اس دورمیں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا- محمدذبیح اللہ عبدالرؤف تیمی

تعلیمی پسماندگی مسلمانوں کوگذشتہ کئی صدیوں سے تعاقب کررہی ہے ،پوری دنیامیں مسلمان تعلیمی اعتبارسے پچھڑے ہوئے ہیں یہ بات لگ بھگ مسلم ہے ،مسلم دانشوران ،علماء کرام اورمسلم ممالک اس بات کاکھلے دل سے اعتراف بھی کرتے ہیں۔ گاہے گاہے تعلیمی زبوحالی پرکانفرنسیں اورسیمیناریں صوبائی، ملکی اوربین الاقوامی سطحوں پرمنعقدکی جاتی رہتی ہیں۔مختلف مجلات ورسائل اورجرائدواخبارمیں بھی اس موضوع سے متعلق ہمدردان قوم وملت خامہ فرسائیاں کرتے رہتے ہیں۔لیکن ان تمام تر احساسات واعترافات، کدوکاوش اورجدوجہدکے باوجود مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دورہوتی نظرنہیں آتی ہے۔

بلکہ دن بہ دن مسلمان پستی وپسماندگی کی قعرمذلت میں گرتے ہی جارہے ہیں۔نہ کوئی پیش قدمی،نہ کوئی ایجاد،نہ کوئی کھوج،نہ کوئی دریافت،نہ سائنس میں،نہ ٹیکنالوجی میں،نہ طب میں،نہ اقتصادیات میں،نہ طبیعات میں،نہ کیمیامیں،نہ ارضیات میں،نہ فضائیات میں،نہ بحریات میں،نہ دین میں اورنہ دینیات میں غرضیکہ کسی بھی شعبہائے حیات میں دوردورتک نہ کچھ سننے میں آتاہے اورنہ دیکھنے میں ۔
غور طلب ہے کہ گذشتہ کئی صدیوں سے مسلمانوں نے علمی اورسائنسی میدان میں کوئی قابل تذکرہ کارنامہ انجام نہیں دیاہے بلکہ ایک سوئی تک بھی ایجادنہیں کیاہے۔مسلم افراداورممالک کلی طور پرغیرمسلموں کی ایجادات واختراعات پرمنحصرہوکررہ گئے ہیں۔ ان کے پاس اپنی مشکلات ومصائب کوبھی حل کرنے کے لئے افراداورآلات میسرنہیں ہیں،حدتویہ ہے کہ اہم ترین کاموں میں بھی یہ غیرمسلموں کے مشورے کے محتاج دکھائی دیتے ہیں اورہروقت ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں جیساکہ کتادروازے کے سامنے ٹکٹکی لگائے ہوئے بیٹھارہتاہے کہ کب اس کامالک اس کے سامنے نوالہ ڈالے گاجس سے وہ اپنی پیٹ کی آگ بجھائے گا۔بات کڑوی اورتلخ ضرورہے مگرمبنی برحقیقت ہے۔آج اغیار ہم کووہی دیتے ہیں جووہ چاہتے ہیں، ہماری مرضی کے مطابق وہ کچھ بھی نہیں کرتے مگرہم ان کی مرضی کے مطابق سب کچھ کرنے پرمجبورہیں،بے حسی اورغفلت شعاری کاعالم یہ ہے کہ وہ مسلم ممالک جن کے یہاں پٹرولیم اورمعدنیات کے ذخائرہیں وہ بھی خودسے ان کے استعمال کرنے کے قابل نہیں، ان کی جگہوں کی تعیین، ان کے لئے آلات ومشین کی بناوٹ اورانہیں چلانے کے لیے افرادکی تیاری کاسہرا بھی غیرمسلموں کے سربندھتاہے۔ اگرچنداسلامی ممالک نے کچھ آلات واسلحے بنائے بھی ہیں تو ان کی ٹیکنالوجی بھی غیروں سے مستعار ومستفادہے،سچ ہے ۔
چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کچل گئے ہیں
آج مسلمان ٹھہراو و انجماد کا شکارہوگئے ہیں ان کے اندرحس وحرکت نہیں ہے،جب کہ دنیاکی وہ قومیں جنہوں نے چلناشروع کیااور جنبش وحرکت کیاوہ آج بہت بڑی طاقت بن گئی ہیں، اس کی کئی مثالیں موجود ہیں مگر ہم صرف دو مثالیں یہاں پیش کرناچاہیں گے۔ایک اسرائیل یعنی ملک یہودکی،دوسری ہندوستان یعنی ملک کفارکی۔ان دونوں ملکوں کاوجودلگ بھگ ایک ہی دہے میں ہوا،1948ء میں اسرائیل کاوجودمکار وعیار انگریزوں کے ذریعے اکلوتے ملک یہودکی شکل میں ہوا،اس سے قبل اس قوم کودنیامیں کہیں قراروثبات حاصل نہیں تھا،ان کوجس وقت قرارملا اس وقت ان کی آبادی برائے نام تھی،1953ء میں ان کی آبادی ایک لاکھ تھی۔جودنیاکی آبادی کاایک حقیرساحصہ ہے۔مگراس وقت اس ایک لاکھ میں دوفیصدلوگ ڈاکٹرتھے،اب حالت یہ ہے کہ یہودی پوری دنیاکی سیاست، معیشت، دولت،حکومت، ذرائع ابلاغ،وسائل اعلام، سائنس وٹیکنالوجی الغرض سارے اسباب وعوامل پرحاوی ومسلط ہیں. دنیاکاسب سے بڑاعلمی اعزازنوبل انعام حاصل کرنے والے ۷۰ فیصدیہودی ہیں اور۳۰فیصدمیں ساری دنیاکے سائنسدان اورادیب وماہرین ہیں۔کیایہ سب یونہی ان کی جھولی میں آگئے ہیں ؟نہیں !ہرگزنہیں !!یہ سب علم وفن میں ان کی غیرمعمولی سبقت وتقدم کانتیجہ ہے۔
دوسری مثال ہندوستان کی ہے،1947ء میں ہندوستان کوانگریزوں کی غلامی سے نجات ملی اوراس وقت سے اس کی نئی زندگی کی شروعات ہوئی،آج اس کوآزادی نصیب ہوئے صرف 69سال ہوئے ہیں لیکن اس قلیل مدت میں ہندوستان نے غیرمعمولی پیش قدمی کی ہے۔ہرشعبے میں چاہے وہ تعلیم ہو،تمدن ہو، سیاست ہو، معیشت ہو، زراعت ہو، سائنس ہو، ٹیکنالوجی غرضیکہ ہرمیدان میں زبردست ترقی نظر آتی ہے ، اس کی چوطرفہ ترقی کا نتیجہ ہے کہ آج یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا دعویدار بن گیاہے۔اوردنیامیں اس کوقدرکی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔
ہندوستان اوراہل ہندکے باشندوں کویہ ترقیاں کیا صرف ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرفردامیں مل گئی ہیں ،نہیں !ہرگزنہیں !!بلکہ ان کے پیچھے ان کی تعلیمی ترقی اورسائنسی پیش قدمی کادخل ہے،سچ ہے کہ کوئی قوم تعلیم کے بغیرترقی نہیں کرسکتی ،تعلیم سے ہربیماری دورہوسکتی ہے اوراگرتعلیم نہیں ہے توساری بیماریاں درآئیں گی۔مسلمانوں کی جویہ حالت ہے وہ صرف تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے ہے۔جس وقت یہ تعلیم وفن میں سبقت رکھتے تھے اس وقت حاکم کی حیثیت سے تھے ،جب سے ان کاتعلیمی زوال شروع ہوااس وقت سے یہ دنیامیں ذلیل وخوارہیں،مظلوم ومقہورہیں اورمجبورومحتاج ہیں۔
اس دورمیں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا
ہے خون فاسد کے لئے تعلیم مثل نیشتر
اس پسماندگی وپستی اورذلت وخواری کے لئے امت خود قصوروارہے۔ اورکچھ حدتک اس امت کے کٹھ ملے قصوروار ہیں، جنہوں نے علم کوصرف دینی علم سمجھ اورسمجھارکھاہے اورعلم کے دائرے کویہ کہتے ہوئے تنگ سے تنگ ترین بنادیاہے اورمسلم ذہن ودماغ کوبھرمادیاہے کہ ’’سائنس اورسائنس دانوں کواللہ تعالی نے مسلمانوں کاخادم بنایاہے۔ ان کے ایجادات وانکشافات سے بقدرضرورت مسلم قوم مستفیدہوتی رہے گی۔ دینی علوم آخرت کا ضامن ہیں جبکہ دوسرے علوم فسادوبگاڑکے داعی ہیں اوردینی علوم ہی صرف الٰہی اورنبوی علوم ہیں باقی علوم صرف دنیاوی ہیں‘‘حالانکہ قرآن کریم اوراحادیث نبویہ میں کہیں بھی علم کوصرف دینی علم تک محدودنہیں قراردیاگیاہے، علم کے بارے میں جوآیتیں نازل ہوئی ہیں وہ مطلق علم پردلالت کرتی ہیں ۔پہلی وحی میں ہی علم کے دائرے کوہمہ گیربتاتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایاہے:’’علم الانسان مالم یعلم‘‘[سورہ العلق: ۵]یعنی انسان کووہ سب سیکھایاجووہ نہیں جانتاتھا۔اوراب تک انسان نے اس دنیامیں جن نامعلوم اسرار ورموزسے پردہ اٹھایاہے اورجوبھی ایجادات وانکشافات کیے ہیں وہ سب اس آیت کے ضمن میں شامل ہیں ۔اسی طرح قرآن نے سب سے پہلے انسان آدم علیہ السلام کی حکایت کونقل کرتے ہوئے کہاہے: ’’وعلم آدم الاسماء کلھا‘‘[سورہ البقرہ:۳۱]یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان ساری اشیاء کا علم دیا جو زمین وآسمان میں ہیں، اور نبیﷺ نے بھی فرمایاہے:’’طلب العلم فریضۃعلی کل مسلم‘‘ [مسند احمد، صححہ الالبانی فی الجامع الصغیر برقم: ۳۹۱۳]علم کاسیکھنا ہرمسلمان مردوعورت پرفرض ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ان تینوں نصوص شرعیہ کے اندرکہیں بھی علم کوصرف علم دین سے تعبیر کیاگیاہے؟ ہرگزنہیں!!کوئی مفسر یامحدث شایداس کادعوی نہیں کرسکتاہے۔ دینی علوم کا سیکھناتوایک صحیح مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے ہی مگراس کے علاوہ خلیفۃ الارض ہونے کے لئے باقی علوم کاسیکھنابھی نہایت ضروری ہے۔
اگرمسلمان اپنے دین میں گہرائی سے غوروخوض کریں اورشریعت اسلامیہ کے مقاصدکواچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں توانہیں دین کے علاوہ دوسرے علوم کوسیکھنے کی رہنمائی ملے گی۔ دین اسلام کلیات خمسہ یعنی عقل،دین،مال،جان اورآبروکی حفاظت وصیانت کی دعوت دیتا ہے ،چنانچہ عقل کی حفاظت کا مطلب ہے ان علوم کا سیکھنا جن کے ذریعے عقل میں افزائش اور پختگی آتی ہے، دین کی حفاظت کامطلب ہے اس کے علوم وفنون کا سمجھنا اور ان میں گہرائی حاصل کرنا،مال کی حفاظت کا مطلب ہے کہ شریعت اسلامیہ کے اصول وضوابط کے مطابق مال کوبڑھانااورمعیشت واقتصادیت کی معرفت حاصل کرنا،نفس وجان کی حفاظت کامطلب ہے علم طب کاسیکھنا، جس کے ذریعے بدن کوبیماریوں سے بچایاجائے اورصحت مندزندگی گزاری جائے۔اسی طرح علم نفس سے مراد علم نفسیات بھی ہے جس میں دماغی پریشانیوں کاحل پیش کیا جاتاہے اورجہاں تک ناموس وآبروکی حفاظت ہے تواس سے مرادعلم سماجیات ہے جس میں معاشرتی تعلقات اورافرادوسماج کے باہمی روابط ورشتے کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔اس طرح اگر مسلمان دیکھیں تومعلوم ہوگاکہ ان کا دین صرف دینی تعلیم کوہی علم نہیں قراردیتاہے بلکہ ہروہ علم جوافرادوسماج کے لئے سودمند اورنفع بخش ہو،اس کوسیکھنے اورحاصل کرنے کوضروری قراردیتاہے کیوں کہ اس کے بغیر دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ، یہ قوم اسی وقت انقلاب برپا کرسکتی ہے اور غیر قوموں کے قدم سے قدم ملا کر چل سکتی ہے جب دینی علوم کے ساتھ سائنسی علوم وفنون میں بھی مہارت حاصل کرے، عصری علوم کو تبرکا نہیں بلکہ لازما حاصل کرے جیسا کہ ان کے اسلاف کرام نے حاصل کیا تھااور جن کی وجہ سے وہ دنیا میں سرخرو تھے، علامہ اقبال نے اسی کا رونا رویا ہے۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسمان نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارہ

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam