شیر درندہ ہے مگر جنگل کا بادشاہ بھی ہے؟ ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

صدر جنرل مشرف پورے سیاستدان ہو گئے ہیں انہوں نے ایک سیاسی بیان دیا ہے آئندہ انتخابات میں بھی نواز شریف اور ن لیگ دھاندلی سے جیت جائے گی۔ جب کوئی جرنیل سیاسی حکومت کا تختہ الٹتا ہے تو وہ سیاستدان بھی ہوتا ہے۔ اس میں لفظ ”دھاندلی“ بہت سیاسی ہے۔ مگر جنرل مشرف کی طرف سے نواز شریف کو آئندہ کامیابی کی نوید بہت فکر انگیز ہے۔
پاکستان میں سیاسی حکومت کو میں جمہوری حکومت نہیں کہتا۔ سیاسی حکومت کے مقابلے میں غیر سیاسی حکومت ہوتی ہے۔ جب جنرل مشرف صدر پاکستان تھے تو ان کے علاوہ سارے صوبوں میں سیاستدانوں کی حکومت تھی۔ مشرف کابینہ میں بھی تقریباً سارے وزراءسیاستدان تھے۔
حتیٰ کہ برادرم شیخ رشید بھی تھے جو آج کل سیاست کے بہت بڑے چیمپئن ہیں وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ سات آٹھ دفعہ وزیر رہا ہوں۔ وہ صدر جنرل مشرف کے بھی وزیر تھے اور نواز شریف کے بھی وزیر تھے۔ نواز شریف نے محبوب و محترم مجید نظامی کی سفارش پر پہلی بار ان کو وزیر بنایا تھا۔ یہ برادرم شیخ صاحب کے لئے ایک کریڈٹ ہے جس کی کریڈیبلٹی کو بھی وہ سمجھتے ہیں۔
لیکن بہرحال سات آٹھ بار وزیر رہنے والا تین چار بار غیر سیاسی حکومتوں کا بھی وزیر ہو گا یہ معلوم نہیں کہ اب نواز شریف انہیں وزیر نہیں بناتے یا وہ وزیر نہیں بنتے؟ ویسے وہ دبنگ آدمی ہیں۔ جب بولتے ہیں تو اپنے دل کے سارے دروازے کھولتے ہیں۔ نواز شریف نے ان کے مقابلے میں طلال چودھری اور دانیال عزیز کو رکھا ہوا ہے۔ انہیں مریم نواز کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ ان دونوں سے مریم اورنگ زیب بہتر ہیں۔ وہ بڑے جچے تلے انداز میں بولتی ہیں۔ برادرم پرویز رشید کے مقابلے میں ان کی پرفارمنس بہت بہتر ہے۔
میرے ساتھ بہت سیاستدان دوست لڑتے ہیں کہ تم جمہوری اور غیر جمہوری حکومت میں کوئی خاص فرق نہیں کرتے۔ تو پھر فوجی حکومت کے مقابلے میں کیا حکومت ہو گی۔ میں نے کہا کہ غیر فوجی۔ جیسے سیاسی حکومت کے مقابلے میں غیر سیاسی؟
نواز شریف نے مریم نواز کو وزیر نہیں بنایا۔ مریم اورنگ زیب کو بنا دیا۔ پمز ہسپتال میں مریم نواز کے پاﺅں میں تکلیف کے لئے کیپٹن صفدر بھی ساتھ تھے اور مریم اورنگ زیب بھی ساتھ تھیں مگر بات صدر جنرل مشرف کے ایک سیاسی بیان سے شروع ہوئی تھی۔ یہ بات جنرل صاحب بھی جانتے ہیں کہ روایتی سیاست میں شریف فیملی بہت آگے ہے اور انتخابی سیاست میں تو بہت آگے ہے۔
مگر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اب ”صدر“ زرداری بھی میدان میں آ گئے اور باری بھی پیپلز پارٹی کی یعنی ”صدر“ زرداری کی ہے۔ ان کی ”سیاست فہمی“ کی ایک بات یہ بھی ہے کہ زرداری صاحب کے لئے ملک کے وزیراعظم کے طور باتیں چلائی جا رہی ہیں۔ مگر میرا دل نہیں مانتا۔ میں سیاست کے معاملات کو نہیں سمجھتا مگر میرا دل کہتا ہے کہ ”صدر“ زرداری دوبارہ صدر بننے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے شیر کے لئے ایک ایسی بات کی ہے جو پہلے نہیں ہوئی۔ اب تک شیر کے لئے پازیٹو بات ہوتی رہی ہے۔ زرداری صاحب نے بہت زور دے کے کھلم کھلا کہا ہے کہ ”شیر درندہ ہے۔ ہر چیز کو کھا جاتا ہے“ زرداری صاحب کی یہ بات بہت انوکھی سیاسی بات ہے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ شیر درندہ ہے مگر اسے جنگل کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے؟
نواز شریف کی جمہوریت میں شاہی انداز اور ٹھاٹھ باٹھ ظاہر کرتے ہیں کہ شریف فیملی کے شاہانہ معاملات پاکستانی سیاست کا ایک سمبل بن گئے ہیں۔ صدر زرداری بھی اب ان کی طرف کھل کر اشارے کر رہے ہیں۔ ن لیگ کے شیر کا بڑا چرچا ہے مگر ”صدر“ زرداری کی یہ بات پہلی بات ہے کہ بامعنی بھی ہے اور منفی بھی ہے۔ پاکستانی سیاست کے جنگل میں طاقت کا استعمال بڑا ضروری ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں پر ایک نظر ڈال لیں!