مسلم سیاسی اور مذہبی قیادت کی بے وزنی- ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مودی سرکار‘ جس وقت تک آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے اپنے تین سال مکمل کرچکی ہوگی۔ تین برس یعنی ایک ہزار سے زائد دن گذر گئے۔ اب بھی بہت سے ذہنوں میں یہ سوال اُبھر رہے ہیں کہ آیا اچھے دن آگئے یا آنے والے ہیں؟ مسٹر نریندر مودی نے ہمیشہ یہی کہا تھا کہ اچھے دن آنے والے ہیں یا اچھے دن آرہے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ وضاحت نہیں کی ’’یہ اچھے دن کس کے ہیں‘‘۔ ان کے اپنے، بی جے پی کے یا ہندوستانی عوام کے۔ جہاں تک مودی یا بی جے پی کا تعلق ہے یقینی طور پر ان کے لئے یہ اچھے دن ہیں بلکہ یہ ان کا سنہرا دور ہے۔ کیوں کہ مرکز میں اقتدار کے بعد ہندی ریاستوں میں بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں اور بعض مقامات پر بلدی انتخابات میں جس طرح سے کامیابی حاصل کی وہ تصدیق کرتی ہے کہ بی جے پی کے واقعی اچھے دن آگئے۔ تین برس کے دوران قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسٹر مودی نے اپنی اہمیت اور مقبولیت نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس میں اضافہ کیا۔

تین برس کے دوران انہوں نے 6براعظموں کے 45ممالک کا دورہ کیا جس پر 288.1کروڑ روپئے کے مصارف ہوئے جبکہ ان کے کابینی رفقاء یا حکومت سے وابستہ عہدیداروں کے غیر ملکی دوروں پر 567 کروڑ روپئے مصارف ہوئے۔ خیر منموہن سنگھ نے بھی اپنے دس سالہ دور حکومت میں جو دورے کئے اس پر ان کے اوران کے کابینی رفقاء پر 699کروڑ روپئے کے مصارف ہوئے تھے۔ اس لئے اگر منموہن سنگھ سے ان کا تقابل کیا جائے تو کم از کم سفری اخراجات میں مودی نے ابھی تک کفایت شعاری سے کام لیا ہے‘ مگرمنموہن کے مصارف دس برس کے اور مودی اینڈ کمپنی کے مصارف صرف تین برس کے ہیں۔ رہی بات ان کے لباس کی‘ تو کجریوال نے 2016ء میں کہا تھا کہ مسٹر مودی کے لباس پر جتنے مصارف ہوئے ہیں‘ وہ دہلی کے بجٹ سے زیادہ ہیں۔ گذشتہ سال تک وہ یہی کوئی 70کروڑ روپئے کے کپڑے پہن چکے تھے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں وزیر اعظم ہونے کا یہی ایک تو فائدہ ہے کہ بھلے ہی نصف فیصد آبادی ننگ دھڑنگ رہے‘ ان کی نمائندگی کرنے والوں کے شان و شوکت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
مودی سرکار کے تین برس مکمل ہونے پر کانگریس نے الزامات کے ساتھ حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنایا ہے۔ ویسے بھی کانگریس کے پاس کافی وقت ہے۔ الزامات، تقاریر، بیان بازی میں وقت گذاری کے علاوہ اور کیا کرنا ہے۔ دوسری جماعتیں بھی تین سالہ کارکردگی کے آئینہ میں مودی سرکار کو اس کا چہرہ دکھارہی ہیں۔ جیسے سب سے بڑی اسکیم ’’سوچھ بھارت ابھیان‘‘ ہے۔ دعوے بہت ہیں‘ ملک کے 4041 شہروں، قصبوں میں اس اسکیم کے تحت بیت الخلاؤں کی تعمیر ہوئی ہے۔ کافی بجٹ منظور کیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ 2017ء کے اوائل تک منظورہ بجٹ کا صرف ایک فیصد ہی خرچ کیا جاسکا۔ مودی جی بہت اچھے مقرر ہیں۔ تقریر کرتے ہیں‘ تو الفاظ سے جادو کرتے ہیں۔ نوجوان نسل ان کے لفظوں کے سیلاب میں بہہ جاتی ہے۔ اسٹینڈ انڈیا، اسمارٹ انڈیا، اسٹارٹ اَپ انڈیا، میک اِن انڈیا، وغیرہ وغیرہ۔ روزگار کی فراہمی کے وعدے دعوے ہوتے رہے۔ مگر نوجوان نسل اچھے دن اور روزگار کے انتظار میں ہیں۔ شاید 2019ء میں مزید وعدوں کے ساتھ مودی جی نئے خواب دکھائیں گے۔
بہرکیف! سہ ماہی ایمپلائمنٹ سروے کے مطابق اکتوبر 2016ء جنوری 2017ء کے درمیان 1.22لاکھ روزگار یا ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ اپریل اور جولائی 2016ء کے درمیان 77ہزار اور جولائی؍اکتوبر کے دوران 31افراد ہزار کو ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ کئی شعبہ جات میں ملازمتوں کا تناسب کم ہوگیا۔ جیسے کنسٹرکشن انڈسٹریز میں ملازمتیں نہ ہونے کے برابر ہے۔ آٹوموبائل انڈسٹری میں بھی روبوٹس نے کئی کئی ملازمین کی جگہ لے لی۔ کنسٹرکشن اور آٹو موبائل دو ایسے شعبے ہیں جہاں نوجوانوں کو روزگار کیلئے رہتی ہے۔ نئی ملازمتوں کیلئے نئے پراجکٹس کی ضرورت ہے۔ اور نئے پراجکٹس کیلئے نئے انوسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود انوسٹمنٹس مایوسن کن ہیں۔ OECD کے حالیہ سروے کے مطابق 15سال سے 29سال کی عمر کو 30فیصد نوجوان بے روزگار ہیں۔ یہ فیصد تناسب چین کے نوجوانوں کی بیروزگاری کے مقابل میں دو گنا ہے۔ جہاں بیروزگاری کا تناسب 14.6فیصد ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا اور کیش لیس سوسائٹی کے نام پر مودی جی نے ملک کو واقعی قلاش بنادیا ہے۔ ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے تک تے یہ تاثر عام ہوچکا تھاکہ کسی بھی ہندوستان کے بُرے وقت کا ساتھی اس کا ATM کارڈ ہے۔ جب چاہے جتنی چاہے رقم ملک کے کسی بھی اے ٹی ایم سنٹر سے نکالی جاسکتی تھی۔ کالے دھن پر روک لگانے یا کالے دھن کی بیرونی ممالک سے واپسی کے وعدوں کی عدم تکمیل پر تنقید سے بچنے اور عوام کو مسائل میں الجھاکر ان کے سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کے صلاحیتوں کو ختم کرنے کی غرض سے 1000 اور 500 روپئے کی نوٹس اچانک منسوخ کردےئے گئے۔ حرام کی کمائی والے تو محفوظ رہے‘ جن کی اپنی محنت کی کمائی تھی وہ اس سے محروم ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم نے ہاتھ جوڑ کر ہندوستانی عوام سے 50دن کی مہلت مانگی تھی کہ 50دن بعد سب کچھ بہتر ہوجائے گا۔ کچھ بہتر تو نہیں ہوا‘ عوام ہندوستانی بدترین حالات میں زندگی گذارنے کا عادی ضرور ہوگیا۔ مودی جی کی مہلت کے دن کب کے بیت چکے ہیں‘ 90فیصد اے ٹی ایم سنٹرس میں کیاش نہیں ہیں۔ اے ٹی ایم سنٹرس بند کئے جاچکے ہیں۔ جو کھلے ہیں‘ وہاں مشینیں کام نہیں کرتیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ ڈیجیٹل پے منٹ کو عام کرنے کی غرض سے جان بوجھ کر ایسا کیا جارہا ہے‘ چوں کہ مودی جی کے ہمخیال، ہمنوا، حلیف جماعتوں، تنظیموں، اداروں اور افراد کی ضروریات کی کسی نہ کسی طریقہ سے تکمیل ہورہی ہے۔ ان کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس نے بڑے نوٹ کے چلن کی حمایت کی تھی اس لئے ہر شہری کو اس کے حق سے محروم کردےئے جانے کے باوجود نہ تو کوئی احتجاج ہوا نہ ہی ہنگامہ!
