وہ کہتا تھا- جاوید چوہدری

نیسلے میوزیم وے وے کی ایک بڑی ’’اٹریکشن‘‘ ہے‘ یہ عجائب گھر نیسلے کی پہلی فیکٹری میں بنایا گیا‘ ہنری نیسلے نے 1868ء میں وے وے میں اپنی پہلی فیکٹری لگائی تھی‘ یہ فیکٹری بچوں کی غذا (farine lactee) بناتی تھی‘ عمارت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانہ برد ہو گئی‘ کمپنی نے اکیسویں صدی میں یہ فیکٹری واپس لی اور یہاں جدید ترین میوزیم بنا دیا‘ یہ میوزیم لائٹ‘ ساؤنڈ‘ اسکرین اور کیمرے کا خوبصورت امتزاج ہے‘ اس کے دو ہال ہیں‘ پہلے ہال میں نیسلے کمپنی کی تاریخ دکھائی جاتی ہے‘ ہنری نیسلے کون تھا‘ اس نے پہلی پراڈکٹ کیسے بنائی‘ کمپنی کیسے بنی‘ یہ ایک پراڈکٹ سے ساڑھے آٹھ ہزار مصنوعات اور ایک شہر سے 86 ملکوں تک کیسے پہنچی اور یہ کمپنی دنیا کے کس کس خطے میں کیا کیا تبدیلیاں لے کر آئی پہلا ہال وزیٹرز کو یہ تمام معلومات دیتا ہے‘ یہ ساری کہانی تصویروں‘ فلموں اور ٹو ڈی اور تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ذریعے بتائی اور سنائی جاتی ہے اور دیکھنے والا اس میں بہتا چلا جاتا ہے‘ اس ہال کا اختتام ایک گول تھیٹر میں ہوتا ہے۔
تھیٹر کے چاروں اطراف گولائی میں اسکرین لگی ہے‘ وزیٹرز درمیان میں بیٹھ جاتے ہیں اور اسکرین پر ایک ’’گلوبل پارٹی‘‘ چلنی شروع ہو جاتی ہے‘ پارٹی میں دنیا کے ان تمام ملکوں کے لوگ شامل ہیں جہاں جہاں نیسلے کمپنی موجود ہے‘ یہ پارٹی چلتی رہتی ہے یہاں تک کہ اچانک آپ خود کو بھی اس پارٹی کے درمیان بیٹھے دیکھتے ہیں اور آپ حیران ہو جاتے ہیں‘ یہ جدید ترین کیمرہ ٹرک ہے‘ یہ ٹرک دیکھنے والوں کو خوشی سے چیخ مارنے پر مجبور کر دیتا ہے‘ دوسرا ہال جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے‘ آپ خوراک کی جدید ٹیکنالوجیز‘ جدید مصنوعات اور جدید ترین ریسرچ کی گیلریز سے ہوتے ہوئے ایک گول میز پر پہنچتے ہیں‘یہ میز گول گھومتا رہتا ہے‘ اس پر شیشے کی چھ درجن شیلڈز رکھی ہیں‘ آپ ان میں سے کوئی شیلڈ اٹھاتے ہیں‘ اپنے سامنے موجود سکینر پر رکھتے ہیں اور آپ کی اسکرین پر ایک ’’منی فلم‘‘ چلنے لگتی ہے‘ میز کی ہر شیلڈ خوراک سے متعلق کوئی ایشو کور کرتی ہے‘ آپ شیلڈز بدلتے جاتے ہیں اور آپ کی معلومات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے‘ میوزیم کا آخری حصہ سمجھایا نہیں جا سکتا صرف دیکھا جا سکتا ہے‘ یہ ورزش اور ذہنی صلاحیت کو بڑھانے کا ایک وسیع عمل ہے‘ آپ کے سامنے پلاسٹک کے درجن بھر کیبن اور چھوٹے ہال بنے ہیں۔
آپ وہاں کھڑے ہوتے ہیں اور ہاتھوں‘ پاؤں اور آنکھوں کے اشارے سے دیوار پر چلتے ہوئے سایوں اور تصویروں کو کنٹرول کرتے ہیں‘ یہ حصہ بھی ایک نیا تجربہ تھا‘ میوزیم کی کافی شاپ‘ سووینئر شاپ اور فرنٹ ڈیسک بھی قابل دید تھا‘ ہم جس طرف دیکھتے تھے ہم تعریف پر مجبور ہو جاتے تھے‘ نیسلے میوزیم کے وزٹ کے دوران ڈاکٹر شہزاد عالم اور وقار احمد سے ملاقات ہوئی‘ ڈاکٹر شہزاد عالم پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کے چیئرمین ہیں‘ یہ پاکستان میں ریسرچ اور پڑتال کا سب سے بڑا ادارہ ہے‘ ڈاکٹر شہزاد عالم انتہائی پڑھے لکھے‘ قابل اور پاکستانیت سے لبالب انسان ہیں‘ یہ نیسلے کے ریسرچ سینٹر کے وزٹ کے لیے آئے تھے‘ میں ان کی معلومات‘ کام سے لگن اور ملک سے