پاکستان کا دردِ سر … اور ممکنہ دوا – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

تصور کیجیے، آپ کا ایک ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ آپ کی 2450 کلومیٹر طویل سرحد ہے، لیکن … وہ اس سرحد کو مانتا ہی نہیں. اسے یہ شکایت ہے کہ آپ کے ہاں سے لوگ اُس طرف دہشت گردی کرنے آتے ہیں لیکن وہ اس بات پر تیار نہیں کہ اس طویل سرحد پر کسی طرح کی باڑ یا حفاظتی دیوار بنائی جائے. آپ کے اور اس ملک کے مابین ہمسائیگی کے علاوہ مذہبی، ثقافتی اور لسانی تعلق بھی ہے لیکن تشکیک اور بدگمانی ان سب پر حاوی ہے. وہاں ہونے والے ہر واقعہ کا ذمہ دار آپ کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن جب آپ اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ہمارے ملک سے مسلح باغی گروہوں کے جتھے دوسری طرف مکمل آزادی سے رہتے اور ہمارے خلاف کاروائیاں پلان کرتے ہیں تو وہاں کے کرتا دھرتا دوسری جانب دیکھنے لگتے ہیں۔
.
یہ ملک پچھلے 38 سال سے جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے اس کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور مرکزی حکومت کی اتھارٹی مخدوش ہے. یہاں پچھلے 16 برس سے دنیا کی واحد سپر پاور کی کمان میں ایک کثیر الملکی فوج موجود ہے اور مذکورہ سپر پاور آپ پر دو عملی کا الزام لگا کر آپ کو مطعون بھی کرتی ہے اور تعاون بھی طلب کرتی ہے. دوسری جانب اس سپر پاور نے آپ کے پرانے حریف کو بھی وہاں لابٹھایا ہے جہاں سے وہ آپ کے خلاف تخریب کاری کی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
.
اگر اب بھی تناؤ میں کچھ کسر باقی تھی تو وہ یوں پوری ہو جاتی ہے کہ وہ ملک آپ کے خلاف فوجی جارحیت کا ارتکاب کر دیتا ہے. اگر آپ عسکری نوعیت کا جواب دیتے ہیں تو اعتراض ہوتا ہے کمزور کو مارا، اپنے مسلمان بھائیوں کو مارا. جواب نہیں دیتے تو ملک کے اندر سے بعض حلقے کہنے لگتے ہیں کہ اگر اس سے بھی نہیں نمٹ سکتے تو اتنی بڑی فوج کا کیا فائدہ ؟ سرحد بند کرتے ہیں تو آوازیں اٹھنے لگتی ہیں کہ بھائیوں کو محصور کر دیا، ان کا معاشی قتل کیس جا رہا ہے، قبائل کو تقسیم کر دیا وغیرہ۔
.
آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے یہ کوئی فرضی منظر نامہ نہیں. یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی جزئیات ہو بہو اصل ہیں. ہم پاکستان اور افغانستان کی بات کر رہے ہیں۔اس قضیے کے اتنے زیادہ variables ہیں کہ ایک کو ہلائیں تو سارا مسئلہ ایک نئی بنت کے ساتھ مزید پیچیدہ ہو کر سامنے آ جاتا ہے. اس علاقہ کو جارح افواج کا قبرستان یونہی نہیں کہا جاتا۔
.
سن 70 کے اوائل میں پاک افغان کشمکش کی جہت بس اس قدر تھی کہ افغانستان کی حکومت پاکستان کے دو مغربی صوبوں میں شورش کو ہوا دینے کی خواہشمند تھی. معاملہ وہی ڈیورنڈ لائن کا تھا جس کے لیے لسانی کارڈ سامنے لایا گیا اور “پشتونستان” کا ہوٌا کھڑا ہؤا. یہاں کے علیحدگی پسند رہنماؤں کے لیے کابل ایک پشت پناہ بھی تھا اور پناہ گاہ بھی. وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے بین الاقوامی تعلقات کی لغت میں اس صورتحال کو “بیلنس” کرنے کے لیے افغانستان میں حکومت مخالف رہنماؤں کو تھپکی دینا شروع کیا. بیلنس کرنے کے اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسری پارٹی کو یہ بتایا جائے کہ گڑبڑ کی آپشن صرف اسی کے پاس نہیں، اس لیے بہتر ہے کہ ان حرکتوں کو ترک کرتے ہوئے مذاکرات کا آپشن استعمال کیا جائے. بھٹو صاحب اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے اور افغان صدر داؤد سے سلسلہ جنبانی کافی آگے بڑھ گیا. تاہم پھر افغانستان اور پاکستان کی بدقسمتی کہ اندرونی شورش کے نتیجہ میں صدر داؤد قتل کر دیے گئے اور پھر پے درپے واقعات کا ایسا بھنور شروع ہؤا کہ بالآخر سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کر دی اور اب پاکستان کے ساتھ بیک ڈور کشمکش باقاعدہ معرکہ میں تبدیل ہوگئی. بس وہ دن اور آج کا دن…. جارح سپر پاورز بدل گئیں، خانہ جنگی کے فریق بدلتے رہے لیکن افغانستان میں جنگ ختم نہ ہوسکی.

افغانستان کا ماضی، وہاں کے اندرونی حالات اور پاکستان مخالف قوتوں کی وہاں کے فیصلہ ساز اداروں میں موجودگی اور خاص کر چمن بارڈر پر حالیہ فوجی جھڑپ اس بات کی متقاضی ہے کہ افغانستان سے متعلق ایک جامع، مسلسل اور ٹھوس پالیسی تشکیل دی جائے اور اس کا کم از کم دورانیہ دس سال ہو. اس وقت مشرق وسطٰی کے حالات، علاقائی پاور گیم اور بڑی طاقتوں کی کشمکش سے یہ بات عیاں ہے کہ قلیل مدتی معیاد میں حالات کی بہتری کا امکان بہت کم ہے. ویسے بھی جس درجہ کی پاکستان مخالف فضا افغانستان میں بنائی گئی ہے اس کے تناظر میں تحمل اور تسلسل کی عدم موجودگی میں کسی بھی پالیسی کی کامیابی بعید از قیاس ہو گی.

اس وقت پاکستان کو افغانستان کے ساتھ معاملات کو دو طرفہ کے بجائے کثیر ملکی بندوبست کے تحت نمٹانے پر غور کرنا ہوگا. کم از کم اس سطح پر کہ ان ممالک سے مشاورت کے ساتھ مختلف ایشوز پر پیشقدمی ہو تاکہ اعتماد کا ماحول پیدا ہو اور غلط فہمیوں کی گنجائش ختم کی جا سکے. اس میکانزم سے دونوں اطراف پر طے شدہ امور کے متعلق عمل درآمد کا رجحان بھی بڑھے گا۔ ضمن میں چین، ترکی، روس اور ایران اہم ہو سکتے ہیں. نہز پاکستان کو ایک کل وقتی رابطہ وفد تشکیل دینا چاہیے جو کابل سے بات چیت کا تسلسل بہر صورت قائم رکھے۔ اس وفد میں مشیر برائے قومی سلامتی کے ساتھ جناب اسفندیار ولی اور محمود خان اچکزئی وغیرہ کوبھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اس کے سرکاری ادارے اور ذرائع ابلاغ افغانستان کے متعلق نپی تلی اور محتاط زبان استعمال کریں. افغانستان “احسان فراموش” کہنا یا بار بار “کابل دہلی” گٹھ جوڑ کی اصطلاح کا استعمال افغانستان کو بھارت کے ساتھ مستقلاً جوڑ دینے کا مؤجب بنے گا. ہمیں افغانستان میں اپنے دشمن کو الگ تھلگ کرنا ہے، اس کے لیے افغان عوام میں خیر سگالی پیدا کرنا لازمی شرط ہے. تند لہجہ دراصل ان لوگوں کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے جو یہ فتنہ انگیزی کر رہے ہیں. کابل کو دہلی سے علیحدہ کرنا ہے ، اس کا حلیف نہیں بنانا۔

پاکستان کے پارلیمانی وفد اور ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ کابل کے فوراً بعد اس قسم کی حرکت کا سوائے اس کے کوئی جواز نہیں کہ کسی کو ان سے بہت تکلیف پہنچی ہے اور وہ اس کا کچھ بھی مثبت اثر برقرار نہیں دیکھنا چاہتا. بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور مردم شماری ٹیم پر فائر کھولا گیا. ہمیں ایسی صورتحال کے ایس او پیز طے کرنا ہوں گے. تند و تیز بیانات سے گریز ہو تاکہ میڈیا ہیڈلائنز نہ بنیں، تاہم فوری اور سخت جوابی کاروائی ہو تاکہ شرارت کرنے والے آئندہ ایسی حرکت سے قبل دس بار سوچیں. ہر سطح پر بیان البتہ یہ رہنا چاہیے کہ افغان ہمارے بھائی ہیں اور وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جن کی کارروائیوں کا خمیازہ صرف افغان اور پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑے گا. دونوں جانب ایک ہی خون ہے اور یکساں قیمتی۔

مزید یہ کہ افغان مرکزی حکومت کے عہدیداروں بالخصوص صدر کے ساتھ بھرپور اکرام کے مطابق معاملات کیے جائیں۔ اشرف غنی صاحب کے تلخ لہجہ کے باوجود اسلام آباد سے سفارتی آداب کا ہر لمحہ خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ شکوہ بھی کرنا ہو تو بالواسطہ کہا جائے کہ “کابل حکومت میں موجود چند عناصر” ، چہ جائیکہ نام لے کر صدر کی بات کی جائے۔ حکومت میں موجود تفریق کو واضح کریں بجائے اس کے کہ سب کو ہی قطار میں کھڑا کر دیا جائے۔

افغان حکومت میں کئی پاور سینٹرز کی موجودگی اور بھارت کا اثر پاک افغان بہتر تعلقات کا سفر طویل ، صبر آزما اور گنجلک بنا سکتا ہے۔ تاہم ، اگر ہماری پالیسی ہی طویل امعیاد ہو گی اور اس پر تسلسل سے عمل ہو گا تو کابل کو بدلتی عوامی رائے کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ اسی لیے افغان رائے عامہ کی موافقت اس پالیسی کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔

جنرل ضیاء الحق نے پہلی افغان جنگ کے ہنگام بھارت کو کسی بھی ایڈوینچر سے باز رکھنے کے لیے زبردستی کی خیر سگالی کا آغاز کیا، اس کا ایک اہم نکتہ “کرکٹ ڈپلومیسی” بھی ہؤا کرتی تھی۔ وہ اس پراسیس کو Peace Offensive کا نام دیا کرتے تھے۔ جنرل صاحب اس حوالہ سے اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب رہے اور پوری افغان جنگ کے دوران مشرقی سرحد بالکل خاموش رہی۔ یہاں تک کہ براس ٹیکس جو کہ بھارتی فوج کا دراصل مکمل جنگی پلان تھا اسے بھی کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے اچانک دورہ بھارت سے ناکام بنا دیا۔

اس وقت افغانستان کے متعلق بھی ایک Peace Offensive وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور شاید اس مسئلہ سے نمٹنے کی بہترین اسٹریٹجی بھی۔ اس امید کے ساتھ کہ امن کی “یلغار” کبھی ناکام نہیں ہوتی، افغانستان جیسی سرزمین پر بھی۔

Comments

FB Login Required

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

Protected by WP Anti Spam