قومی مجرموں کا فیصلہ،بند کمروں میں؟؟ - اسامہ الطاف

جمہوری نظام میں جمہور کا فیصلہ ہی حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں من حیث النظام خلل ضرور موجود ہے مگر وطن عزیز میں جو سیاسی روایات عام ہوگئی ہیں، وہ ناقص ترین جمہوری نظا م میں بھی قابل قبول نہیں جیسا کہ قومی مجرموں کا فیصلہ عوامی پہنچ سے دور بند کمروں میں کرنا۔
ریاست پاکستان کے قیام کو 70 سال گزر چکے ہیں لیکن قومی مجرموں سے نبٹنے کا واضح طریقہ کار نہیں ہے۔ کئی اہم سوالات آج بھی جواب طلب ہیں جیسا کہ اگر کوئی قومی مجرم ریاست کی گرفت میں آجائے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے؟ اگر کوئی قومی مجرم جرائم چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتا ہو تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ تائب قومی مجرم کے جرائم ماورائے عدالت معاف کرادے؟اہل سنت والجماعت پاکستان کی ایک آئینی سیاسی جماعت ہے،جھنگ میں اس کا خاصا عوامی اثر و رسوخ بھی ہے۔ تاہم میڈیا اس جماعت کا کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق نہیں بھولا۔ ریاست اس کی تشریح کرنے سے قاصر ہے کہ آیا دونوں جماعتوں کی لاتعلقی حقیقی ہے یا نہیں؟ اگر حقیقی ہے تو میڈیا ایک سیاسی جماعت کو کالعدم کیسے قرار دے سکتا ہے؟اور اگر تعلق قائم ہے تو کالعدم جماعت الیکشن میں کیسے حصہ لے سکتی ہے؟ان نقاط کی وضاحت وزارت داخلہ اور نیشنل ایکشن پلان کی ذمہ داری ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ مجرم کو سزا یا معاف کرنے کے واضح طریقہ کار موجود نہ ہونے کی بنا پر قومی مجرموں کے فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں،جرم کو افراد کے بجائے تنظیم سے جوڑا جاتا ہے،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مجرم پارٹی بدل کر اپنا دامن جھاڑ لیتا ہے۔
روشنیوں کا شہر اور پاکستان کا معاشی و صنعتی دار الحکومت کراچی گزشتہ کئی سالوں سے بدامنی کا شکار تھا۔ شہر کی سڑکوں چوراہوں پر جرائم اور لاقانونیت کا راج تھا،صرف 2013-14میں چھ ہزار سے زائد قتل کی وارداتیں ہوئی،سال 2015میں موبائل چھیننے کی 32ہزار وارداتیں ہوئیں،"بڑے ہاتھوں" کی پشت پناہی کئی انسانیت سوز حادثات رونما ہوئے،کراچی کے امن سے کھلواڑ کرنے میں کئی کردارملوث تھے لیکن حالات کے بگاڑ میں لیکن بنیادی کردار ایک تنظیم اور اس کے مفتور العقل قائد کا تھا۔ پورا شہر جس کے مزاج کا اسیر تھا،حالات نے پلٹا کھایا ،رینجرز آپریشن کے بعد خود کو کراچی کا وارث سمجھنے والے سیاسی لاوارث ہو گئے۔ پھر حیران کن طور پر تنظیم کے کارندے نئے لباس میں پھر سامنے آگئے،وہی چہرے،وہی کردار،وہی کارنامے، نئی پارٹی اور نئے جھنڈے تلے جمع ہوگئے۔ کئی رہنماؤں پر درجن بھر مقدمات بھی درج ہیں لیکن ریاست ان کو سزا دینے سے قاصر ہے،یا ان کے جرائم پارٹی بدلنے پر معاف کردیے ہیں ،عوام نے نہیں خواص نے!!
رہی سہی کسرگورنر سندھ کی تصویر نے پوری کردی،جو 460ارب کی کرپشن میں ملزم ڈاکٹر عاصم کے ساتھ گورنر ہاؤس میں براجمان تھے۔جنوبی پنجاب کی معروف سیاسی شخصیت اور سابق گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ اپنے گاؤں میں ان کا وہی کردار رہا ہے جو ایک ظالم وڈیرے کا ہوتا ہے۔ کئی پارٹیوں کا چکر کاٹنے کے بعد اخیر عمر میں اب انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بلاشبہ کسی بھی پارٹی میں شمولیت ان کاحق ہے لیکن سوال پارٹی قیادت سے ہے کہ ان کو کس نے مجبورکیا کہ ایک بد کردار شخص کے لیے "سیاسی لانڈری"کا کردار ادا کریں،الیکشن میں جیت کی حرص نے؟؟
قومی مجرموں کو لانڈری میں دھلانے کا یہ مسئلہ صرف نابالغ سیاسی جماعتوں کا نہیں،پوری ریاست کا ہے۔ ہزاروں معصوم شہریوں کے قتل میں شریک،بلکہ قاتلوں کا ترجمان آج ریاست کے قبضے میں ہے،کھلے عام سخت سزا دینے کے بجائے اس کو ریاستی پناہ گاہوں میں محفوظ رکھا ہے۔ ریاست کے اس رویے سے عوام تذبذب کا شکار ہے۔ چند ہزار روپے کی چوری پر غریب پابند سلاسل ہوتا ہے،لیکن بڑا مجرم پارٹی تبدیل کرکے اپنے جرائم سے پاک ہوجاتا ہے۔ جرائم بھی وہ جس کا نقصان عوام نے اٹھایا ہو۔ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کو اس کو عوامی کٹہرے میں لایا جائے،کیونکہ بند کمروں کی مفاہمت میں انصاف اکثر قربان ہوجاتا ہے۔

Comments

اسامہ الطاف

اسامہ الطاف

کراچی سے تعلق رکھنے والے اسامہ الطاف جدہ میں مقیم ہیں اور کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے طالب علم ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.