غربت، دہشت اور امن - بلال شوکت آزاد

آج قلم کچھ سخت بیاں سا ہوا چاہتا ہے
علم و عقل سے کچھ عیاں سا ہواچاہتاہے
جہاں غربت راج کرتی ہے
وہاں دہشت گردی دنیا تاراج کرتی ہے
اور جنگ دہشت گردی اور غربت کا فرق نہیں کرتی ہے
جنگ کیا ہے؟
خالی پیٹ کو روٹی سے آسودہ کرنا جنگ کہلاتا ہے
اور تباہی کیا ہے؟
جو خالی نا آسودہ پیٹ سے جنم لے، وہ تباہی کہلاتی ہے
امن کیا ہے؟
جو جنگ بیک وقت غربت اور دہشت کا خاتمہ کرکے قائم کرے وہ امن کہلاتا ہے
غازی کون ہوتا ہے؟
ایک زندہ لاش جو غربت اور دہشت کی چکی میں پس کر زندہ نکل آئے
شہید کون ہوتا ہے؟
جو غربت اور دہشت کو ختم کرنے کے لیے خود بھی ساتھ مر جائے
سیاست کیا ہوتی ہے؟
غربت اور دہشت کا متوازن استعمال امن عامہ کو خراب کرنے کے لیئے جو بطورطریقہ کار استعمال ہو وہ سیاست کہلاتی ہے
جمہوریت کیا ہے؟
غربت اور دہشت کا مجموعہ جمہوریت کہلاتا ہے
سفارت کیا ہے؟
غربت کو دہشت ثابت کرنا اور دہشت کو غربت ثابت کرنا سفارت ہے
وکالت کیا ہے؟
غربت کو جرم اور دہشت کو نیکی بناکر دکھانا وکالت ہے
انصاف کیا ہے؟
جب امن دہشت اور غربت کے سامنے گھٹنے ٹیک دے وہ انصاف کہلاتا ہے
تو ہم کیا کرہے ہیں؟
ہم غربت کو زیر اور دہشت سے زیر ہوکر امن کے مزے لوٹ رہے ہیں
صاحبو! آج میرا قلم ایسی سخت باتیں کیوں لکھوا رہا ہے؟ یہ میں خود بھی نہیں جانتا مگر ایک بات وثوق سے جانتا ہوں کہ ہم صرف غربت، دہشت اور امن کے بیچ زندگی گزار رہے ہیں اور ہماری زندگی کی سبھی تلخیوں کا ساماں یہی غربت، دہشت اور امن ہے۔
باقی سارے مسائل اور وسائل براہ راست ان تین بنیادی رویوں اور حالتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس دنیا کے یہی تین بنیادی اور اہم مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ بالکل نہیں ہے۔
جبکہ یہ درست جگہ پر آجائیں تو یہ دنیا ہی استعاری جنت بن جائے گی۔
اس دنیا کا کڑوا ترین سچ یہی ہے کہ غربت دہشت کو جنم دیتی ہے اور دہشت کا خاتمہ امن کہلاتا ہے اور امن پھر سے غربت پیدا کرتا ہے۔
یہ ایک لائف سرکل ہے جو یوں ہی چلتا رہتا ہے اور یہ اسی طرح چلتا رہے گا اگر ہم بالترتیب غربت کو پہلے ختم کرنے پر متوجہ نا ہوئے تو۔
اگر غربت ختم ہوجائے تو دہشت کا عنصر خود بخود مٹ جائے گا اور امن اپنی جگہ بغیر جنگ کے بنا لےگا۔
تو آؤ ! غربت کو آسودگی سے ختم کریں اور دہشت کو شکست دے کر امن قائم کریں۔
بارش کا پہلا قطرہ ہی دریا کا موجب بنتا ہے اور آخری قطرہ سمندر کا۔
میں اس غربت اور دہشت کی جنگ کا فرق واضح کرکے امن کا راستہ دکھارہا ہوں۔
مسافر آپ ہیں اور منزل ہم سب کی۔
غربت ہی دہشت اور جنگ ہے۔
غربت مٹادو امن قائم ہوجائے گا۔