دلیل، دلیل، دلیل - عبد الباسط بلوچ

ہر روز سنتا ہوں، مانگتا ہوں، پوچھتا ہوں، پڑھتا ہوں، سوچتاہوں، تلاش کرتاہوں ۔۔۔۔ دلیل!
سچ کی دلیل چاہیے، جھوٹ کی دلیل، حق کی دلیل، اور باطل کی دلیل ۔
پوچھا "دلیل کیا ہے ؟"
جواب ملا"یہ ازل سے ابد تک کا سلسلہ ہے "
ایک رحمان کی دلیل۔۔۔ ایک شیطان کی
رحمان نے حکم دیا۔۔۔ شیطان نے عقل کا سہارا لیا
انسان نے سب مان لیا۔۔۔
شیطان ذلیل ہو۔۔۔ انسان دلیل ہوا
نوح کی قوم کی تباہی۔۔۔ دلیل کا انکار ٹھہری
عاد و ثمود بھی عقل کے اسیر ہوئے۔۔۔ دلیل نے ان کو مار گرایا
ابراہیم نے دلیل کی بنیاد پر آگ کو گلے لگایا
رحمان نے دلیل ربوبیت بنا کر نکال لیا
دلیل نے موسیٰ کو فرعون سے ٹکرایا۔۔۔ دلیل ہی کامیاب ٹھہری
فرعون عبرت بنا۔۔ دلیل عزت بنی
دلیل نبی محتشمﷺ کو سردار بنایا
اور بوجہلوں کو عبرت
دلیل نے ہی منصور کو سولی پر چڑ جانا سیکھایا
سقراط کو زہر پینے کی جرأت بھی دلیل نے دی
دلیل نے ہر ظلم کو سہا، ہر فرعون کو موسیٰ سے مروایا
ہاں وقتی طور پر دلیل کو کچھ سہنا پڑا
لیکن کامیابی دلیل کی ہوئی
کتاب دلیل سے پوچھا دلیل کیا ہے ؟جواب ایک کیا 60 سامنے کھڑے ہوں گے
کبھی سلطان، کبھی آیت، کبھی حجت، کہیں برہان، کبھی علم، کبھی دلیل، سب اس کی عظمت کے نشان ہیں
پوچھا دلیل کی طاقت کیا ہے؟
جواب ملا۔۔۔
اگر نبی کے پاس ہو۔۔۔ تو شریعت بنتی ہے
اگر ولی کے پاس ہو۔۔۔ طریقت بنتی ہے
اگر استاد کے پاس ہو۔۔۔ قوم سنورتی ہے
اگر جج کے پاس ہو۔۔۔ انصاف بانٹتی ہے
اگر وکیل کے پاس ہو۔۔۔ حقیقت بنتی ہے
اگر قلم کے پاس ہو۔۔۔ تو تلوار کیا چیزہے
اگر صحافی کے پاس ہو۔۔۔ تو تعمیر ملت
اگر عالم کے پاس ہو۔۔ امامت کے مرتبے پر فائز
اگرطالب حق کے پاس ہو۔۔۔ تومنزل کی رہنمائی
جب یہ کچھ ہے تو وہ دلیل والا کیا کما ل ہو گا؟
جب دلیل نام ہی کامیابی، مقدر، نصیب کے شاہسواروں کا ہے تو ہر دور میں اس کو پہلا نمبر ہی ملے گا
انداز، طریقہ کار اور حالات مختلف ہو سکتے ہیں
لیکن مانی جا ئے گی تو دلیل! منوائی جائے گی تو دلیل!
دلیل نے ہمیشہ بے دلیلوں کو ذلیل کیا۔ دھونس، دھاندلی، منافقت کے پردے ہٹائے اور پرچم رب العالمین کو بلند کیا
دلیل نے قلم کو تقدس دیا، حق کو جرأت دی، باطل کا تعاقب کیا اور خیر کو عام کیا
تو پھر کیوں نہ ہر ایک کہے؟ دلیل بھی کمال، دلیل والے بھی کمال
دلیل کے پرچاروں، قلم کاروں، اورذمہ داروں کو
دلیل کو دلیل حق بنانے پر سلام ۔۔۔ اس دلیل کے ساتھ
"کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہو، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے ؟جس کے لیے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا، اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کا پیرو ہے" (سورہ محمد آیت نمبر ۳۸)