کامیابی کے لیے اعتماد ضروری ہے – عظیم الرحمن عثمانی

انگلینڈ آنے سے قبل میں واجبی سی انگریزی جانتا تھا. بچپن سے مجھے انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کی تلقین کی جاتی رہی. کبھی مجھے بچوں کی انگریزی کہانیوں کی کتابیں لا کر دی جاتی اور کبھی والدہ کا اصرار ہوتا کہ میں اپنے ان کزنز سے انگریزی میں بات کیا کروں جو ’او لیول‘ کررہے تھے. مگر ہم ڈھیٹ ہڈی تھے یا یوں کہیے کہ اردو کے دل دادہ تھے اس لیے انگریزی کبھی سیکھ کر نہ دی. انجینئرنگ یونیورسٹی میں بھی انگریزی لٹریچر فارم کے بجائے ’بزم ادب‘‘ کی ذمہ داری لے لی. حال یہ تھا کہ دوست یار جو فن خطابت میں ساتھ تھے مجھے ’اردو کی توپ‘ کہہ کر پکارنے لگے. غرض یہ کہ ہماری زندگی میں ساری محبت اردو کے لیے اور تمام فاصلے انگریزی زبان کے لیے وقف تھے. جب انجینئرنگ سے فراغت کا وقت آیا تو ماسٹرز ڈگری لینے کے لیے انگلینڈ جانے کا ارادہ کیا. معلوم ہوا کہ کسی بھی بہتر یونیورسٹی میں داخلے کے لیے انگریزی زبان کا ایک انٹرنیشنل امتحان پاس کرنا ہوگا جسے ’آئی ایلٹس‘ یعنی ’انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے. اس کا مارکنگ سسٹم بھی نمبرز پر نہیں بلکہ ’بینڈز‘ پر تھا. کل ملا کر 9 بینڈز ہوتے ہیں جن میں سے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے مجھے کم از کم 6 (چھ) بینڈز لانے تھے. یہ ٹیسٹ چار مختلف مراحل میں منقسم تھا یعنی انگریزی پڑھنا، انگریزی لکھنا، انگریزی سننا اور انگریزی بولنا. ان سب میں الگ الگ بینڈز ملتے ہیں اور پھر مجموعی بینڈ اوسط نکل کر طے کیا جاتا ہے. ہمیں اپنی انگریزی کا حال خوب معلوم تھا لہٰذا یہ ٹیسٹ کسی زندگی موت کے معرکے جیسا معلوم ہو رہا تھا. کوئی مہینے دو مہینے کا کورس کر کے ٹیسٹ کے تین حصوں میں تو کسی قدر اعتماد حاصل ہوا، مگر چوتھا مرحلہ یعنی انگریزی بولنے کا سوچ کر بھی غش آتا تھا. خیر اللہ اللہ کر کے وہ دن بھی آگیا جب ہم برٹش کونسل کراچی میں اپنا انگریزی بولنے کا امتحان دینے پہنچے. کچھ انتظار کے بعد ایک کمرے میں بلا لیا گیا. اندر داخل ہوا تو ایک ایک بوڑھا انگریز میز کے پیچھے کرسی پر براجمان تھا. انگریز دیکھ کر ہمارے اور اوسان خطا ہوگئے. رسمی سے ہیلو ہائے کے بعد اس نے انگریزی میں سوال و جواب شروع کیے.
.
اس کا لہجہ سمجھنا دشوار ہو رہا تھا. کچھ ماحول کا اثر، کچھ ہماری خستہ انگریزی کا قصور اور کچھ اس انگریز کی بےاعتنائی نے مجھے پےدرپے گرامر کی غلطیوں پر مجبور کر دیا. اٹک اٹک کر جواب دیتے ہوئے مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں فیل ہونے جا رہا ہوں. ایسے میں اس انگریز نے بیزاری سے کہا کہ سامنے رکھے مرتبان میں سے کوئی بھی پرچی نکال لو اور اس پر جو بھی موضوع درج ہو، اس پر انگریزی میں ایک چھوٹی سی تقریر یا گفتگو کرو. یہ سنتے ہی ہم نے پرچی نکالی، عنوان کچھ ثقافت سے متعلق تھا. پرچی نکالتے ہی اندر کا مقرر بیدار ہوگیا اور بناء کسی ہچکچاہٹ ہم نے انگریزی میں پورے زور و شور سے تقریر کر ڈالی. وہ انگریز چونک کر پوری طرح سے میری جانب متوجہ ہوگیا، میری نظر میں بھی اب وہ ایک خوفناک انٹرویو لینے والا ممتحن نہیں تھا بلکہ فقط ایک ناظر و سامع بن چکا تھا. چانچہ ہم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تقریر کی اور تب ہی رکے جب اس نے خود روکا. امتحان ختم ہوا اور ہم بجھے دل سے گھر واپس آگئے.

دل میں احساس تھا کہ باقی مراحل میں تو چھ بینڈز کی اوسط شاید آجائے گی مگر اس مرحلے یعنی انگریزی بولنے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. کچھ ہفتوں بعد گھر پر نتیجہ موصول ہوا، دھڑکتے دل سے لفافہ کھولا تو فرط حیرت سے گنگ ہوگیا کہ انگریزی بولنے کے اس مرحلے میں مجھے 9 میں سے 8 (آٹھ) بینڈ دیے گئے تھے !! جو میرے انگریزی کے استاد کے بینڈ اسکور سے بھی زیادہ تھے. باقی میں بینڈز پانچ یا چھ کے اسکور میں منقسم تھے اور اگر مجھے انگریزی بولنے کے اس مرحلے میں یہ غیر معمولی اسکور حاصل نہ ہوا ہوتا تو کبھی میں مطلوبہ اوسط حاصل نہ کر پاتا. یقیناً یہ رب ہی کا انعام تھا مگر اس انعام کا ذریعہ شاید وہ پراعتماد تقریر بنی جس نے ممتحن کو گرویدہ کردیا. میں نے سیکھا کہ کلام کا حسن بعض اوقات کلام کے سقم پر پردہ ڈال دیتا ہے. یہ بھی کہ انسان اکثر اسی پر یقین کرتے ہیں جو انہیں نظر آتا ہے. اگر آپ پراعتماد نظر آئیں گے تو لوگ آپ کو پراعتماد تسلیم کرلیں گے. چاہے اندر سے آپ کتنے ہی لرزہ اندام کیوں نہ ہوں؟

Comments

FB Login Required

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

Protected by WP Anti Spam