ل ع ن ت – حمد احمد

پاکستان میں سائنس کے خودساختہ علمبردار ویسے تو لاتعداد کامیابیوں کے تاج سائنس کے سر پر سجا چکے لیکن ان کی جو جدید ایجاد ہے وہ "لعنت" ہے۔
اب یہ اپنے آپ میں الگ بحث ہے کہ اصلی سائنس "لعنت" پر یقین رکھتی ہے یا نہیں قائداعظم یونیورسٹی کی سائنس نہ صرف اس پر یقین رکھتی ہے بلکہ اپنے لیکچرز میں اس کو پھیلانے کی کوشش پر بھی ابھارتی ہے۔
خیر، پروفیسر ادریس آزاد کی کتاب "اسلام مغرب کے کٹہرے میں" پڑھ رہا تھا کئی بار محسوس ہوا کہ الفاظ میرے، لکھے آزاد نے ہیں۔اگرچہ پوری کتاب اپنے آپ میں ایک بہترین کتاب ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جس پر کمال درجے کی بات ہوئی اور انہی کو سامنے رکھ کر کچھ جملے پیش کرنے لگا ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت عدالت مغرب کی ہے، جج مغرب کے ہیں، کٹہرا مغرب کا اور جلاد و تلوار بھی مغرب کے ہیں اور ملزم اسلام ہے۔ الزامات یہ ہیں کہ اسلام ایک انتہاپسند بیانئے کا نام ہے، اسلام میں اکثر احکامات دہشتگردی کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں، اسلام کا سیاسی نظریہ تکفیر کا نظریہ ہے ( پولیٹکل اسلام پر یہ الزام استعماری قوتوں کے ساتھ ساتھ لبرل مسلمان دانشوروں نے بھی لگایا ) اور جدید ( جاہلانہ ) جمہوریت (سرمایہ دارانہ لبرل جمہوریت ) کی راہ میں دیوار بننے کی سوچ بھی مذہب اسلام کی وجہ سے مشرق و مغرب میں اپنے پورے اور مضبوط وجود کے ساتھ موجود ہے۔
چونکہ عدالت سے لے کر جلاد کی تلوار تک سب کچھ لبرل مغرب اور مغرب پسند لبرلز کا ہے ایسے میں اسلام یہ تو ضرور کرسکتا ہے ( بلکہ کر رہا ہے ) کہ مغرب ہی کے افراد کے سامنے یہ ثابت کرے کہ اسلامی نظام ہی انسانیت کی بھلائی کا نظام ہے۔
اسلامی ریاست کی باہر کی دنیا سے لے کر ریاست کے اندر کی گلی کوچوں میں رہنے والے عام انسان تک اسلام ہر کسی کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا نہ صرف درس دیتا ہے بلکہ حاکمیت خدا کے ہاتھ میں دے کر حفاظت کے اس دعوے اور وعدے کو سچا کر کے بھی دکھا سکتا ہے۔
اپنے دعوے میں اتنی پختگی اور اس کو سچا ثابت کرنے میں اتنی استقامت ایک حقیقی مومن کی حقیقی نشانی ہوتی ہے اور یہی وہ نشانیاں ہیں کہ آج مشرق کے "لوزرز" ( شکست خوردہ لبرلز ) بجائے اس کے اپنے مشن ( یعنی مشرق کو جدید ظالمانہ سرمایہ دارانہ مغربی جمہوریت کا غلام بنانا ) کو کامیاب دیکھتے الٹا مغرب میں پولیٹیکل اسلام کی سوچ کو ابھرتا دیکھ رہے ہیں۔
تونس میں سیاسی اسلام کی فتوحات ہوں یا پھر مصر میں ان کی حکومت، الجزائر میں نمودار روشنی ہو یا پھر ترک سیکولرز کا ایک اسلامسٹ کو امام کا درجہ دینا یہ پاکستان میں موجود مغرب پسند لبرلز کے لیے شدید دھچکوں سے کم نہیں۔ حالانکہ پاکستان میں اب تک باقاعدہ اسلامسٹ اپنی باری نہیں لے چکے لیکن قوم کی سالوں سے لبرلانہ تربیت کی کوششیں مسلسل بری طرح ناکامی کا سامنا کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی جو چار سال مسلسل سیکولر اور لبرل سوچ کو پھیلانے کی کوششوں میں سرگرداں رہتی ہے پانچویں سال عوام سے ووٹ لینے کے لیے مذہبی کارڈز نکال دیتی ہے یعنی یہ کہ مرزا قادیانی صاحب اور ان کے مذہب کو دین سے ہم نے خارج کروایا۔
مسلم لیگ جو اکثر لبرل بنی پھرتی ہے اور پوری فیملی 'سیفمائیت' کی شکار رہتی ہے الیکشن قریب آتے ہی مذہبی جماعتوں کے قائدین کے دروازوں پر دستک دینے چلی جاتی ہے۔
وجہ واضح ہے کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ قوم لبرل نہیں ہے لہذا مذہبی کارڈز استعمال کرو، قوم کو بھی چاہئے کہ اب سمجھ لے کہ یہ لبرل ہی ہیں۔
بہرحال شاید یہی وجہ ہے کہ قوم کے چند سائنسدان ( خودساختہ ) جو داڑھی و حجاب پر ہی ہمیشہ ریسرچ کرتے پائے جاتے ہیں بری طرح شکست کھا کر قوم کے بچوں کے سامنے تقریر میں فرماتے ہیں کہ " اس قوم پر لعنت ہو "
جملے میں استعمال لفظ "اس" کے "الف" پر "پیش" ہو یا "زیر" اس سے فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ یہ ایک دن کی بات تو ہے نہیں کہ کسی نا کسی شکل میں مایوس سیکولرز قوم پر لعن طعن کے تیر برسائے۔ ان سے خود تو کچھ ہونے والا نہیں گھوم گھوم کے طارق جمیل کے حوروں والے بیان پر آجاتے ہیں کہ قوم اس لئے ترقی نہیں کر رہی حالانکہ ان کے سارے تقاریر اور لیکچرز خود طارق جمیل وغیرہ پر ہی ہوتے ہیں۔
بہرحال قوم پر لعنت والی تقریر پر سیکولر صفوں میں کافی خوشی پائی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر ھود نے سائنس کی دنیا میں کچھ نیا ایجاد فرمایا یعنی "لعنت"
تالیاں۔ ۔۔۔۔!!!!!!
اس سیکولر شکست خوردگی کے برعکس مذہبی جماعتوں، خدمت خلق کی مذہبی تنظیموں اور طلبہ تنظیموں کی سوچ، ان کا نظریہ اور ان کی ہر بات بالکل واضح ہے۔
ملک کی بڑی سیاسی مذہبی جماعتوں کے قائدین سال کے بارہ مہینے ایک ہی بات بغیر کسی شرم و جھجک کے کرتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا یہاں کسی قسم کے سیکولر نظریے کو عوام کبھی نہیں اپنا سکتی اور پرامن سیاسی طریقے سے سیکولر ایجنڈے کی اصل شکل عوام کے سامنے لاتے رہتے ہیں۔ اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی کہ مغرب ناراض ہوجائے گا یا کوئی مشرقی متبادل بدنام کرلے گا۔
یہی تو حق کی نشانی ہے کہ پورے قد کے ساتھ باطل کو باطل کہتا ہے خواہ عدالت، وکیل، کٹہرا اور جلاد سب ہی باطل کے کیوں نہ ہوں اور حق یہ ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے اور اسلام ہی سیاست اور ریاست کو ہر قسم کے جاہلانہ نظریات سے انسانوں کے لیے پاک کر کے دے سکتا ہے اور اسلام ہی وہ نظام ہے جو انسان کو حقیقی آزادی دے سکتا ہے وہ آزادی جس سے انسان اس وقت مکمل محروم ہے۔