مسٹر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک کے حالات میں کوئی نمایاں مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ شمالی ہند کے علاقوں میں فرقہ پرستی‘ نفرت میں اضافہ ہوا۔ اخلاق، پہلو خان جیسے المناک واقعات پیش آئے۔ یو پی میں ان کے ہم خیال اور مستقبل میں ہونے والے امکانی رفیق آدتیہ ناتھ یوگی کو اقتدار ملا تو فرقہ پرستوں کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے۔ گؤ رکھشکوں کی جانب سے علی الاعلان حملے‘ روزمرہ کے معاملات میں داخل ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں علیگڑھ میں گھر کے اندر بھینس کے ذبیجہ پر بھی ہنگامہ آرائی کی گئی۔ نام نہاد گؤ رکھشکوں نے بھینس ذبح کرنے والوں کو پولیس کی موجودگ میں زدو کوب کیا۔ اور پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کئے۔
مسٹر مودی کی یہ خوش نصیبی ہے کہ انہیں کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے جو بے لگام، بے سمت ہے۔
مسلمانوں کو بہت ہی خوبی کے ساتھ مختلف خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان کی طاقت کو کم کردیا گیا۔ 2014ء کی پارلیمانی الیکشن اس کے بعد 2017ء کے یوپی الیکیشن میں بی جے پی یا این ڈی اے نے مسلم ووٹ بینک کے تصور کو ہی ختم کردیا تھا۔ اب مسلم پرسنل لاء کے معاملات میں اُلجھاکر رہی سہی طاقت کو بھی ختم کردیا ہے۔ علمائے کرام کی بڑی تعداد مسلمانوں کی نظروں سے گرچکی ہے۔ اگرچہ کہ بعض علمائے کرام اور علماء کی بھیس میں شاطر سیاست دانوں نے بظاہر ملت کی بھلائی کے لئے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے جس پر اعتراض تو نہیں کیا جانا چاہئے تاہم علماء اور قائدین کا جو بھرم جو ساکھ قوم میں تھی وہ یقینی طور پر متاثر ہوئی ہے۔اس کا اثر مستقبل میں ہوگا۔ قوم و ملت کا شیرازہ پہلے ہی سے بکھرا ہوا تھا‘ اکابرین ‘ اپنے اپنے مفادات کی خاطر خانوں میں بٹ گئے۔ مودی حکومت کے تین سالہ دور کا یہ بھی ایک اہم کارنامہ سمجھا جاسکتا ہے۔ بڑے بڑے جامعات کے فارغ التحصیل‘ کئی کئی کتابوں کے مصنفین جن پر کبھی قوم کو ناز ہوا کرتا تھا اب بہکی بہکی بے پَر کی باتیں کہنے لگے ہیں۔ کوئی طلاق ثلاثہ پر حکومت کے موقف کی ستائش کررہا ہے تو کسی کو فکر ہے کہ آخر گائے کو قومی جانور کا درجہ کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔ان تین برسوں میں مسلمان جس قدر بے بس اپنے آپ کو محسوس کررہا ہے شاید ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دو سال اور باقی ہے۔ ان دو برسوں میں کیا کچھ ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔آر ایس ایس کے ذہنی، فکری تربیت ان کے قائدین کی ان کی اپنی قوم کیلئے بے لوث اور ا یک نصیب العین کے ساتھ جدوجہد کا پھل بی جے پی کے ساتھ ساتھ اُس قوم کو بھی مل رہا ہے جو ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اُن میں اور ہم میں فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ان کی قیادت خواب دکھاتی بھی ہے اور اسے حقیقت میں بدلنے کیلئے جدوجہد بھی کرتی ہے اور ہماری مذہبی و سیاسی قیادت ماضی کی سنہری یادوں میں قوم کو محو رکھتی ہے‘ ظاہر ہے ماضی میں کوئی بھی قوم کو اپنا مستقبل سے کیا لینا دینا ہے!(

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam