریح ہے جو نیک نیتی پر مبنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کا ایسا عام فہم مطلب اخذ کرنا جس میں انتشار کے بجائے اُمّت کی بھلائی ہو، یقیناً علمائے کرام کے نزدیک قابل تنقید نہیں ہوگا۔

آئیے آپ بھی غور کریں۔
آنحضرت ﷺ سے زیادہ علم والا اور حکمت والا نہ کوئی ہوا اور نہ ہوگا۔ آپ ؐ کے کچھ فرمان عمیق گہرائی لیے ہوتے ہیں۔ یہ حدیث ِمبارک بذات ِخود بلاغت سے معمور ہے۔ یہ حدیث عام مسلمانوں کے لیے نہ صرف شفاعت کی بشارت ہے بلکہ اتّحادِ بین المسلمین کی داعی بھی ہے۔ یہ حدیث ہر انتہا پسندی، شدّت پسندی اور فرقہ پرستی کو رد کرکے اس کے برے انجام کو اُجاگر کرتی ہے۔

عموماً مذکورہ حدیث کے حوالے سے مختلف فرقو ں کا باہم تقابل اس طرح کیا جاتا ہےگویا ہر موجود فرقہ ایک اکائی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پیرائے میں موازنے کا منطقی نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ موجودہ فرقوں میں سے کوئی ایک فرقہ ہی درست ہوگا۔ اس نقطہ ٔنظر سے موازنے میں یہ منطقی نتیجہ ہوگا کہ اپنی انا کے بموجب ہر فرقہ اور اس کے علماء فطری طور پر اپنے آپ ہی کو برحق اور باقی فرقوں کو غلط یا جہنّمی گردانیں۔ یہ بات تو عیاں ہے کہ ہر گروہ کے علماء یہی ثابت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر ہیں، اس لیے ان کا فرقہ یا مسلک فلاح یافتہ ہے۔ لیکن یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ اسی بنا پر بہت سے مسلمان گو مگو کی کیفیت میں بھی رہتے ہیں کہ وہ کہیں غلط راہ پر تو نہیں! اس حدیث کو بغیر غور کیے لفظاً قبول کرنے سے تو لگے گا کہ مسلمان کثیر تعداد میں گمراہ ہیں، لیکن سوچنا چاہیے کہ کیا حقیقتاً ایسا ہی ہے؟

یہ بات بھی مدّنظر رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے مختلف اصحاب کے ذریعے مختلف اطراف میں پھیلے۔ یعنی جس نے جو طریقہ دیکھا ویسا آگے بتایا۔ ذرا غور کریں کہ اپنے اپنے علم اور فہم کی بنیاد پر آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے کے دعویدار تمام مسلکوں اور فرقوں میں ہیں، جن کے اخلاص کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ جنّت اور جہنّم تو ذاتی اعمال پر منحصر ہے تو ہم کیسے اور کن بنیادوں پر بہ یک جنبش ِ قلم کسی کلمہ گو گروہ کو جہنّمی قرار دے سکتے ہیں؟ یہ تو اللہ کا کام ہے کیونکہ اللہ ہی نے گروہ در گروہ ہونے سے منع فرمایا ہے۔ پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام ہی فرقوں اور مسالک میں کثیر تعداد ان مسلمانوں کی ہے جو شدّت پسند یا انتہا پسند نہیں ہوتے بلکہ میانہ رو اور دیندار زندگی گزارتے ہیں۔ لہذا سب ہی کا جہنّمی ہونا خلاف ِ عدل ہے۔ یہ بات عقل بھی قبول نہیں کرتی کہ مختلف فرقوں میں موجود صالح اور نیک نام اکابرین بھی عمل کے بجائے محض فرقے سے وابستگی کی بنیاد پر معتوب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ناروے کا افسوسناک واقعہ ، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آصف لقمان قاضی

ایک پہلو یہ بھی مدّنظر رہے کہ یہ متّفقہ رائے ہے کہ شیطان خواب میں ہر روپ دھار کر آسکتا ہے سوائے اللہ کے آخری نبیؐ کے۔ نبی اکرم ﷺ نے کچھ ایسا بھی فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا اس نے مجھے دیکھا۔ یہ اہم نکتہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کا دیدار ایک بڑی سعادت ہے جو اللہ اپنے خوش نصیب بندوں کو عطا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا دیدار امّت میں چنیدہ خاص و عام کو ہوتا رہتا ہے اور اس میں کسی ایک فرقے یا مسلک کی قید نہیں ہے۔ یعنی رسول اللہ کا خواب میں دیدار مختلف فرقے اور مسالک کے اصحاب کو ہوا اور ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دیدار جنّت کی بشارت بھی نہیں، لیکن ایک تاثر بہرحال یہ آتا ہے کہ کسی جہنّمی کو یہ اعزاز کیونکر مل سکتا ہے۔

ان دلائل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث کے حوالے سے بات کچھ اور ہے جس کو فرقوں کے مروّجہ تنگ پیرائے سے ہٹ کر ایک وسیع اور بڑے کینوس پر دیکھنا اور سمجھنا چاہیے۔

تو پھر اس حدیث میں کیا اشارہ ہے جو سمجھنے کی ضرورت ہے؟

ایک نکتہ یہ سامنے رہے کہ آپ ؐ کے فرمان کے مطابق مسلم امّت ہو بہو بنی اسرائیل کے نقش ِ قدم پر چلے گی، یعنی ایسی مشابہت جیسے کہ دو جوتے بالکل یکساں ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے تو اگر اُن کے کے 72 فرقے ہوئے تو مسلمانوں میں بھی 72 فرقے ہی ہونے چاہییں، مگر یہاں آپ ؐ نے فرمایا کہ یہودیوں کے72 فرقے ہوں گے تو مسلمانوں میں 73 ہوں گے! یہی اہم نکتہ ہے جو بہت گہرائی اور بلاغت لیے ہوئے ہے۔ اب 72 کا لفظ ایک تمثیلی پیرائے میں ہے یا حقیقتاً ایسا نہیں ہے تو بھی قطع نظر اس کے ہر دو صورتوں میں 73واں فرقے کا اشارہ غالباً الگ معنوں میں استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔ یعنی مسلمانوں میں بظاہر اتنے ہی فرقے ہوں گے جتنے کہ یہودیوں میں یعنی بہتّر، لیکن حقیقتاً ایک فرقہ عام ڈگر سے ہٹ کر اور غیر مرئی ہوگا جس کا کوئی نام نہ ہوگا۔گویا نکتہ یہ سامنے آیا کہ مذکورہ گروہ یا فرقہ تمام فرقوں میں پھیلا ہوا ہوگا۔ یعنی اس فرقے میں اللہ اور رسول ؐسے سچّی عقیدت اور محبت رکھنے والے تمام مسلمان ہیں جو مختلف فرقے میں تو ہیں لیکن وہ انتہا پسند نہیں بلکہ دوسرے مسلمان فرقوں کے ایمان، عقائد اور عبادات کے بارے میں میانہ رو ہیں۔ گویا اس مخفی فرقے کے مسلمان دوسروں کے عقائد سے لاتعلّق رہتے، اپنے کام سے کام رکھتے اور اخلاص کے ساتھ دین سے وابستہ رہتے ہیں۔ یہی غالباً آنحضرتؐ کی وہ کثیر اُمّت ہے جس کی شفاعت کی جائے گی۔ واللہ اعلم

تو معتوب کون؟
عام مسلمانوں کو راہ ِحق دکھانے یا گمراہ کرنے والے علمائے حق اور علمائے سُو ہی ہیں، ایک مسلمان عقیدت میں ان کی ہی پیروی کرتا ہے۔ ہر فرقے میں انتہا پسندانہ مزاج کے لیڈر یا علماء موجود ہوتے ہیں جو بہت جارحانہ انداز میں دوسروں کو مطعون کرتے، نفرت کی آبیاری کرتے اور مختلف القابات دے کر دوسرے فرقوں کو جہنّمی قرار دیتے رہتے ہیں۔ یہ طبقہ دوسروں کے بارے میں مستقل بغض و عناد لیے رہتا ہے، اپنے آپ کو جنّت کا واحد حقدار سمجھ کر علم کے تکبّر میں غرق ہوتا ہے۔ یہ شدّت پسند علماء اور ان کے مقلّدین عام لوگوں کو بھڑکا کر اپنے افکار کے زیراثر لے آتے ہیں جس سے عام مسلمان بہک کرسادہ لوحی میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ ہر فرقے کے شدّت پسند اور محاذ آرائی پر کمربستہ افراد جو قلیل تعداد میں ہوتے ہیں، وہی کسی فرقے کی متحرّک نمائندگی کرتے ہیں۔ ان منفی سوچ والے شدّت پسندوں کے علاوہ ہر فرقے میں بہت سے سادہ مسلمان ہوتے ہیں جو خلوص سے اللہ اور رسول ؐپر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ فرقہ واریت اور شدّت پسندی میں متحرّک نہیں ہوتے اور نہ ہی دوسروں سے کوئی عناد رکھتے ہیں بلکہ آپس میں معاشرتی تعلقّات بھی رکھتے ہیں، یہ بےنمازی ہوتے ہوئے بھی قلب میں خالص ایمان کی چنگاری رکھتے ہیں۔ گویا ہر فرقے میں بھی دو ذیلی گروہ ہوئے جس میں ایک انتہا پسند، مغرور اور شدّت پسند اور دوسرا میانہ رو۔

یہ بھی پڑھیں:   سوئے رہنا، کچھ نہ کہنا - سارہ رحیم

اس تشریح کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ غالباً رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں مذکورہ فرقہ یا گروہ دراصل مثبت و متوازن سوچ کے مسلمان ہیں جو صاف دل اور نیک گمان ہوتے ہیں، خواہ یہ بے عمل ہوں لیکن یہ مسلکی جھگڑوں سے دور رہتے ہیں، ان کا ایمان خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے کہ جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ ایسے کلمہ گو ہر فرقے میں بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن اگر ایسا ہی ہے تو اس حدیث کی ان معنوں میں تشریح اور تشہیر سے فرقہ پرستی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انتہا پسندوں کی حمایت میں نہ صرف کمی آ سکتی ہے بلکہ شدّت پسندوں کو معاشرے میں تنہا کیا جاسکتا ہے۔ عام مسلمان بےیقینی کی اس فضا سے چھٹکارا پا سکتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے مطلوب گروہ میں ہیں یا نہیں۔ ایک مسلمان کو یہ جاننے کے لیے کہ وہ نبیؐ کے گروہ یا امّت میں ہے یا نہیں، کسی مفتی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنے ضمیر سےگواہی لے کہ مسلک اور فرقے کی بنیاد پر کسی دوسرے کلمہ گو کے لیے اس کے دل میں انسیت، بھائی چارہ ہے یا بغض و عداوت!

اس ضمن میں ایک اہم بات یہ مدّنظر رہے کہ جب ایک عمومی معیار بتا دیا گیا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیّت پر ہے تو کسی بھی کلمہ طیّبہ کے خوگر مسلمان کے ایمان کی نسبت اس کے اخلاص کا علم کسی دوسرے انسان کو کیسے ہوسکتا ہے، یہ اللہ اور بندے کے درمیان ایک مخفی عنصر ہے۔ ہاں مگر آپس کا علمی، تحقیقی تبادلہ اور مثبت تنقید وہیں تک مناسب ہے جو نفرت پیدا کرکے ملّت اور امّت کو کمزور نہ کرے۔

اس وقت مسلمانوں کے مختلف گروہ جو آپس میں ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں اور خود کو صراط مستقیم پر سمجھ کر ایک دوسرے کا کُشت و خون کر رہے ہیں، سب سے زیادہ خطرے سے وہ اور ان کے حمایتی ہی کھیل رہے ہیں کیونکہ یہ اعلانیہ ایک دوسرے کو اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔

لہذٰا اپنے ایمان کی حفاظت میں خود غرض بن جائیں۔ ہرکلمہ گو کو جو اللہ کو اپنا رب و معبود اور محمد ﷺکو آخری نبی مانتا ہو، اسے مسلم جانیں اور اس کے اعمال کے جج نہ بنیں۔ خواہ آپ کسی فرقے یا مسلک سے ہوں، بس اپنے اعمال پر نظر رکھیں اور کشادہ دل ہو کر محبت کے پیامبر بن کر رسول اللہ ﷺ کی اُمّت سے ناطہ جوڑے رکھیں کہ اس میں ہی فلاح ہے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.