مصباح الحق، پاکستان کرکٹ کا “مردِ آہن” – شیخ خالد زاہد

پاکستانی کرکٹ کا آسمان ہمیشہ ستاروں سے جگمگاتا رہا ہے۔ ان میں محنت اور لگن سے ملک کا نام روشن کرنے والے ایسے کھلاڑی بھی ہیں جو کرکٹ کا حوالہ ہیں۔ جہاں کرکٹ کی بات ہوگی، ان کا نام بھی سامنے آئے گا۔ کہیں عظیم لیگ اسپن باؤلنگ میں عبد القادر کا تو تاریخ کے بہترین آل راؤنڈرز میں عمران خان کا حوالہ، شارجہ میں جاوید میانداد کے تاریخی چھکے کا تو ڈھاکہ میں شاہد آفریدی کے چھکوں کا، وسیم اکرم اور وقار یونس کی سوئنگ کا تو مصباح الحق کی خاک تلے سے پاکستان کو عروج کی بلندیوں تک پہنچانے کا۔
جب 2001ء میں پاکستان نیوزی لینڈ کے دورے پر گيا تھا تو دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ایک نوجوان کو بھی چنا گیا تھا، جس کا نام مصباح الحق تھے۔ اس ٹیم میں پانچ کھلاڑی ایسے تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنا تھا۔ مصباح کوئی متاثر کن کارنامہ نہ دکھا سکے اور دکھاتے بھی تو انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان کی موجودگی میں ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انہیں نجانے کیا کچھ کرنا پڑتا۔
بہرحال، 2007ء میں ہونے والا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تھا جس نے مصباح کو ایک پہچان دی۔ اس ورلڈ کپ نے مصباح کے لیے وہ “پلیٹ فارم” مہیا کیا جس کے بعد مصباح نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ جسے مصباح نے اپنا آخری موقع سمجھا، قدرت نے اسی کو مصباح کے عروج کا نقطہ آغاز بنا دیا۔ اپنی بردباری اور محنت و لگن کے ساتھ مسباح نے ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ میں بھی اپنی جگہ بنائی۔ یہاں تک کہ پاکستان کرکٹ تاریخ کے نازک ترین مرحلے پر قیادت کی ذمہ داری بھی ان کے کاندھوں پر رکھی گئی۔
2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کا حملہ ایسا دھچکا تھا، جس کے اثرات آج بھی پاکستان کرکٹ پر موجود ہیں۔ ابھی یہ زخم بالکل تازہ تھا کہ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے پاکستان کرکٹ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ جب ملک میں کرکٹ خاتمے کے قریب تھی تو مصباح نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، تعلیمی پس منظر اور ٹھنڈے مزاج کی بدولت اسے دوبارہ زندہ کیا۔ یہ مصباح الحق کا رویہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کے دور میں ملک میں کسی بڑے تنازع نے جنم نہیں لیا۔ وہ شاہد آفریدی کے ساتھ بھی جگمگاتے رہے، یونس خان کو بھی کھلاتے رہے اور اظہر علی، اسد شفیق اور بابر اعظم جیسے نوجوانوں کو بھی ایک مقام تک پہنچاتے رہے۔ سرفراز احمد کو نیا کپتان بنانے میں بھی مصباح نے کافی مدد دی۔
مصباح الحق مقامی سطح پر اپنے زوردار اور لمبے چھکوں کی وجہ سے مشہور تھے لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے دھیمے انداز کی وجہ سے انہیں “ٹک ٹک” کہا جانے لگا۔ لیکن آسٹریلیا جیسی ورلڈ کلاس ٹیم کے خلاف اپنے زمانے کی تیز ترین ٹیسٹ سنچری اور ففٹی بنا کر انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ کس کلاس کے بیٹسمین ہیں۔ مصباح کی موجودگي کا مطلب ہی یہ ہوتا تھا کہ حریف کو ایک اینڈ سے مشکلات کا سامنا ہوگا۔
دنیائے کرکٹ میں ایسے کھلاڑی بہت کم گزرے ہوں گے جنہوں نے ہر طرز کی کرکٹ میں اپنے جوہر دکھائے، خود کو منوایا اور بورڈ کو بھی احساس دلایا کہ موقع دینا ہے تو بھرپور طریقے سے دیں ورنہ چانس نہ دیا جائے۔ مصباح کی خوبی یہ تھی کہ زیادہ عمر ہونے کے باوجود وہ اپنے کیریئر میں کبھی “ان فٹ” ہوکر ٹیم سے باہر نہیں ہوئے۔
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے مصباح کا دور دیکھا، اور وہ دن بھی جب بدترین حالات کے باوجود پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ایک بنا۔ 2009ء کے بعد جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کرکٹ کا خاتمہ ہو جائے گا، ان کے سامنے مصباح جیسا “مرد آہن” ڈٹ گيا جس نے کبھی پاکستان اور پاکستان کرکٹ کو نیچے نہ آنے دیا۔
ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن ایسی ہار جس میں آپ حوصلہ اور ہمت بھی ہار جائیں، ناقابلِ تلافی نقصن پہنچاتی ہے۔ یہ مصباح کا خاصہ تھا کہ ہار کر بعد کھلاڑیوں کا عزم و حوصلہ بڑھاتے رہے۔ وہ حوصلہ افزائی کی افادیت سے صحیح معنوں میں واقف تھے
پاکستانی کرکٹ کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں مصباح الحق کو 2014 میں “پرائڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016 ء میں مصباح الحق کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے “اسپرٹ آف دی کرکٹ” ایوارڈ دیا۔ وہ پاکستان کو نمبر ون ٹیسٹ ٹیم پہنچانے اور آئی سی سی کی گرز نما ٹرافی اٹھانے والے بھی واحد پاکستانی کپتان تھے۔
بدقسمتی سے ہم ایک مردہ پرست قوم ہیں اور جو نہ رے اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ مصباح کا معاملہ بھی مختلف نہیں لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ وہ مستقل مزاجی کا ایسا پودا لگا گئے ہیں، جو جلد ہی ایک تناور درخت بن کر پاکستان کرکٹ کو بلندیوں پر لے جائے گا۔ شکریہ مصباح! آپ کو ہمارا سلام!

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam