مکافات – آصف اقبال

فارم ہاؤس پہ ہو کا عالم طاری تھا۔ زاخو کی موت کوئی عام واقعہ نہیں تھا۔ بٹ صاحب کو اس بات کی اطلاع مل چکی تھی۔ اور اب چھپن سو ایکڑ پر محیط اس فارم پر پرندے بھی پر پھڑپھڑانے سے پہلے سوچ رہے تھے۔ زاخو کی رہائش گاہ کے سامنے پانی کا فلٹر پلانٹ البتہ جوں کا توں چل رہا تھا۔ زاخو کو اس میں سے نکال کر اس کی صفائی کر کے اس کو دوبارہ چلا دیا گیا تھا۔ مشینوں کو اس بات سے غرض کہاں ہوتی ہے کہ انسانوں پر اس وقت کیا بیت رہی ہے۔ انسان نے مشین کی ایجاد میں بڑی سہولت دریافت کی ہے۔ جہاں تخلیق کا معاملہ ہو ذہنی سکون مل جاتا ہے۔ جہاں تعمیر کا معاملہ ہو محنت سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ یہ فلٹر پلانٹ اس وقت لگایا گیا تھا جب زاخو کو درآمد کیا گیا تھا۔ ویسے تو یہ درآمد امریکہ سے ہوئی تھی لیکن اس کا تعلق کسی افریقی نسل سے تھا۔ بٹ صاحب کو ”ازاوخ“ تو کبھی کہنا نہ آیا، لیکن وہ بگڑتے بگڑتے ”زاخو“ نسل کا کتا بن گیا۔

زاخو کا قد ایسا تھا جیسے کوئی چار ماہ کا بچھڑا ہو اور دم ایسی جیسے لیمور کی دم ہو۔ ایک دم لمبی. نیچے سے دو دفعہ بل پڑتا تو آنکھیں دھوکا کھا جاتیں۔ ایک لمحے کو دیکھنے میں لگتا کہ وہ کوئی کمزور سا کتا ہے، عام سا، بس دم ذرا لمبی ہے، اور قد ذرا اونچا ہے، لیکن قد اونچا ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ اس کے قریب جانے سے پتا چلتا کہ وہ کوئی عام سا کتا نہیں ہے، جیسے اونٹوں کی کہان اوپر کو نکلی ہوتی ہے ویسے اس کی نیچے کو تھی۔گردن سے ذرا سے پیچھے۔ بس یہی ایک اضافی ماس تھا جو اس کے جسم پہ تھے۔ باقی جسم پہ ایسی پتلی کھال کہ ہڈیاں علیحدہ علیحدہ گن لو۔ پچھلی ٹانگیں ایسی جیسے کسرتی پہلوانوں کی ہوتی ہیں، بنی سنوری، جن کے تمام پٹھے علیحدہ علیحدہ نظر آتے۔ زاخو کا سارا لطف اس کے بھاگنے میں تھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ بٹ صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں سفر کیا کرتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی اس کا من مچل جاتا تو وہ گاڑی سے اتر کر اچانک بھاگنا شروع کر دیتا۔ اور جیسے جیسے وہ بھاگتا بٹ صاحب کو گویا زندگی ملتی۔ بٹ صاحب کہتے ”اس بھاگنے پر ہزار گھوڑے قربان“

فلٹر پلانٹ سے ویسے تو جتنا پانی روز فلٹر ہوتا تھا، اس سے آس پاس کی ساری بستیاں صاف پانی پی سکتی تھیں، لیکن زاخو سے محبت کا تقاضا تھا کہ اس فلٹر پلانٹ کو صرف زاخوکے لیے مخصوص کیا جائے۔ تاہم یہ رعایت ضرور رکھی گئی تھی کہ باقی ماندہ جانور بھی اس فلٹر پلانٹ سے نکلنے والا پانی پی لیں۔ جب زاخو اپنی ضروریات پوری کر چکا ہو، تاہم باقی جانوروں کے کھانے پینے میں وہ تمیز اور اخلاقیات نہیں تھیں، جو زاخو میں تھی۔ وہ تو اس انداز سے پانی پیتا تھا کہ کہیں سے کتا نہیں لگتا تھا۔ اشفاق ہیوی کو لگتا تھا کہ یہ تمیز اور اخلاقیات نہیں تھیں، بلکہ اصل میں زاخو نے ساری عمر افریقہ میں ہی گذاری تھی، اس لیے خوراک کی تنگی نے اسے بہتر کتا بنا دیا تھا۔ جیسے غریبوں کے بچے امراء کے گھر جا کر تمیز دار ہو جاتے ہیں، اور کونے میں لگ کر دبکے ہوئے اور سہمے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں، بالکل ویسے۔ جو وہ تمیز کا مظاہرہ کرتا تھا، اس کا تعلق تمیز سے نہیں احتیاط سے تھا۔ اس کو یہ بھی لگتا تھا کہ کسی نے اسے افریقہ کے کسی جنگل سے مرے ہوئے جانوروں پر منہ مارتے ہوئے پکڑا تھا، اور امریکہ میں لے جا کر بیچ دیا تھا۔ جہاں بٹ صاحب کی نظر کرم اس پہ پڑ گئی۔ اور بس اس کی زندگی سنور گئی۔ کہاں افریقہ کے جنگل جہاں بھوک اور پیاس سے مرتا ہوگا، اور کہاں یہ انداز شاہانہ۔
”ارے بھائی جنگل میں کون بھوک اور پیاس سے مرتا ہے۔ جنگل میں آبادیوں والا قانون نہیں ہوتا۔ وہاں سب کے لیے سارا کچھ ہوتا ہے۔ کوئی کسی پر پابندی نہیں لگاتا۔ جو چاہو سو کھاؤ۔“ شاہدمراد اسے بڑا سمجھاتا لیکن اشفاق ہیوی کے دماغ میں یہ بات ایسے گھس گئی تھی کہ نکالے نہیں نکلتی تھی۔

اشفاق ہیوی کو اس فارم پہ نوکری کرتے ہوئے اڑتیس برس ہو چکے تھے۔ وہ بٹ صاحب کا واحد ملازم تھا جو اڑتیس سالوں سے خدمت میں مصروف تھا۔ دن رات، آندھی، طوفان، ہر موسم اور ہر رنگ میں اس کی خدمت گذاری میں کبھی کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ فارم پہ سینکڑوں کتے آئے، سینکڑوں گھوڑے آئے، درمیان میں جب بٹ صاحب کو مور رکھنے کا شوق ہوا تو اشفاق نے ان کی بھی ویسے ہی قدر کی جیسے وہ خود بٹ صاحب کی کرتا تھا۔ کیونکہ اس نے بچپن سے ہی سیکھ لیا تھا کہ مالک کی ہر چیز سے پیار کرتے ہیں۔ فش فارم دیکھنے والا تھا، اس طریقے سے اس نے بنایا تھا کہ لطف آ جاتا دیکھتے ہی۔ بس مسئلہ تھا تو زاخو کا ہی تھا، اسے وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔

فلٹر پلانٹ اور زاخو کی رہائش گاہ کے درمیان ایک سڑک تھی۔ اس پر یا تو افراد پیدل چلتے تھے یا جب بٹ صاحب آتے تو فارمز پر چلنے والی ایک مخصوص گاڑی چلا کرتی۔ جس پر چھت کی جگہ خالی تھی، اور بٹ صاحب نے سائے کی خاطر ایک درآمد شدہ کپڑے کی چھت بنوا رکھی تھی۔ زاخو کی رہائش گاہ کے بائیں طرف باقی کتوں کے رہنے کے لیے گھر تھے، جو ایسے معلوم ہوتے جیسے کسی بڑے آدمی کے گھر کےساتھ سرونٹ کواٹرز ہوتے ہیں۔ سرونٹ کوارٹرز کے ساتھ گھوڑوں کی رہائش گاہیں تھیں۔ ان گھروں کے باہر ٹیوب ویلز تھے، جہاں گھوڑے اور کتے تازہ پانی سے باری باری نہاتے اور زاخو کے نہانے کے انداز دیکھا کرتے۔ زاخو کے نہانے کا انتظام البتہ اس کے گھر پہ ہی تھا۔ اس کے نہانے کے لیے شاور لگائے گئے تھے جہاں وہ اپنے ائیر کنڈیشنڈ روم سے نکل کر آتا اور خوب نہاتا، اٹھکھیلیاں کرتا، اور اشفاق ہیوی غصے سے بھر جاتا۔

اشفاق ہیوی جب اس فارم پر آیا تو تو بٹ صاحب کے پاس صرف تین سو ایکڑ زمین تھی۔ بٹ صاحب نے اشفاق ہیوی کی سابقہ نوکری کی شہرت کے کارن اسے اذن دیا کہ زمین کا رقبہ اور دہشت بڑھائی جائے۔ اشفاق نے پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھائی۔ اڑتیس سالوں میں رقبے میں بے تحاشا اضافہ ہوا اوردہشت اسی طور سے پھیلی۔ لطف اس امر کا تھا کہ بٹ صاحب کو اس اضافے کے لیے کوئی خاص مالی وسائل نہیں خرچ کرنے پڑے۔ جیسے ایک بڑی مچھلی سمندر میں منہ کھول لیتی ہے ویسے ہی اشفاق ہیوی نے بھی کھول لیا۔ پہلے پہل یہ سلسلہ فقط ٹھیکے اور حصے داری کے نظام کے تحت پنپا، پھر آہستہ آہستہ قبضے اور دھونس دھاندلی تک پہنچ گیا۔ اگر کبھی درمیان میں بٹ صاحب کے کوئی دوست احباب انہیں خدا ترسی کا سبق دینے کی کوشش کرتے تو بٹ صاحب انہیں سمجھاتے کہ یہ تو عوام الناس کی بہتری کے لیے ہے سب۔ بھلا جیسا سکول میں نے یہاں بنا دیا ہے، اس زمین کے اوپر اور اس میں جو سینکڑوں بچے پڑھتے ہیں، یہ لوگ کبھی سوچ بھی سکتے تھے ایسے سکول میں اپنے بچے پڑھانے کو۔ اور جو ان کی لڑکیاں ایف اے میٹرک کر کے ہزاروں روپے تنخواہیں پانے لگ گئی ہیں۔ یہ بھلا کبھی ممکن ہوتا۔ یہ تو بھوک سے مرتے ہوئے لوگ تھے۔ افلاس ان کے گھروں میں ناچتا تھا۔ دو وقت کی روٹی انہوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھائی نہیں تھی۔ اب لڑکیوں کے چہروں پر لالی دیکھو۔ ایسے لگتا ہے ساری کی ساری نئی بیاہی ہوں۔

سکول واقعی کمال تھا۔ وہاں جا کر اگر اس کی جغرافیائی حدود کو دیکھتے تو ایسے لگتا جیسے لاہور کے کسی اے لیول کے سکول میں آگئے ہوں۔ بہترین کلاس رومز، کھلے کھلے گراسی پلاٹس، جدید طرز کے کھیل کے میدان، ہاں بچوں کو دیکھتے تو سب کچھ غیر مطابق سا لگتا۔ ان کی وردیاں میلی ہوتیں، بستے بتاتے کہ سکول کے اوقات کے بعد ان میں کچھ اور بھی لادا جاتا ہے۔ جوتے وقت کی مار نہ سہنے کا عندیہ سنا رہے ہوتے۔ مکانات کے تبدیل ہونے سے ایک جغرافیائی حد سے دوسری حد میں جانے سے حالات بدلنا تو درکنار واقعات بھی نہیں بدلتے۔ انسان کا چہرہ جن مسائل کا ترجمان ہوتا وہ ان کی ترجمانی کرتا ہی رہتا۔ ان بچوں کے چہرے بھی ترجمانی کرتے کہ اس ماحول اور اس جغرافیہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ جماعت در جماعت ترقی سے ان کی اپنی ترقی کا کوئی واسطہ نہیں۔ ان دنوں میں جب گوری گوری چمڑیوں والے صاحب اور میمیں اس سکول کو دیکھنے آتے۔ ان دنوں میں بھی وردیاں تو اجلی ہو جاتیں اور جوتے لشکنے لگ جاتے لیکن چہروں پر بے چارگی قائم رہتی۔

ایک بے چارگی اشفاق ہیوی کے چہرے پر بھی عود کر آئی تھی۔ جب سے زاخو فارم ہاوس پر آیا تھا، اس سے پہلےاشفاق ہیوی کو لگتا کہ وہ اس فارم کا مختار کل ہے، اور بٹ صاحب کی تمام تر کامیابیو ں کی وجہ بھی۔ بٹ صاحب بھی اس بات کا کھل کا اظہار کیا کرتے کہ اشفاق ہیوی نے ان کی زندگی آسان کر دی تھی۔ بظاہر سارا کچھ ویسے کا ویسا تھا لیکن بس اشفاق ہیوی ویسا نہیں تھا۔ اس کو محسوس ہوتا تھا کہ کسی دن زاخو فارم ہاؤس سے نکلے گا، واپسی پہ کوئی بوڑھی سی عورت کا ہاتھ تھاما ہوگا، اور آ کر بٹ صاحب کو کہے گا کہ اس کی کچھ مدد کر دیں، اور بٹ صاحب نوٹوں کی گتھی اس کے آگے رکھ دیں گے کہ یہ لو اپنی مرضی سے دے دو، جتنے بھی دینے ہیں، اور یوں اس کا یہ آخری استحقاق بھی چھن جائے گا۔ شاہد مراد اس کی یہ سب باتیں سنتا اور ہنستا رہتا۔ اس کو یہ سب مذاق لگتا۔

ایک دن تو حد ہی ہوگئی۔ مراد فارم پہ پہنچا تو اشفاق ہیوی اپنی تہبند گھٹنوں سے اوپر اٹھا کر، اپنی رانوں کو تیل لگا رہا تھا۔
”مراد دیکھ! میری رانیں زیادہ لشکتی ہیں یا زاخو کی“
دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا؟ بھلا تیرا اور زاخو کا کیا مقابلہ ہے؟ وہ کتا ہے، کتا۔ ہیوی تو ایک جیتا جاگتا انسان۔ مراد ششدر تھا۔
”یہ سالا دو کوڑی کا افریقی کتا کیا خاک بھاگتا ہوگا۔ تو میری رانیں دیکھ۔ میں تجھے بھاگ کے دکھاؤں گا۔ بھینس کی دم، سالا۔ بیس بیس میل بھاگوں، سانس نہ پھولے۔ اس کو دیکھ، چار قدم بھاگ کے تھوتھنی باہر، وہاں افریقہ کے جنگلوں میں موذی پڑا رہتا ہوگا، دھوپ ڈھونڈ کے۔ میں بھاگوں اس جاپانی گاڑی کے ساتھ تو تیرے ایسے ڈرائیور کو موت آ جائے۔ مجھے بھاگتے دیکھ کے۔ زاخو کیا چیز ہے؟ اتنی پتلی ٹانگیں اس کی۔ تیز ہوا میں ویسے ہی اڑ جائے۔“
شاہدمراد کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ اس نے دانتوں تلے انگلیاں داب لیں۔ اور چپ کر کے اپنی گاڑی کی طرف ہو لیا۔ فارم ہاؤس پہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سارے راستے یہی خیال آتا رہا کہ شاید اشفاق ہیوی کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا ہے، جہاں دماغی حالت اس درجے کی نہیں رہتی جیسی عالم جوانی میں ہوتی ہے۔

اتوار کو بٹ صاحب آیے تو شاہد مراد گاڑی چلاتے ہوئے انجانے میں ہی ساتھ بھاگتے ہوئے زاخو کی رانوں کو دیکھتا رہا، حتی کہ اس کا یقین پختہ ہوگیا کہ ہیوی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔
”سر جی! میرا خیال ہے اشفاق بھائی کو اب آپ کو چھٹی دے دینی چاہیے۔ وہ بزرگ ہوتے جا رہے ہیں۔“ شاہد مراد نے بڑی ہمت مجتمع کی۔
”بیٹا! وہ اس عمر میں تم جیسے سو لوگوں پر بھاری ہے۔“ بٹ صاحب نے ساتھ بھاگتے زاخو کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”اس کو کہو اگر اس کے دل میں بھی ایسا کوئی خیال آ رہا ہے تو نکال دے، ویسے بھی، میں اس ہفتے عمرے کے لیے جا رہا ہوں۔ ساری ذمہ داری ہیوی کے سر پر ہی ہوگی۔ سو آنا جانا ہوتا ہے یہاں۔ ہزار لینے دینے ہوتے ہیں۔“

بٹ صاحب! عمرے پہ گئے اور خیر خیریت سے واپس بھی آگئے۔ حیرت انگیز طور پر بٹ صاحب کی غیر موجودگی میں اشفاق ہیوی کو جتنی زاخو کی فکر رہی۔ اتنی زندگی میں کبھی اپنے گھر والوں کی نہیں رہی ہوگی۔ شاہد مراد نے اس کو زاخو کا اتنا خیال رکھتے ہوئے دیکھا تو اس نے سوچا کہ کتنا احمق ہے وہ۔ بھلا ہیوی سے زیادہ فارم کا اور بٹ صاحب کا خیال کون رکھ سکتا ہے.
عمرے سے واپسی پر فارم کا سارا عملہ ملنے گیا۔ بٹ صاحب نے سب کے گھر بار کی مکمل خیر خیریت پوچھی۔ ہیوی کے گھر والوں کے لیے تحفے تحایف دیے۔ جب وہاں سے رخصت ہونے لگے تو بٹ صاحب نے لگے ہاتھوں ہیوی سے پوچھا۔ زاخو خیر سے ہے نا۔ صبح چکر لگاؤں گا فارم پہ میں۔
وہیں سے شاہد مراد کو لگا کہ پاگل پن کا دورہ پھر سے پڑ گیا ہے ہیوی کو۔ فارم واپسی تک وہ اس کے باؤلے پن پر مہر ثبت کر چکا تھا۔
صبح ہونے میں کوئی دو گھنٹے ہوں گے۔ جب شاہد مراد کا دروازہ اشفاق ہیوی نے کھٹکٹایا۔
شاہد! اٹھ، غضب ہو گیا ہے، زاخو، فلٹر پلانٹ کے اندر مرا پڑا ہے۔
شاہد کی جب آنکھیں کھلیں تو دوبارہ بند نہ ہو سکیں۔
حیرت انگیز طور پر بٹ صاحب نے کوئی زیادہ سوال و جواب نہیں کیے۔ اسی بات پر کہ زاخو کی رہائش گاہ کا دروازہ کھلا رہ گیا تھا۔ انہوں نے خاموشی اختیار کر لی، اور فارم کی سیر کیے بغیر واپس چلے گئے۔
لیکن اگلے ہی دن ان کو دوبارہ آنا پڑا۔ سوموار کی صبح۔ جب اشفاق ہیوی باقی کتوں کی خوراک کی نگرانی کر رہا تھا۔ وہ اچانک اس پہ پل پڑے، اور چند لمحوں میں ہی اشفاق کا نرخرہ خون چھوڑنے لگا۔ جتنی دیر میں شاہد مراد وہاں پہنچتا، اشفاق اگلے جہان پہنچ چکا تھا۔
”بڑی درد ناک موت تھی۔ فارم پر بیٹھے ایک صاحب نے بٹ صاحب سے تعزیت کی۔ بڑے سال خدمت کی اس نے آپ کی۔ بڑا پرانا ساتھی تھا۔ ہمیں آپ کی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہے۔ اللہ کے کام ہیں۔ بندہ کیا کر سکتا ہے۔“
”ہاں جی! مکافات عمل ہے۔“ بٹ صاحب نے آہستہ سے کہا۔ اور اٹھ کر تدفین کے انتظامات دیکھنے لگ گئے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam