عالمی عدالت، کلبھوشن اور حکومت پاکستان - محمد بلال

عالمی عدالت کا قیام 1945 میں عمل میں لایا گیا، جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ریاستوں کے درمیان معاملات کو الجھنے سے بچایا جا سکے اور ایک ایسی عدالت ہو جس کے فریق صرف "ریاستیں " ہوں اور ان کو اس عدالت پر پورا اعتماد ہو۔ ایسے میں کچھ شرائط بھی رکھی گئیں جن کے مطابق مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کو بیان کیا گیا کہ آیا وہ عالمی عدالت کے اختیارمیں آتے ہیں یا نہیں۔ عالمی عدالت کے اختیارات میں تین قسم کے کیس آتے ہیں۔
1۔ جب دونوں فریق کیس خود لے کر آئیں۔
2۔ دونوں فریقوں میں معاہدہ ہو کہ مستقبل میں کسی بھی مسئلے کی صورت میں دونوں عالمی عدالت سے رجوع کریں گے۔
3۔ایسے ممالک جنہوں نے عالمی عدالت کو اپنی رضامندی سے اجازت نامہ دیا ہو کہ ہمارے تنازعات میں عالمی عدالت فیصلہ کن ہوگی، یہ اجازت نامہ واپس بھی ہوسکتا ہے۔
بنیادی طور پر عالمی عدالت کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے جس کے پاس اپنے فیصلے کو لاگو کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل ہو۔ اقوام متحدہ کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہے کہ وہ اپنے فیصلے کبھی بھی طاقتور ملک پر لاگو نہیں کر سکی ہاں کمزور ممالک کو بلیک میل ضرور کیا جاتا رہا۔ عالمی عدالت کی حقیقت بھی کچھ ایسی ہے کہ اس کے فیصلے کو لاگو کرنے کا اختیار اس کے پاس ہے ہی نہیں اور یہ کسی ملک کا اختیار ہے کہ وہ کیس کی پیروی کرے یا نہ کرے الّا یہ کہ اس نے یہ اختیار پہلے ہی عالمی عدالت کو دیا ہو، وہ جب چاہے اس اختیار کو واپس بھی لے سکتا ہے۔
دنیا میں اس وقت تک 68 ایسے ممالک ہیں جنہوں نے عالمی عدالت کو اختیار دیا ہوا ہے کہ جب بھی ان کو فریق بنایا گیا وہ اسی وقت حاضر ہوں گے۔ پاکستان نے یہ اختیار 29 مارچ 2017 کو عالمی عدالت کو دیا جبکہ بھارت یہ اختیار 1974 سے دے چکا تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے یہ کلبھوشن کی پھانسی کے اعلان سے کوئی ایک ہفتہ پہلے ہوا، آخر ایسی کون سی وجہ تھی جس کے لئے پاکستان کو اب ایسا کرنا پڑا ظاہر ہے حکومت کے علم میں یہ بات آچکی ہوگی کہ کلبھوشن کو سزا ملنے والی ہے تب اپنے آپ کو عالمی عدالت میں خود کو پیش کرنا جب ضرورت ہی نہ تھی ایک مضحکہ خیز کام ہے۔ ہمارے صدرمحترم جو عام طور پر نظر ہی نہیں آتے ان کو اس خط کو لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ چند ہی دنوں میں یہ اجازت نامہ جاری کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
حالیہ دنوں میں کلبھوشن کے معاملے پر انڈیا نے عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور سفارت کارانہ رسائی اور ویاناکنونشن کی بنیادپر پھانسی کو روکنے کا کہا ہے۔ عالمی عدالت نے پاکستان کو پھانسی روکنے کا کہا ہے جب تک یہ کیس حل نہیں ہو جاتا اب چاہے عالمی عدالت اس پر مہینے لگائے یا سالوں۔
اب دیکھنا یہ ہے کیا یہ کیس عالمی عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے عالمی عدالت کی ویب سائٹ پر سوالنامہ درج ہے جس کے اندر یہ بھی موجود ہے کہ کونسا کیس اس عدالت میں سنا جاسکتا ہے اور کون سا نہیں کہ کیا عالمی عدالت ایک کریمنل کورٹ ہے ؟۔
جس کے جواب میں وہاں لکھا گیاہے کہ ایسا کیس جس میں کسی نے جنگی جرائم کیے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہو یا ریاستی دہشت گردی کی گئی ہو تو ایسے کیسز عالمی عدالت نہیں سنے گی کیونکہ عالمی عدالت کوئی جرم و سزا کے لئے نہیں بنی۔ جب یہ کسی بھی جنگی جرائم کے مجرم کے خلاف کیس نہیں سن سکتی تو کسی جنگی جرائم کے مرتکب کے شخص کوبچانے کے لئے کیوں میدان میں آ سکتی ہے۔اب کیا عالمی عدالت میں ایسے کیسز جو ماضی میں آئے ہیں کامیاب ہوئی ہے یا نہیں۔
1979 کے ایران انقلاب کے بعد امریکن ایمبیسی پر حملے کو ایران حکومتی کی حمایت حاصل تھی اس کے خلاف امریکہ نے عالمی عدالت سے رجوع کیا لیکن ایران نے اس کیس میں آنے سے انکار کردیا اور عالمی عدالت کچھ بھی نہ کرسکی۔
1984 میں امریکہ نے سی ائی اے کے ذریعے نکاراگوا میں بارودی سرنگوں کا جال بچھایا جس کے علم ہونے پر نکاراگوا نے عالمی عدالت سے رجوع کیاکہ امریکہ نے عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے ہماری حدودمیں دخل اندازی کرکے، جب عالمی عدالت نے امریکہ کو بلایا تو امریکہ نے کہاان معاہدوں کی خلاف ورزی کے کیسز عالمی عدالت سن ہی نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے "کمپلسری " اجازت نامہ بھی واپس لے لیا۔
1998 میں امریکہ نے ایک پیراگوئے کے باشندے کو سزائے موت دی اس کے جرم کی بنیاد پر پیراگوئے نے عالمی عدالت سے رجوع کیا کہ اس کے شہری کو ویاناکنونشن کے مطابق کونسلر رسائی دی جائے اور اس کی سزائے موت کو روکا جائے عالمی عدالت نے امریکہ کو ایسے کرنا سے روکا لیکن امریکہ نے اس کا جواب دینا بھی گوارا نہ کیا اورسزائے موت دے دی۔
1999 میں امریکہ میں ایک جرمن شہری جو امریکی شہریت کا حامل بھی تھا ایک ڈکیتی کے دوران ایک شخص کو قتل اور کئی کو زخمی کرنے کا مرتکب ہوا۔ امریکہ نے اسکو پھانسی کی سزا سنائی ایسے میں جرمنی نے عالمی عدالت میں امریکہ کو ایسا کرنے سے روکا اور ویاناکنونشن یاد دلایا لیکن امریکہ نے عالمی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے پھانسی کی سزا سنا دی۔
یہ چند مثالیں جو عالمی عدالت کی حیثیت واضح کرتی ہے کہ آیا عالمی عدالت کا ہر حکم سر آنکھوں پر رکھا جائے یا اپنی سالمیت کو مد نظر رکھا جائے ایک ایسا دہشت گرد جس نے کئی دھماکے کرائے اور دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو فنانس کیا اس کو پھانسی دینے کے معاملے عالمی عدالت کی بات مانی جائے جبکہ عالمی عدالت ایسے کیس میں کوئی اتھارٹی ہی نہ ہو۔ عالمی عدالت کی حیثیت کا تعین ہمیں کرنا ہوگا اور صدر پاکستان کا اجازت نامہ والا خط اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ جو مسائل پاکستانی سکیورٹی اور اس کی خودمختاری کے خلاف ہوگا ایسے معاملات میں عالمی عدالت کو کوئی اجازت نامہ نہیں۔ اب کلبھوشن نے ہر لحاظ سے پاکستان کی کی سرحدی، سکیورٹی اور خودمختاری کو پامال کیا ہے اور دہشت گردی کا مرتکب ہوا ایسے میں اس کی سزا صرف عالمی عدالت کی رائے پر روکنا دراصل پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنا ہی ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com