ماں کے نام ایک خط جو ہمیشہ ادھورا رہا - محسن حدید

امی جان!
یاد ہے جب سارے بہن بھائی پڑھنے کے لیے آپ نے نانو پاس بھیج دیے تھے، ابو جی بھی شاہ مراد شوگر مل چلے جاتے تھے، ہم دونوں اتنے بڑے گھر میں اکیلے ہوتے تھے، تب مجھے لگتا تھا کہ آپ نے میرے ساتھ زیادتی کردی ہے. میں بھلا سارا دن آپ کے ساتھ کیا کرتا، میں بور ہوجاتا تھا، میں چاہتا تھا کہ آپ مجھے بھی پنجاب بھیج دیں، جہاں ہم سال میں ایک دفعہ جاتے تھے. نانو کا بڑا سا گھر اور اس میں کھیلتے بہت سارے بچے، محلے کے بچے، رشتے داروں کے بچے، خالاؤں سے پڑھنے آنے والے بچے، سندھ کے ایک دوردراز علاقے میں جہاں دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ بی بی سی لندن کا 8 بجے والا بلیٹن تھا، میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا کہتے ہیں، لیکن روٹین سے ہٹ کر واحد ایکٹویٹی تھی میری.

کاش!
تب مجھے احساس ہوتا کہ زندگی کے یہ لمحات کتنے قیمتی ہیں اور صرف ایک بار آنے ہیں. آج بیڈ سے پاؤں لٹکائے بے خوابی کی حالت میں مجھے یاد آیا ہے کہ جب مجھے آپ نے لاہور کے لیے رخصت کیا تھا، تب آپ کا چہرہ کیوں اترا ہوا تھا. شاید مائیں سمجھتی ہیں کہ جنہیں ہم اپنے ہاتھوں گھونسلے سے اڑا رہی ہیں، دوبارہ اس شجر پر مشکل سے ہی بیٹھیں گے. سچ کہوں تب مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا، مجھے اگلے دیس جو جانا تھا، مجھے آگے بڑھنا تھا، کب تک آپ کے ساتھ بندھا رہتا. مائیں بیٹے جنتی ہی اس لیے ہیں کہ انھیں کسی کے حوالے کرنا ہوتا ہے. لوگ کہتے ہیں بیٹیاں پرائی ہو جاتی ہیں، مجھے لگتا ہے بیٹے زیادہ پرائے ہوتے ہیں، لیکن لاہور پہنچ کر مجھے آپ بے تحاشا یاد آئیں. جب پہلی دفعہ ہاسٹل میں کھانا کھلا تو سینکڑوں بچوں کی بھیڑ میں میرے ہاتھ چاولوں کی آدھی پلیٹ آئی اور چمچ مجھے باوجود کوشش کے مل نہ سکا. بےاختیار بھیگی ہوئی آنکھوں سے میں نے ایک ہمدرد صورت کو یاد کیا لیکن میرے اندر کے مرد کو گوارا نہیں تھا کہ میں روتا، سو اگلے کھانے کے وقت پلیٹوں پر جھپٹ کر اپنے حصے سے زیادہ وصول کرتے ہی میں بھول گیا کہ ایک مشفق ہستی ابھی بھی کھانا سامنے رکھے لاہور سے بہت دور میرے کھانے بارے متفکر ہوگی.

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

یاد ہے!
جب گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک بار آپ نے مجھے نماز نہ پڑھنے پر مارا تھا اور میں لڑ کر گھر سے بھاگ گیا تھا. سارا دن گاؤں کی گلیاں پھرتا رہا، یاروں کے ساتھ نہر پر نہاتا رہا، ایک کھیت سے تربوز چوری کر کے کھائے، لیکن جونہی شام ہوئی مجھے پریشانی لاحق ہوگئی، ڈرتے جھجھکتے گھر میں داخل ہوا تو آپ نے کتنی بےچینی سے مجھے گلے لگا کر چوما تھا، مجھے صاف کپڑے نکال کر دیے تھے، نہانے کا کہا تھا، پاس بٹھا کر کھانا کھلایا تھا اور اس رات اپنے ساتھ ہی چارپائی پر سلایا تھا، یوں جیسے میری بغاوت سے ڈر گئی ہوں، رات کو ایک بار گرمی سے آنکھ کھلی تو آپ مجھے پنکھا جھل رہی تھیں، میں نے کروٹ بدلی اور سو گیا، یہ سوچے جانے بغیر کہ ماں کا بھی نیند پر حق ہوتا ہے.

میں بڑا ہوگیا!
لیکن مائیں بڑی نہیں ہوتیں، ان کے اندر ہمیشہ بچپنا رہتا ہے، معصومیت رہتی ہے. بھلا ایک ماں سے زیادہ معصوم کون ہو سکتا ہے؟ میں سوچتا تھا آپ نے مجھے دنیا کے حوالے کر دیا. بالکل کردیا تھا لیکن دعاوں کے ایک ایسے حصار میں جس سے بڑا حفاظتی دائرہ خالق نے آج تک تخلیق ہی نہیں کیا. زندگی بہت سبک رفتار تھی، میں بھی دوڑ میں شامل تھا، سو دوڑتا رہا، اس دوڑ میں سچ پوچھیں تو جس نے پہلا قدم اٹھانا سکھایا، اسے ٹھیک طرح یاد ہی نہ رکھ سکا. میرے اپنے معاملات تھے، اپنی مصروفیات تھیں، مجھے خبر ہی نہ ہو سکی کہ ماں کو میری باتیں سننے کی خواہش ہے. ماں مجھ سے ویسی ہی سماعت مانگتی ہے جیسے لوری دیتے ہوئے ہوتی تھی. مجھے لیکن ساری دنیا کے کام تھے، سب کی فکر تھی، زندگی خوشگوار تھی، سب اچھا تھا، جس دن مجھے خبر ملی کہ آپ کو کینسر تشخیص ہوا ہے، پہلی بار پاؤں تلے سے زمین نکلی، اس رات میں بیٹھا سوچتا رہا کہ یہ کیسا امتحان اترا ہے؟ لیکن حکم اوپر سے آیا تھا سو نماز پڑھ کر دعا مانگی، دل کو کچھ سکون ہوا، میں آپ سے دورتھا، سوچا آپ کو فون کرکے تسلی دیتا ہوں، میں نے جونہی فون ملایا، یاد ہے! آپ نے کیا کہا تھا، آپ نے مجھے کہا ”ابھی تو میرے بچے سیٹلڈ ہوئے تھے، اب پھر انہیں پریشان ہونا پڑے گا“. میں لرز گیا تھا، میں کچھ بول نہیں سکا، جب آپ نے نم آواز میں مجھے پکارا، محسن سن رہے ہو؟ تب ہاں کہنا کتنا مشکل تھا. ہزاروں کے ہجوم والے جلسوں میں شعلہ بیانی کرنے والے کے منہ سے وہ ایک لفظ کتنی مشکل سے ادا ہوا تھا. اب بھی سوچوں تو چپ طاری ہوجاتی ہے. علاج کو لمبا عرصہ ہو چکا، آپ کی رپورٹس میرے سامنے ہیں، آپ نے آج مجھے بتایا ہے کہ بس ایک کیموتھراپی رہ گئی ہے، اس کے بعد سب اچھا ہوجائے گا. میں جانتا ہوں حقیقت میں سب اچھا نہیں ہے لیکن میں آپ کی بات پر غور کرنا چاہتا ہوں، کچھ باتیں اپنی ناسمجھی کے دنوں میں نظر انداز کر گیا تھا، آج پورے شعور میں نظر انداز کرنا چاہتا ہوں. ماؤں کی امید میں جادو ہوتا ہے، میں چاہتا ہوں یہ جادو اب ظاہر ہوجائے. میں محو دعا ہوں، مجھے خبر ہے 20 دن بعد آخری کیموتھراپی ہے، میں اس سے پہلے معجزہ چاہتا ہوں.

یہ بھی پڑھیں:   والدین کا دل جیتنے والے دس کام - ابو محمد مصعب

میں آپ کے آگے لگ کر دوڑنا چاہتا ہوں، گھر کی پرانی کچی دیوار پر چڑھنا چاہتا ہوں، جہاں سے آپ گھبرا کر مجھے پکڑ لیں. مجھے گرنا نہیں، بس آپ کو بتانا ہے کہ میں اب اتنے جوگا ہوگیا ہوں کہ اپنے آپ کو گرنے سے بچا سکتا ہوں. میں چاہتا ہوں کہ جب سارے بڑے بہن بھائی نانو کے گھر چلے جائیں تو آپ کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائیں، اسے سر پر رکھیں اور میری انگلی پکڑ کر گھر سے چند ایکڑ کے فاصلے پر موجود کھال کنارے جا بیٹھیں، جہاں آپ کپڑے دھوتی رہیں اور میں کھال میں چھلانگ لگادوں، ناک پکڑ کر سانس روک کر پانی میں لمبی ڈبکی لگاؤں اور آپ کی پریشانی بھری آواز سن کر مسکراتے ہوئے پانی کی سطح پر ابھر آؤں، ابھی آدھے کپڑے دھلے ہوں اور مجھے بھوک لگ جائے، ہمیشہ کی طرح آپ کام ادھورا چھوڑ کر مجھے گھر لائیں، میرا من پسند کھانا کھلائیں، اور مجھے بڑے کمرے میں دادا جی کی زیر نگرانی سلا دیں.

نوٹ :: امی کو دوسری بار کیموتھراپی لگ رہی ہے۔ انہیں دعاؤں کی سخت ضرورت ہے. اپنا دکھ بانٹنا بہت عجیب لگتا ہے لیکن میں واقعی پریشان ہوں۔ آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے.