حقیقت تصوف - عابد عنایت

گردش لیل و نہار نے جہاں اور بہت سے اسلامی تصورات کو پراگندہ کیا ہے۔ وہیں اس نے اپنی فطری تاریخی ستم ظریفی سے کام لیتے ہوئے تصوف جیسے خالص اور اہم اسلامی موضوع کو بھی متنازع مسائل کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ اغیار تو غیر ٹھیرے، اپنوں کا بھی ایک اچھا خاصہ طبقہ اس سے ٹھیک ٹھاک نالاں دکھائی دیتا ہے۔
اس میں لازماً قصور حاملین تصوف کا بھی ہے مگربڑی وجہ مسلمانوں کی فطری سہل انگیزی اور تحقیق جیسی دقیق راہ سے فرار جبکہ وقتی معلومات پر قانع ہوجانے والی ذہنیت کا بھی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم تصوف جیسے اہم مضمون پر تاریخ کی ستم زدگیوں کی نشاندہی کرتے اور اسلام کا دفاع کرتے ہوئے مستشرقین کی فطری چابک دستیوں اور فلسفیانہ موشگافیوں کا قلع قمع کرتے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ہم ایسا نہ کرسکے اور الٹا اپنی کج فہمی کے باعث تصور تصوف کے ہی خلاف ہوگئے اور نتیجتاً تصوف کی بنیاد کا رشتہ یونانی، ایرانی اور ہندوستانی تہذیبوں کے آثارمیں تلاشنے لگے۔ چنانچہ بعض کے نزدیک تصوف میں فلسفہ یونانی، ترک دنیا ایرانی اور جوگیانہ پن ہندوستانی تہذیب سے درآمد شدہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
لیکن عرض ہے کہ اس مفروضے کا حقیقت سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں، جبکہ اس اعتراض کی دو بنیادی حیثیتیں ہیں پہلی حیثیت میں یہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جو کہ تصوف کی حقیقت سے نا آشنا ہیں اور اس کے ڈانڈے مینڈے کہیں اور تلاش کرتے پھرتے ہیں جبکہ دوسری حیثیت ان لوگوں کی ہے کہ جنھوں نے پہلی قسم کے افراد کی سطحی تحقیق پر آنکھیں بند کر اعتماد کرلیا ہے اور یہ یقین کر بیٹھے کہ واقعی تصوف اسلام یا شریعت سے الگ ہٹ کر کوئی لائحہ عمل ہے۔
حقیقت میں یہ دونوں طبقات ہی حقائق سے نابلد و نا آشنا ہیں۔ پہلا تو سرے سے تصوف کو مانتا ہی نہیں جبکہ دوسرا قدرے مانتا تو ہے مگر اس کا ماخذ بیرونی ہونے کا قائل ہے لہٰذا حقیقتِ تصوف کو جانتا نہیں۔ لیکن ان میں ایک تیسرا فریق بھی ہے جو کہ اصل تصوف کا قائل ہے اور یہ اچھے سے بخوبی جانتا ہے کہ تصوف نہ تو دین سے ہٹ کر کوئی الگ شاہراہ ہے اور نہ ہی شریعت کے علاوہ کوئی اور سلک و راہ۔ بلکہ تصوف شریعت کے احکامات کو نہایت خلوص اور نیک نیتی سے بجالانے کا نام ہے۔ یہ درست ہے کہ موجودہ دور میں لوگوں کی اکثریت نے تصوف کے نام پر اپنی اپنی دکانداری چمکا رکھی ہے اور فریب نفس میں آکر تصوف و دین کے نام پر شب و روز دنیاوی مال و متاع کی حرص و ہوس کو حرزجاں بنا رکھا ہے اور سادہ لوح عوام کہ جن کی اکثریت دینی علوم و فنون کی ابجد سے بھی بے بہرہ ہوتی ہے کو لوٹنے اور ان کے ایمان کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں فرمارہے۔ مگر اس سب کا مطلب یہ ہرگز بھی نہیں کہ ان لوگوں کی بدنیتی اور کور باطنی کے پیش نظر تصوف جو کہ خالصتاً اسلامی نظریہ ہے اور تقرب الی اللہ اور دین کو اللہ ہی کے لیے خاص کرنے کا اہم ذریعہ ہے، ہم اس کو غیر اسلامی، سفسطہ اور نجانے کیا کیا نام دیکر اس کی اصل حقیقت کا انکار کر بیٹھیں۔
مثال اس کی کچھ یوں ہے کہ نفس نبوت پر پر یقین رکھنا ہر ادنٰی سے ادنٰی مسلمان کے ایمانی کا بنیادی تقاضا ہے مگر آج کے دور میں اگر کوئی کذاب اٹھ کر جھوٹی نبوت کا دعوٰی کردے تو اور نبوت جیسے خالص اسلامی تصور کے نام پر اپنی نام نہاد دکان چمکانے کی کوشش کرنے لگے تو ہم اس کی جھوٹی نبوت کا انکار تو ضرور بالضرور کریں گے مگر اس کی آڑ میں اصل اسلامی تصور نبوت کا انکار ہرگز ہرگز نہ کریں گے۔ سوایسا ہی کچھ معاملہ تصوف کے ساتھ ہے گو کہ عقیدے کے اعتبار سے اس کا تعلق ضروریات دین سے تو نہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس سے سرے دین ہی کے متوازی کوئی شئے تصور کرلیا جائے۔ اور اگر ایسا کیا جائے تو حق و صداقت کے تمام تقاضوں کا بالائے طاق رکھ کر انصاف و دیانت کا خون کرکے ہی کرنا ہوگا۔
اب آتے ہیں گفتگو کے اہم اور نہایت ہی ضروری حصے کی طرف کہ آیا ہمیں قرآن و سنت سے براہ راست کوئی ایسا حکم ملتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں تعلیمات تصوف پر عمل پیرا ہوسکیں ؟ لیکن اس سے بھی پہلے ایک چیز واضح کردینا بہت ضروری ہے کہ جس کا تعلق اصول سے ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت کے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ کسی بھی شئے کی حلت و حرمت کا اصل معیار اس شئے کا براہ راست قرآن و سنت میں بعینہ مذکور ہونا ہے۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ تصور اصول دین سے سرا سر عدم واقفیت کی بنا پر ہے۔ یہ حق ہے کہ کسی بھی شئے کی حلت و حرمت کا مدار قرآن و سنت پر ہی ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ وہ معاملہ یا قضیہ بعینہ کتاب و سنت میں مرقوم بھی ہو۔ کیونکہ اصول یہ بھی ہے کہ عدم ذکر کبھی بھی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔ چناچہ جب بھی کوئی شئے یا امر اپنے نفس ظہور کے اعتبار سے بعد از زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پیش آئے تواس امر یا شئے کی حلت و حرمت کے لیے ہم بنیادی طور پر رجوع قرآن وسنت کی ہی طرف کریں گے۔ چنانچہ اسے قرآن وسنت پر پیش کریں گے اور پھر اولاً قرآن و سنت اور ثانیا ادلہ اربعہ کی روشنی میں اس کا حل دریافت کریں گے۔ لہٰذا اگر اس کے نظائر ان تمام دلائل کی روشنی میں سے کسی ایک سے میسر آجائیں تو پھر اسے اپنا لیں گے اور اگر اس کی حرمت ان میں سے کسی بھی دلیل سے ثابت ہوجائے تو پھر اس کا ترک ہم پربتقاضائے اتمام دلیل ہی کی صورت میں درجہ بدرجہ لازم ہوگا۔ چنانچہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیجیے کہ قران وسنت ہمیں وہ بنیادی اصول دیتے ہیں کہ جن کی روشنی میں ہم اشیاء کی حلت و حرمت کو جانتے ہیں نہ کہ ہر ہر شئے کے عدم و وقوع کا بطور حلت و حرمت ذکر براہ راست قرآن وسنت میں مذکور ہوتا ہے۔
مانعین تصوف کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ یہ لفظ تصوف اجنبی ہے چناچہ اس کا کوئی ثبوت نہ براہ راست قرآن و سنت میں ہے اور نہ ہی یہ عہد نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں مستعمل ملتا ہے اور نہ ہی عہد صحابہ و تابعین وتبع میں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض لفظ تصوف پر بطور اصطلاح کے تو ہوسکتا ہے مگر اس کی مراد پر ہرگز نہیں۔ کیونکہ جس لائحہ عمل پر لفظ تصوف بولا جاتا ہے یعنی "احسان و تزکیہ نفس" وغیرہ کیا یہ اصطلاحات کتاب وسنت ہی کی نہیں اور کیا بعینہ یہی منشاء و مراد قرآن وسنت ہی نہیں؟ کیا محض لفظی تغایر سے کسی شئے اور لائحہ عمل کی حلت و حرمت کا فیصلہ کیا جائے گا؟ اگر یوں ہے تو پھر لفظ "صلاۃ " کی جگہ لفظ نماز اور "صوم" کی جگہ لفظ روزہ کے مستعمل اور مقبول ہوجانے کی بابت کیا فتوٰی صادر کیا جائے گا؟۔ کیا محض لفظی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ سارے امور معاذاللہ ثمہ معاذاللہ ناجائز و حرام قرار پائیں گے ؟۔ اگر صرف و نحو، فقہ ومنطق وغیرہ کے الفاظ قرآن و سنت میں براہ راست نہیں تو کیا محض اسی وجہ سے ان علوم وفنون کا سیکھنا باطل قرار پائے گا؟۔ یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا تو جب محض نزاع لفظی کی وجہ سے ان سارے علوم و فنون کو مخالف شریعت نہیں گردانا جاسکتا تو پھر کیا وجہ ہے کہ تصور تصوف کو محض لفظ تصوف کی بنا پر رد کیا جائے اور یوں اس لفظ سے جوحقیقی مراد یعنی پاکیزہ و ستھرا لائحہ عمل بصورت اخلاص فی الدین کے طریق کے ہے اس کی رعایت نہ کرتے ہوئے اسے اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ یہ مانا کہ قرآن وسنت میں یہ لفظ نہیں مگر جس پاکیزہ مقصد کے حصول کے لیے اسے وضع کیا گیا ہے کیا بارہا اسی مقصد کے حصول کی تکمیل عین منشاء قرآن وسنت نہیں ؟ کیا وہ تمام مقاصد حاصل کرنا فرد کے لیے دین کا مطالبہ اور عین تقاضائے شریعت نہیں ؟۔
لفظ تصوف کا تاریخی پس منظر:
پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی اپنی تصنیف "آئینۂ تصوف" میں رقم طراز ہیں کہ۔۔۔۔
صوفی عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی دنیا کی قدیم ترین زبان ہے اور یہ سب سے پہلی زبان ہے مؤرخین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ عربی جو تمام زبانوں کی ماں ہے، ہزاروں برس تک تدوین قواعد لغت کے بغیر ہی بنی نوع انسانیت کے کام آتی رہی۔ جبکہ ابو الاسود متوفی 69 ھ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر عربی زبان کے قواعد مرتب کیے۔ مسلم اورغیر مسلم محقیقین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ عربی دنیا کی وسیع ترین زبان ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں عربی زبان میں ایسی وسعت ہے کہ اس کا احاطہ سوائے نبی کے کسی سے ممکن نہیں۔ اب اگر کوئی لفظ عربی زبان میں رائج ہو یا عربی زبان کا ہمشکل ہو لیکن قواعد کی زبان پر پورا نہ اترتا ہو تو اسے بغیر کسی قطعی ثبوت کہ عربی زبان سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاریخ مکہ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ لفظ صوفی اسلام سے پہلے بھی عرب معاشرے میں رائج تھا۔ ابو النصر سراج نے اپنی کتاب اللمع میں لکھا ہے کہ قبل از طلوع اسلام ایک صوفی مکہ مکرمہ بغرض طواف آیا کرتا تھا۔ ویسے اس کا لفظ صوفی کا رواج حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور سے ہوچکا تھا۔ آپ نے اپنے ایک شعر میں اس لفظ کو استعمال کیا۔ یہ شعر آپ نے اپنے عامل کو خط میں لکھ کر بھیجا تھا
قد کنت تشبہ صوفیا لہ کتب
من الفرائض او آیات فرقان
ترجمہ :تو ایسے صوفی سے مشابہت رکھتا ہے جو کہ فرائض اور احکام دین کی کتابوں کا مالک تھا۔ (مصارع العشاق )
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت 41 ھ سے 60 ہجری تک تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ لفظ صوفی 60ھ تک اسلامی معاشرے میں رائج ہوچکا تھا۔
امام قشیری اور حضرت عبدالرحمان جامی کی تحقیق کے مطابق ابو ھاشم صوفی متوفی 161ھ سے بھی پہلے بہت سارے بزرگان دین تھے جو زہد، ورع، توکل، محبت اور دوسرے معاملات دین میں ایک خاص مقام حاصل کرچکے تھے۔ لیکن پہلے شخص جو صوفی کے لقب سے مشہور ہوئے وہ وہی تھے اور ان سے قبل کوئی بھی شخص اس نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ (رسالہ قشیریہ و نفحات الانس)
اس کے علاوہ لفظ صوفی کی لغوی اور اصطلاحی تحقیق پر امہات کتب تصوف میں بے شمار اقوالات ملتے ہیں جن سب کا یہاں نقل کرنا باعث طوالت ہوگا۔ تحقیق کے شوقین حضرات امہات کتب تصوف کا مطالعہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ عثمان بن علی الہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ رحمہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس لفظ کی تحقیق میں بہت سے اقوال نقل کیے ہیں۔ اہل تصوف کو صوفی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ لوگ اون کا لباس پہنتے تھے جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ لوگ اللہ کہ ہاں برگزیدگی میں صف اول میں ہوتے ہیں اس لیے انہیں صوفی کہا جاتا ہے ایک طبقہ کی رائے کہ یہ لفط " صفا "سے ہے کہ جسکے معنی "مصفٰی" کے ہیں اور یہ کدورت کی ضد ہے اور یہی سب سے قابل تحسین معنی ہیں۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ صوفی کا لفظ صُفہ سے ہے جو کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں "اصحاب صفہ" کا چبوترہ تھا اسی نسبت سے صوفیاء کو صوفی کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام صوفیاء اپنی نسبت اصحاب صفہ کی طرف گرداننے کو باعث صد افتخار و فضیلت سمجھتے ہیں۔ وہ اصحاب صفہ کہ زہد و ورع جن کا وصف خاص تھا، متاع دنیا سے بالکل بے نیاز ہوکر صرف ذکر الٰہی میں ہمہ تن مشغول رہتے تھے۔ صوفیاء نے ان کے طریق کو اپنایا اور اسی نسبت سے صفی کہلائے جو کہ بعد میں صوفی بن گیا۔ یہی وجہ حقیقت کہ قریب تر ہے پس صوفی وہ جو کہ اصحاب صفہ کا طریق اپنائے قلب میں صفا کی دولت لائے اور جسم پر صوف کا لباس پہنے کہ یہ سنت بھی ہے۔ جیسا کہ علی ہجویری علیہ رحمہ نے ایک حدیث بھی نقل فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوف کا لباس پہنا اور ایک روایت میں حکم دیا کہ تم صوف کا لباس پہنواس سے اپنے اندر ایمان کی حلاوت محسوس کروگے۔ جبکہ شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ صوف کا لباس شعار انبیاء و اولیاء میں سے ہے۔ (بحوالہ آئینہ تصوف)
تصوف کی اصطلاحی تعریف میں حضرت معروف کرخی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ حقیقت کی معرفت حاصل کرنا، دقائق پر گفتگو کرنا اور مخلوق کے پاس جو کچھ ہے اس سے نا امید ہوکر خالص اللہ سے امید رکھنا تصوف ہے۔ حضرت جنید بغدادی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ تصوف مستقل مجاہدہ نفس کا نام ہے۔
حضور علی ہجویری علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ صوفی " قد افلح من تزکی" کی عملی تصویر ہوتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمہ المعروف پیران پیر فرماتے ہیں کہ تصوف کی بنیاد آٹھ چیزوں پر ہے:
1۔ سخاوت ابراھیم علیہ السلام
2۔ رضائے اسماعیل علیہ السلام
3۔ صبر ایوب علیہ السلام
4۔ مناجات زکریا علیہ السلام
5۔غربت یحیٰی علیہ السلام
6۔حرقہ پوشی موسٰی علیہ السلام
7۔ سیاحت و تجرد عیسٰی علیہ السلام
8۔ فقر محمد صلی اللہ علیہ وسلم
تصوف کی یہ تمام تعریفیں ہر لحاظ سے شریعت کہ مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہیں لہٰذا یہ بات عین حقیقت ہے کہ تصوف شریعت کا ہی دوسرا نام ہے نہ کہ شریعت سے ہٹ کر کوئی الگ متوازی راستہ۔ تصوف کے مختلف پہلوؤں کو اگر آپ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابندہ سیرتوں کی روشنی میں دیکھیں گے تو بہت سے رنگ بکھرتے ہوئے آپ کو نظر آئیں گے۔
ابتداء اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حرا میں جاکر گوشہ نشینی اختیار کرنا، اپنے رب کی محبت میں سرگرداں ہوکر خود کو ساری دنیا سے الگ تھلگ کرکے تنہائی میں غور و فکر کرتے ہوئے معرفت رب، معرفت کائنات اور معرفت نفس پر فکرو تدبر فرمانا، نیز کفار و مشرکین مکہ کی زبانی و جسمانی ایذا رسانیوں پر صبر و توکل کی انتہاء پر چلے جانا۔ جیتے جاگتے معاشرے میں رہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں گوشہ نشینی اختیار کرنا دشمنوں کی ایذا رسانیوں پر صبر و توکل کی بلندیوں کو چھونا دو جہانوں کا مالک و مختار ہوتے ہوئے بھی فقر و استغناء کی بلند چوٹیوں پر فائز ہونا، نیز میدان جنگ میں اپنے ساتھیوں کی بنسبت دو دو پتھر پیٹ پر باندھنا اگر زہد کی اعلٰی مثال نہیں تو پھر کیا ہے اور یہی زہد مقصود تصوف نہیں تو پھر کیا ہے ؟غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ اور مقدس سیرت کہ کس کس پہلو سے تصوف کے رنگوں کا چناؤ کیا جائے ، صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‬
یہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سب سے افضل ہیں۔ انہیں صدق کا وہ مقام حاصل ہے کہ انہیں صدیق اکبر پکارا جاتا ہے۔ جبکہ اہل تصوف کی زبان میں یہ " فنا فی الرسول " صلی اللہ علیہ وسلم اور قافلہ سالار عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جبکہ قرآن انہیں کبھی "ثانی اثنین" اورکبھی "وسیجنبھا الاتقیٰ الذی" کے مبارک القاب سے یاد کرتا ہے۔
یہ اپنے ساتھیوں میں مزاج آشنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشہور ہیں جبکہ علی المرتضٰی شیر خدا انہیں "اشجع الناس" کے لقب سے یاد فرماتے تھے یہ خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہوئے فقیرانہ زندگی کے مالک تھے اور محلے کے لوگوں کی بکریوں کا دودھ خود اپنے ہاتھوں دھویا کرتے تھے۔ غزوہ تبوک میں شان فقر و استغنا و توکل و عزم کا یہ عالم ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اے صدیق گھر پر کیا چھوڑا ؟عرض کرتے ہیں اللہ اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پھر اقبال علیہ رحمہ کی روح بھی پھڑکی اور یوں گویا ہوئے
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

سلام ہو تجھ پراور تیری شان فقر و استغنائی پر اے صدیق !
یہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن کے نام سے آج بھی قیصر و کسرٰی کے حامی کانپ اٹھتے ہیں چالیس لاکھ مربع میل کے حاکم ہیں مگر شان فقر و استغناء کا یہ عالم ہے کہ جہاں زمیں پر جگہ ملی بستروہیں زمین پر ہی لگا لیا۔ محلے کی بیوہ عورتوں کے لیے پانی ڈھوتے ہیں۔ ایک بار گھر سے نکلنے میں دیر لگا دی بعد از تحقیق معلوم پڑا کہ ایک ہی جوڑا تھا جسے دھو کر سکھا کر پہننے میں دیر لگی اللہ اکبر! سلام ہو تجھ پر اور تیری شان فقر استغناء پر اے عمر! رضی اللہ عنہ
اور یہ ہیں کہ جنہیں زمانہ ذوالنورین کے مبارک لقب سے جانتا ہے ایک غزوہ کے موقع پر اسلامی لشکر کے لیے اتنا ساز و سامان مہیا کردیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر فرمایا کہ آج کہ بعد عثمان جو کچھ بھی کرئے اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا۔ مگر خشیت الٰہی کا یہ عالم ہے کہ روتے روتے اکثر ریش مبارک ترہوجایا کرتی جبکہ حیا کا یہ عالم کہ خود اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آسمان کے فرشتے بھی جن سے حیا فرمائیں سلام ہو تجھ پر اے عثمان ! رضی اللہ عنہ
اور یہ شیر خدا علی المرتضٰی ہیں زہد و ورع کا یہ عالم ہے کہ مٹی میں سو جاتے ہیں اور پھر بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے پیارا اور مبارک لقب ابو تراب پاتے ہیں۔ دور حکومت میں بھی دنیا سے بے رغبتی کا یہ عالم کہ لفظ زہد کا حقیقی معنی جن کی حیات کے بوسے لے سلام ہو تجھ پر اور تیری شان زاہدانہ پر اے علی ! رضی اللہ عنہ۔
یہ دیگر صحابہ ہیں سبھی کہ سبھی زہد و ورع، صبر و توکل، خشیت الٰہی اور فقر و استغناء کے مرکب ہیں غرض کس کس کا ذکر کیا جائے اور کسے چھوڑا جائے سبھی کی حیات میں تصوف کے سبھی گلہائے رنگ رنگ کھلے پڑے ہیں۔ بات بہت دور نکل گئی ہم تصوف کی تلاش میں عشق کی گلیوں میں جا دھمکے۔ قصہ مختصر یہ کہ قرآنی حکم "قد افلح من تزکٰی" یعنی وہ فلاح پاگیا کہ جس نے تزکیہ نفس کیا، سے صریحا تعلیمات تصوف عیاں ہیں اسی طرح حدیث جبرائیل علیہ السلام سے لفظ "احسان" کی جو تعبیر ہمیں معلوم ہوتی ہے اسی درجہ احسان کو پا لینے کا نام ہمارے نزدیک حقیقت تصوف ہے۔