ذمہ دار کون؟ - خالد ایم خان

حالیہ دنوں میں عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی اعلیٰ اتھارٹیز کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردیوں کے سرغنہ اور خفیہ ادارے "راء" کے اہم جاسوس کلبھوشن یادو المعروف انڈین بندرکے رنگے ہاتھوں گرفتاری کے بعد فوجی عدالت سے سزائے موت کے خلاف ایک کیس دائر کیا ہوا ہے۔ جس میں ہندوستانی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہمارے بندر کو پاکستانی حکومت نے کسی دوسرے ملک سے اغوا کیا ہے اور اگر نہیں تو پھر پاکستانی حکومت ہمیں مطلوبہ ملزم تک رسائی دے تاکہ ہم بھی معاملات کی تہہ تک پہنچ کر اس کو ختم کریں۔
سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آج تک ہندوستانی حکومت نے ہمارے بے گناہ پکڑے کسی ایک بھی ملزم تک پاکستانی حکومت کو کب رسائی دی؟ دوسری بات یہ کہ عالمی عدالت اگر اس ایک کیس میں دوغلے پن کا مظاہرہ کرے گی تو پھر بات بہت دور تلک جائے گی۔ پہلے تو ہندوستانی حکومت ہمیں اس بات کا جواب دے کہ آپ کے اجیت دوول آن ریکارڈ پاکستان میں دہشت گردیوں کی کھلم کھلا حمایت اور پلاننگ کرتے پائے گئے۔ ہم تو بارہا یہ باتیں ریکارڈ پر لا چکے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے ہندوستانی حکومت کا ہاتھ ہے، جو کہ اب سچ ثابت ہو چکا ہے اور دنیا جان چکی ہے کہ مسلم دنیا کے اندر ہونے والی ہر دہشت گردی کے پیچھے انڈین راء، امریکی سی آئی اے اوراسرائیلی موساد کا ہاتھ ہے لیکن اُس کے باوجود عجب ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومتی عہدیدار بجائے شرمندہ ہونے کے، پاکستان کے لوگوں سے، پاکستانی عوام سے اپنے بدترین گناہوں کی معافی مانگنے کے بجائے اپنے بندر کو آزاد کردینے کی باتیں کرتا نظر آرہا ہے، ویانا کنونشن کی باتیں کرتا نظر آرہا ہے۔ کون سا ویانا کنونشن؟؟ کیسا ویانا کنونشن ؟؟؟ ہم جب تمہارے کسی لنگور کو پکڑیں تو تم لوگوں کو ویانا کنونشن یاد آنے لگ جاتے ہیں؟
یہ ترکیب آپ لوگوں کو شائد امریکی اور اسرائیلی حلیفوں نے سکھائی ہے کیونکہ یہ ڈرامہ امریکی اور اسرائیلی کھیلتے چلے آئے ہیں دنیا کے ساتھ۔ خود جس کو جہاں سے چاہو اُٹھا کر ماردو اور جب اپنی باری آئے تو عالمی عدالت، ویانا کنونشن اور سفارتی استثناء کو بیچ میں لے آؤ۔ افسوس، ہمارے حاکم اگر آپ لوگوں کے لے پالک ایجنٹ نہ ہوتے تو پھر دنیا کے ہر ملک کے ایجنٹ اور دنیا کے تمام ممالک کے سربراہان ضرور دیکھتے کہ کیسے فرزندان پاکستان آپ لوگوں کے شیطان کے پجاری ہرکاروں کو نیست ونابود کرتے ہیں۔ لیکن، ہم رو رہے ہیں، ہمارے دل رو رہے ہیں، ہم جل رہے ہیں ہماری روحیں جل رہی ہیں، اک آگ لگی ہے ہمارے سینوں میں کیونکہ ہمارے حاکم آپ لوگوں کے غلامی پہ تُلے بیٹھے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کیوں ؟؟
میں نے درمیان میں ذکر کیا تھا نا کہ بات دور تلک جائے گی؟ اس پر آگے ڈسکس کروں گا پہلے تو تھوڑا سا خلاصہ اپنے ضمیر اور کردار کا کرلوں۔ ہندوستانی بزنس مین، اسٹیل ٹائیکون، کانگریس کے ایم پی اور سرگرم رہنما نوین جندال کے بڑے بھائی سجن جندال کا دو دیگر ان-آفیشل حضرات کے ساتھ بغیر کسی ویزے کے کابل سے راولپنڈی اپنے پرائیویٹ جہاز سے لینڈ کرنا، حسین نواز اور راحیل منیر کا اُنہیں ویلکم کرنا اور پرائم منسٹر ہاؤس لے کر چلے جانا جس کے بعد مری میں ایک غیر سرکاری میٹنگ۔ کیا باتیں ہوئیں؟ اس میٹنگ میں کون تھے وہ دو لوگ جو سجن جندال کے ساتھ تھے؟ اور کیا پیغام دیا گیا ہندوستان کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کو؟ ایک ایسے وقت کہ جب ہندوستانی بندر مع ثبوتوں کے انکشافات پر انکشافات کئے چلا جارہا تھا،ہندوستانی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی تمام سرگرمیوں کو بے نقاب کر رہا تھا، ایسے وقت مودی کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کو کیا یاد دہانی کرائی گئی اور پھر جاتے جاتے سجن جندال امریکہ میں سابقہ پاکستانی سفیر حسین حقانی جو کہ آج کل پاکستان میں بلیک واٹر، امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں کو ویزے دینے میں ملوث پائے گئے، جس کی وجہ سے ریمنڈ ڈیوس جیسے کئی یہودی اور امریکی اہلکار پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے نظر آئے، کے بھائی مُحسن حقانی کی سفارش کیوں کرگئے؟ جس کے دوسرے ہی د ن 26 اپریل ایک نوٹیفکیشن پاس ہوتا ہے جس کی رو سے محسن حقانی کو اسٹیل مل پاکستان کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) کا چیئرمین بنا دیا جاتا ہے؟
دوسری طرف مجھے اب تک ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ آخر ایک ایسا شخص جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستانی بندر کو گرفتار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کو ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ آنکھیں بند کرکے نیپال جا پہنچا جہاں سے پکے ہوئے پھل کی طرح بڑی خوبصورتی کے ساتھ انڈین ایجنسیوں کی جھولی میں جاگرا، اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب معاملات اس نہج پر ہوں۔ ظاہر ہے بندر کافی عرصہ سے ہمارے پاس ہے اور ہندوستانی جواب میں خاموش۔ اب کچھ تو ہو جس پر زبردستی کی جاسکے، جس پر بات آگے بڑھائی جاسکے، وہ ایک جواز ہندوستان کو آخر کار مل ہی گیا، یاکہ پھر فراہم کردیا گیا،ریٹائرڈ کرنل حبیب والے معاملے میں کچھ تو گڑ بڑ ہے۔ میں کم از کم آئی ایس آئی کے اتنے اچھے آفیسر سے ایسی توقع ہرگز نہیں کرسکتا۔ بس ایک ہی جملہ اس کے بعد سمجھ میں آرہا ہے کہ "اللہ ہی جانے کون بشر ہے؟"
کون کون شامل ہے اس گریٹ گیم کے اندر، کن کے مفادات وابستہ ہیں اس کھیل سے؟ کیا عوام کے؟ جو سالوں سے ان درندوں کے ہاتھوں لگائے ہوئے زخموں پر کسی ایک ہی کی جانب سے مرہم لگائے جانے کی متمنی ہے، یا کہ پھر حکمرانوں کے کہ جنہوں نے ہر دور میں عوامی حکومتوں کے نام پر اس ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔
میر ایمل کانسی ہمیں آج بھی اچھی طرح یاد ہے، آپ کو یاد ہوکہ نہ یاد ہو ہمیں یاد ہے ذرا ذرا ۔ ساری دنیا کے ایجنٹوں کو تگنی کا ناچ نچانے والے کی کمر میں کس طرح خنجر گھونپا گیا تھا ۔
پھر تو ہندوستانی ہم لوگوں سے بہت اچھے ہیں، غیر مسلم ہی سہی، بزدل ہی سہی، کافر ہی سہی،بتوں کے پجاری ہی سہی، لیکن غدار وطن تو نہیں، سیکھو خدا کے لئے ان کافروں ہی سے کچھ سیکھو، دشمنان دین ہی سے کچھ سیکھو، دشمنان ارض وطن ہی سے کچھ سیکھو،کیوں تمہاری زبان گنگ ہو چکی ہے؟ کیوں چُپ کا روزہ رکھ لیا ہے تم لوگوں نے؟ کس بات کا ڈر ہے تمہیں؟ کیوں نہیں کہتے کہ عالمی عدالت سے کہ ہم نہیں مانتے، آپ کے فیصلوں کو ہم نہیں مانتے، ستر سالوں سے بھی زائد عرصہ سے کشمیر کا کیس تمہاری عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اُس پر تو کبھی بھی تم لوگوں نے ہنگامی اجلاس بلا کر فیصلہ نہیں کیا۔ فلسطین کی عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے گئے ہیں اُس پر تو کبھی بھی آپ لوگوں کو زحمت نہیں ہوئی۔ برما اور ہندوستان کے اندر مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے اُس پر تو آپ لوگوں کا کوئی فیصلہ نہیں آیا۔ جہاں یہود وہنود ونصاری پھنستے ہیں تم کود کر بیچ میں آجاتے ہو؟ نہیں! نہیں! نہیں! نہیں! نہیں۔۔۔۔۔!!!! اس کا فیصلہ ہماری ذمہ داری ہے تو پھر بتائیں کشمیر کس کی ذمہ داری ہے؟ فلسطین کس کی ذمہ داری ہے؟ عراق وشام میں بہتے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ اور پھر سب سے بڑھ کر پاکستان میں جاری ہندوستانی دہشت گردیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ ٹھیک ہے ہم نہیں دیتے پھانسی کلبھوشن یادو کو لیکن ہندوستان پوری دنیا کے اندر کھڑے ہو کر پاکستان میں بہے خون کے ایک، ایک قطرے کا حساب دے۔ مظلوم وبے بس لوگوں کی شہادتوں کے معاوضے دے اور پوری دنیا کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر پا کستان کے شہریوں سے معافی مانگے اور تسلیم کرے کہ ہندوستان پاکستان میں ہوئی ہر دہشت گردی کا ذمہ دار ہے جس کے لئے ہم پاکستان کے ہر شہری سے معافی مانگتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com