محبت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا جب کہ وقار احمد نیسلے پاکستان میں کارپوریٹ ایشوز کے سربراہ ہیں‘ یہ ہنس مکھ‘ متحرک اور دوست بنانے کی صلاحیت سے مالامال انسان ہیں‘ میں نے ان کی کمپنی کو بھی جی بھر کر انجوائے کیا‘ نیسلے کا گلوبل ہیڈ کوارٹر ہو‘ ریسرچ سینٹر ہو‘ نیسلے سوئٹزرلینڈ ہو یا پھر نیسلے میوزیم ہو یہ چاروں عمارتیں انتہائی خوبصورت مقامات پر قائم ہیں‘ آپ کو شیشوں سے الپس اور جنیوا لیک کے نظارے نظر آتے ہیں۔
باہر کا بدلتا ہوا موسم چند سکینڈ میں پوری عمارت کو متاثر کر دیتا ہے‘ باہر کی بارش اندر گرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے‘شام صرف وے وے پر نہیں اترتی‘ وہ ان چاروں عمارتوں کے اندر بھی تڑپتی ہوئی محسوس ہوتی ہے‘ سورج صرف وے وے میں نہیں نکلتا وہ عمارتوں کے اندر بھی طلوع ہوتا ہے‘ وے وے کی شام بھی ان چاروں عمارتوں میں اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ محفوظ ہوتی ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے یہ عمارتیں اور وے وے ایک ہی وجود کے دو حصے ہیں‘ آپ ان دونوں حصوں کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے اور یہ خوبی ‘ یہ خوبصورتی آپ کواس کمپنی کے تمام ملازمین میں بھی دکھائی دیتی ہے‘یہ لوگ پڑھے لکھے‘ شائستہ اور مہربان ہیں‘ میں نے وزٹ کے دوران جس سے جو پوچھا اس نے چند لمحے میں مجھے بتا دیا۔
آپ اگرجنیوا کو نقشے پر دیکھیں تو آپ کو یہ شہر تین اطراف سے فرانس میں گھرا ملے گا‘ یہ شہر فرانس کے اتنے قریب ہے کہ آپ چند قدم اٹھاتے ہیں اور آپ سوئٹزرلینڈ سے فرانس میں داخل ہو جاتے ہیں‘ میں بار بار اس تجربے کا لطف اٹھاتا رہا‘ میں نے ہفتے اور اتوار کا آدھا دن جنیوا میں گزارا‘ میں اس دوران آنسی (Annecy) بھی گیا‘ ورے (Yvoire) بھی اور فرنے اور سرن بھی‘ ورے جھیل کی دوسری طرف جنیوا سے پندرہ منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ یہ فرانسیسی گاؤں ساڑھے سات سو سال پہلے بنا‘ اس سے آج تک تاریخ کی خوشبو آتی ہے‘ آپ پتھر کی چھوٹی چھوٹی گلیوں اور پرانے مکانوں کے درمیان گھومتے ہوئے تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتے ہیں‘ گاؤں کا ایک سرا جھیل تک جاتا ہے اور دوسرے سرے پر پرانا قلعہ اور قدیم مکانات ہیں ‘ میں آدھا دن ورے میں گھومتا رہا‘ پتھر کی گلیاں‘ لکڑی کے پرانے مکان‘ اسٹریٹ کیفے‘ پھولوں سے لدی بالکونیاں اور ان کے پس منظر میں جنیوا لیک‘ وہ گاؤں گاؤں کم اور تصویر زیادہ تھا‘ یہ تصویر بھی میرے ذہن کے البم میں چپک گئی‘ آنسی جنیوا سے چالیس کلومیٹر دور فرانس کا تاریخی شہر ہے‘ یہ شہر بھی الپس کے قدموں میں آباد ہے‘ شہر کے درمیان سے ٹھنڈے پانی کی ندی گزرتی ہے۔
یہ ندی صاف پانی کی ایک بڑی جھیل میں گرتی ہے‘ جھیل کے گرد چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہر کے محلے آباد ہیں‘ یہ شہر بھی قدیم ہے‘ آپ کو شہر میں سیکڑوں سیاح ملتے ہیں‘ گلیاں پرانی‘ مکان قدیم اور چرچ بہت زیادہ قدیم ‘ جھیل میں چھوٹے جہاز چلتے ہیں‘ یہ جہاز ایک گھنٹے میں جھیل کا سفر طے کر کے واپس آتے ہیں‘ میں نے ہفتے کا آدھا دن آنسی میں گزارا‘ یہ آدھا دن بھی یادوں کی بارات کا حصہ بن گیا‘ میری اتوار کو سوا تین بجے واپسی کی فلائیٹ تھی لیکن میں سرن اور فرنے کو مس نہیں کر سکتا تھا‘ یہ دونوں ناقابل فراموش جگہیں ہیں‘ فرنے میں فرانس کے مشہور دانشور والٹیئر کا اڑھائی سو سال پرانا محل ہے‘ یہ پورا علاقہ والٹیئر نے آباد کیا تھا‘ وہ 1758ء میں پیرس سے یہاں آیا‘ علاقہ خریدااور 1778ء تک یہاں رہائش پذیر رہا‘ یہ شہر آج والٹیئر کی مناسبت سے فرنے والٹیئر کہلاتا ہے‘ یہ جنیوا سے صرف پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ سوئٹزرلینڈ کے ہزاروں لوگ کام جنیوا میں کرتے ہیں لیکن رہتے فرنے میں ہیں‘ کیوں؟ وجہ معیشت ہے‘ فرانس سوئٹزرلینڈ کے مقابلے میں تین گنا سستا ہے لہٰذا لوگ یہاں رہنا پسند کرتے ہیں۔
میں اتوار کی صبح والٹیئر کے محل میں گیا لیکن محل میں کام ہو رہا تھا لہٰذا یہ سیاحوں کے لیے بند تھا تاہم لان اور باغات میں جانے کی اجازت تھی‘ یہ محل دواڑھائی سو ایکڑ پر مشتمل ہے‘ بیرونی دیوار کے اندر بے شمار لان بھی ہیں‘ جنگل بھی اور پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بھی‘ یہ پورا علاقہ والٹیئر نے خود آباد کیا تھا‘ وہ تمام انسانوں کو برابر سمجھتا تھا‘ وہ انسانی حقوق کا داعی تھا‘ اس کا مشہور فقرہ ’’مجھے تم سے اختلاف ہے لیکن میں آخری سانس تک تمہارے حق اختلاف کا دفاع کروں گا‘‘ آج بھی دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہے‘ پیرس میں اس زمانے میں غریب لوگوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک ہوتا تھا‘ وہ اس سلوک کے خلاف لڑ رہا تھا‘ حکومت اس سے نالاں تھی‘ وہ گرفتار ہوا‘ جلاوطن بھی کیا گیا اور اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن وہ باز نہ آیا‘ وہ آخر میں پیرس سے نکلا اور فرانس کے آخری سرے پر اپنا شہر آباد کر لیا‘ یہ شہر یورپ میں انسانی حقوق اور برابری کی پہلی ذاتی ریاست تھا‘ والٹیئر نے اس شہر اور اس محل میں بیٹھ کروہ چھ ہزار خطوط لکھے جنہوں نے پوری دنیا کی سوچ تبدیل کر کے رکھ دی‘ وہ محل میں بیٹھ کر دنیا کے ہر حساس اور سوچنے والے انسان کو خط لکھتا رہا‘ دنیا آج جہاں ہے اس میں والٹیئر کے ان خطوط کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
فرنے میں آج بھی والٹیئر کی دانش کی مہک موجود ہے‘ میں آدھ گھنٹہ والٹیئر کے محل کے لان میں پھرتا رہا میں جگہ جگہ رکتا اور والٹیئر کو یاد کرتا‘ اس نے کہا تھا ’’یا اللہ میں اپنے دشمنوں سے خود بچ جاؤں گا تم بس مجھے میرے دوستوں سے بچا لو‘‘ وہ اکثر کہتا تھا’’جمہوریت نصابی کتابوں کا غیرضروری مواد ہے‘ کیا تم واقعی سمجھتے ہو حکومت عوامی رائے سے متاثر ہوتی ہے؟‘‘ وہ کہتا تھا ’’خدا نے جنس بنائی اور پادریوں نے شادی‘‘ وہ کہتا تھا ’’انسان کو اس کے جوابوں سے نہیں سوالوں سے پہچانو‘‘ وہ کہتا تھا ’’میں جوں جوں جان رہا ہوں میں توں توں اس نتیجے پر پہنچ رہا ہوں‘ میں کچھ نہیں جانتا‘‘ وہ کہتا تھا ’’اگر حکومت غلط ہو تو آپ کا صحیح ہونا خطرناک ہو جاتا ہے‘‘ اور وہ کہتا تھا ’’آئینہ ایک بے معنی ایجاد ہے تم اگر اپنا اصل عکس دیکھنا چاہتے ہو تو تم کسی کی آنکھ میں دیکھو‘‘ میں والٹیئر کے لان میں گھومتا رہا‘ اس کے فقرے دہراتا رہا اور اس کی دانش کی داد دیتا رہا‘ وہ حقیقتاً انسانی شعور اور انسانی آزادی کی چیخ تھا‘ آخری زور دار چیخ‘ وہ چیخ آج بھی فرنے کی فضا میں گونج رہی ہے۔