یہود کا مائنڈ کنٹرول پروگرام - عثمان حبیب

گانے سنتے ہوئے بے ہودہ خیالات کیوں آتے ہیں؟
یہود نے دجال کے لیے راہ ہموارکرنے کی خاطر لوگوں کے اذہان پر کنٹرول کرنے کے لیے مختلف طرح کی تکنیک استعمال کرنی شروع کی ہوئی ہیں۔تاکہ کل کو دجال آجائے اور لوگ اسے نعوذ باللہ خدا ماننے لگے۔حدیث میں آتاہے کہ دجال کی پیشانی پر کافر لکھا ہواہوگا لیکن لوگ پھر بھی اسے خدا مانیں گے! آخر ایسا کیا ہے کہ لوگ جانتے بوجھتے اسے خدا ماننے لگیں گے؟؟؟
یہود کی شرارتوں اور سازشوں سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ دجال کو خدا منوانے کے لیے ابھی سے لوگوں کے مائنڈز کنٹرول کررہے ہیں تاکہ کل اسی کنٹرول کی بدولت دجال کو منوایا جاسکے۔ اس کے لیے سب سے پہلے انہوں نے میڈیا کو اپنے قبضے میں کرلیا۔دنیا میں جو بھی میڈیا کمپنی ہے سب کے سب یہود کے کنٹرول میں ہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ...!
اس کے بعد انہوں نے انٹرٹیمنٹ اور شوبز کے نام سے لوگوں کے اذہان اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے انڈسٹریز بنائیں۔ جہاں فلموں سے لیے کر پورن موویز تک، ڈراموں سے لے کر ٹی وی شوز تک اور ری مکس سے لے کر پاپ میوزک تک۔ سب کے سب طریقوں سے مائنڈز کو کنٹرول کرنے کے لیے تکنیک استعمال کیں۔ جن میں سے ایک طریقہ ہے " بیک ٹریکنگ" کا !!!
اور یہ طریقہ میوزک کے ذریعے استعمال کیا جاتاہے۔ آج ہم مختصراً اس تکنیک کے بارے پڑھیں گے۔
ذہنوں کو گرفت میں لینے کی ایک تکنیک "بیک ٹریکنگ" ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ موسیقی "شیطان کی آواز" ہے، اب ہماری عوام یہ مانتی ہی نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ اس کے بغیر گاڑی نہیں چلتی یا پھر دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو اس کے بغیر وقت نہیں گزرتا۔ آئیے دیکھتے ہیں موسیقی سےسے چلنے والی گاڑی اور اس کی دھنوں میں مصروف کرکے گزرے ہوئے پل کے کیا نتائج آتے ہیں؟ موسیقی سننے والے (گانے سننے والے) جو کچھ سنتے ہیں وہ ٹریک (Track) کا "فارورڈ پلے" (Forward Play) ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریورس میں "ٹریک میسج" چھپا پوتا ہے۔ اس کا معاملہ عجیب متضاد ہوتا ہے۔ یہ ہمارے شعور کی گرفت میں نہیں آتا لیکن لا شعور اسے قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ ہمارے شعور کی سمجھ سے بالا تر ہے لیکن ہمارا لاشعور اسے ڈی کوڈ کر کے قبول کرلیتا ہے۔ جب ٹریک کو بیک ورڈ چلایا جائے تو اس میسج یا پیغام کو سنا جاسکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک ریکارڈ یا کیسٹ کو الٹا چلایا جاتا ہے۔ اصل پیغام اسی میں چھپا ہوتا ہے۔ اسی ذہنی گرفت والے طریقے کار کا تجربہ خود کیجئے یا پھر ایسے آڈیو کیسٹ سنیے جنہیں "شیڈوز" کہا جاتا ہے۔
عملی مثال بھی ملاحظہ کیجئے: آسٹریا وسطی یورپ کا وہ ملک ہے جو یہود کا گڑھ رہا ہے۔ اس کا دارالحکومت ویانا موسیقی کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں کے اوپیرا اور ان میں مصروف کار پیانو بجانے کے ماہر دنیا بھرمیں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ آسٹریا کے باشندوں کو ان پر فخر ہے۔ لیکن کیا ایسی چیز پر فخر کرنا معقول ہوسکتا ہے جس کے متعلق پوری قوم کو معلوم ہی نہیں کہ نادیدہ ہاتھ نادیدہ ذرائع کی مدد سے ان کے ساتھ کیا بھیانک کھیل کھیل رہے ہیں۔ وولف گینگ ایمیڈس موزارٹ کا نامور ترین موسیقار ہے۔ اس نے ایک دھن بنائی جسے ریلیز ہوتے ہی افسانوی شہرت مل گئی۔ یہودی برادری اپنے منصوبوں کو یونہی آگے بڑھاتی ہے۔ اس دھن کا نام "دی میجک فلوٹ" رکھا گیا۔ ایک انوکھا اور پر کشش نام۔ یہودی برادری کا اسٹائل کچھ ایسا ہی ہے۔ اس میں چرچ کا متبادل پیش کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے "ایکویم میس" بھی لکھی تھی۔ یہ بھی ہٹ ہوئی۔ دنیا میں اس طرح کی بہت سی چیزیں ہٹ ہوتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں گونجتی اور دماغوں پر چھاجاتی ہیں۔ اس کے پیچھے کون ہوتا ہے؟ ان کے پس منظر میں کیا پیغام ہوتے ہیں؟ حدیث شریف کے مطابق موسیقی دل میں نفاق کے جذبات اگاتی ہے۔ اس طرح کی موسیقی سے سننے والے کے دل کی تاریں جب جھر جھری لیتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کا دل کیا کچھ کرنے کو چاہتا ہے؟ یہ اس پیغام کا معکوس نقش ہے جو اس کے کانوں کے ذریعے اس کے دماغ کے نہاں خانوں تک پہنچا تھا، اللہ اپنی پناہ میں رکھے۔
ہر چند مہینوں کے بعد ہمیں "تنہا پاگلوں" (lone nutters) کی کہانیاں سننے کو ملتی ہے۔ امریکہ میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ اچانک کوئی شخص اٹھ کر لوگوں پر فائرنگ شروع کردیتا ہے۔ اب یہ واقعات یورپ میں بھی رونما ہورہے ہیں۔ یہ در حقیقت ذہنی طور پر گرفت میں کئے گئے لوگوں کی ایک شیطانی مثال ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ پاپ میوزک کے بیک ورڈ میں مختلف قسم کے شیطانی پیغام مثلا "KILL YOUR FELLOWS, KILL YOUR MUM" فیڈ کردیے جاتے ہیں۔ جب بچہ یا نوجوان یہ میوزک سنتا ہے تو ان کے پیچھے موجود بے ہودہ پیغامات، جن کی مزید مثال لکھنے سے قلم قاصر ہے۔۔ آہستہ آہستہ اس کے لاشعور میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے بعد اندرونی ذہنی تحریک کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ سب شیطانی کام کر گزرتا ہے جن کا خود اسے بھی پتا نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ اس نے کیوں کیا؟
انسانی ذہنوں سے یہ شیطانی کھیل کھیلنا قوم یہود کے ان کارناموں کی جھلک ہے جن کی بنا پر وہ بندر اور خنزیر بنائے گئے۔ اس مردود قوم کے ہتھکنڈوں کو سمجھنے سے پہلے ان کا شکار ہونے پر ملامت نہیں، افسوس تو اس بات پر ہے جو ان شیطانی حربوں سے واقف ہو کر بھی ڈش اور موسیقی نہ چھوڑے، اپنی نگاہوں اور کانوں کی حفاظت نہ کرے۔
بہرحال ! شیطان کے کارندوں کی یہ کارستانیاں ایک جگہ لیکن رحمٰن کے رضااکاروں کی جدوجہد بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ دنیا بھر میں مساجد، مدارس، خانقاہوں اور تبلیغی مراکز میں روحانیت کو پھیلانے اور رحمانیت کو غلبہ دلانے کی جو جہاد اور کوششیں ہورہی ہیں، وہ ان دجالی کرتوتوں کا شافی علاج ہیں۔ ان حضرات کے مجاہدے اور شہدا کے خون کی برکت سے اللہ تعالیٰ حق کو غالب کر کے رہیں گے ان شاء اللہ۔ ان کی معمولی محنت جب سنت کے مطابق ہوتی ہے تو چاہے وہ ایک عصا ہو، جادو گروں کی ساری رسیوں اور سانپوں کو نگل جاتی جاتا ہے۔ یہود کے تمام تر شیطانی منصوبوں اور حیوانی کوششوں کے باوجود آخر کار اسلام آباد کے نو جوانوں جیسی چنگاریاں ہم میں باقی ہیں۔ اللہ تعالی ان کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو سنت سے محبت اور مسنون اعمال کی پابندی نصیب فرمائے۔
انسانی ذہن کام کیسے کرتا ہے۔؟
بیک ٹریکنک کسے کہتے ہیں؟
بیک ٹریکنگ کیسے کی جاتی ہے؟
اس کا انسانی ذہن پر اثر کیسے ہوتا ہے۔؟
اس کی مزیدتفصیل جاننے کے لیے اگلی پوسٹ کا انتظار کریں!