سڑک کنارے سوئی ماں – محمد عاصم حفیظ

کیا آپ کبھی ٹریفک کے شور میں عین سڑک کے بیچ گہری نیند کا تصور کر سکتے ہیں؟؟؟

شیخوپورہ کے مرکزی حصے لنڈا بازار میں شہر کے درمیان ایک کاغذ چننے والی بوڑھی عورت کو گہری نیند سوتے دیکھا تو یوں لگا جیسے انسانیت سو رہی ہو۔

جی ہاں! لاکھوں کے شہر میں، بڑے بڑے رئیسوں کے علاقے میں، اس بوڑھی ماں کو کہیں سر ڈھانپنے کی جگہ اور چھت نصیب نہ ہو سکی۔ شاید وہ کسی جھونپڑی میں رہتی ہو گی جہاں سے چل کر روز شہر آتی ہو گی کوڑا چننے۔ بوڑھی ہو چکی ہے، تھک گئی ہوگی۔ سوچا ہو گا کہ چلو یہیں پر نیند پوری کر لوں، صبح جلد “کام” شروع کر لوں گی۔ جھونپڑی سےبازار تک آنے کا سفر بھی بچ جائے گا۔

یہ بیچاری تو سو گئی لیکن کبھی سوچا ہے کہ اگر کبھی رب کائنات کی پکڑ آئی تو کیا بڑے بڑے گھروں والے سکون کی نیند سو سکیں گے ؟ رمضان آنے والا ہے۔ دیکھنا اس شہر کے امیر لاکھوں روپے کی شاہانہ افطاریاں کراکر جنت خریدیں گے۔ شہر کے امیروں کو ہی کھلایا جائے گا۔ ان بیچاری بوڑھی ماؤں کے ہاتھ تو وہ پھینکے ہوئے کاغذ ہی آئیں گے جن میں افطاری کا سامان پیک کرکے لایا جائے گا۔

اسی سڑک سے سیاستدان، بڑے بڑے آفیسر اورسیٹھ بھی گزرتے ہیں جو اپنی عیاشیوں اور شادی بیاہ کی فضول خرچیوں پر تو دل کھول کر خرچ کرتے ہیں لیکن خدا کے نام پر مخلوق کو کچھ دیتے وقت آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam