سبز جہاد اور ہماری ذمہ داری - فضل ہادی حسن

جب بھی ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں خبریں اور رپورٹس پڑھتا ہوں تو یکدم پاکستان کا "بے پروا" معاشرہ سامنے آجاتا ہے۔ جہاں بڑی مصروفیات اور کاروبار زندگی میں گرم سیاست شامل ہونے کی وجہ سے اس اہم موضوع پر بات کرنا ، یا گراس روٹ سے آغاز کرکے کام کرنا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ اسی طرح دیگر معاملات کی طرح یہاں بھی ہم اللہ پر چھوڑتے ہوئے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی دانستہ کوشش کرتے ہیں ۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ یہ دینی و اخلاقی لحاظ سے 'خیانت' کے زمرے میں آتا ہے ۔

جب انسان زمین پر خلیفہ ہے تو یہاں کی حفاظت کرنا اور اس سے خرابی دور کرنے کے لئے تدبیریں و کوشش بھی لازم ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے: "کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے بسجُود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں؟ سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔" (الحج : 17) ‎ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمان الٰہی میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات بشمول انسان اپنا مقصد وجود پورا کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔" (الانعام: 38)

اس زمین کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داریوں میں سے ہے اللہ خود فرماتا ہے ، "اور انسان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ زمین میں فساد نہ برپا کرے۔" (الاعراف:56)۔ فساد چاہے خون خرابہ کا ہو یا گندگی پھیلانا ہو یا جنگلات ختم کرکے موسمیاتی تبدیلیوں کو دعوت دینا، فساد ہی کہلاتا ہے۔ بلکہ یہ عدل انصاف سے متصادم تصور کیا جاسکتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: "آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی۔ اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو، انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔" (الرحمن :7تا9)

یہ بھی پڑھیں:   شجرکاری، بہترین صدقہ جاریہ - مومنہ گل

اس تعلیم کا واضح مطلب یہ ہے کہ خواہ مخواہ جنگلات کا صفایا نہ کیاجائے اور نہ چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کاخاتمہ کیاجائے۔ اسلام میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔

آج ماحولیات کا بگاڑ بہت بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ سال پیرس کانفرنس کی موقع پر کچھ رپورٹس پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ پاکستان تو ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں تقریباً آہی چکا ہے۔ درخت کاٹنے اور گاڑیوں اور مختلف قسم کی فیکٹریوں کی وجہ سے جو آلودگی پیدا ہوئی ہے اس نے گزشتہ چند سالوں سے اپنے منفی اثرات دکھانا شروع کر دئیے ہیں ۔گزشتہ موسم سرما میں بارشیں نہ ہوسکیں، برف پگھل رہی ہے ،چشموں کا پانی کم سے کم ہوتا جارہاہے ہیں ،پانی کا ذخیرہ کم سے کم اور سطح آب نیچے سے نیچے جا رہی ہے۔ ابھی چند روز پہلے مختلف علاقوں کے بارے میں سنا کہ پانی کی سطح نیچے گرنے کی وجہ سے وہاں ٹیوب ویلز بند پڑے ہیں ۔ نیز ان تبدیلی میں اس دفعہ شدید قسم کی آلودگی (smog) کی لہر نے پنجاب سمیت دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گزشتہ دو سالوں سے پورا ملک شدید ترین گرمی کی زد میں رہا ہے اور امسال بھی پاکستان کے بیشتر علاقے سخت گرمی کی لپیٹ میں رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے جہاں ایک طرف موسموں پر منفی اثر پڑا ہے، وہیں مختلف بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اہم اور بنیادی کام شجرکاری اور صفائی ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں صفائی کا اتنا بڑا مقام کہ اسے ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور ہمیں بچپن ہی سے اس حدیث کے بارے میں بتایا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا مظاہرہ کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں ۔ شجر کاری کی کیا اہمیت ہے؟ آج کسی کے لیے بھی اس کا سمجھنا مشکل نہیں رہ گیا ہے۔ احادیث رسول میں شجرکاری کو بھی کار ثواب قرار دیا گیا ہے، یہاں تک کہ اسے صدقہ جاریہ کہا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اس کو اس وقت تک اس کا ثواب ملتا رہتا ہے جب تک اس کا پھل انسان یاجانور کھاتے رہتے ہیں۔ دوسری احادیث میں بھی شجرکاری کی فضیلت بیان کی گئی اور اس کو باعث ثواب اور خیر وبرکت کا موجب بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سرسبز یا کنکریٹ کا قبرستان - ریاض علی خٹک

اسی طرح کے حالات اور چینلجز کا مقابلہ کرنا بحیثیت ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان اور بالخصوص آئندہ نسلوں کے لئے ماحولیاتی آلودگی سے پاک سر سبز پاکستان بنائیں۔ حکومت اور عوام ، اہل سیاست و مذہب الغرض سب کا مشترکہ کام اور ذمہ داری ہے۔ اگر عوامی شعور اور آگہی کے طور پر"سر سبز جہاد" (Green Jihad) کے نام سے ایک قومی مہم چلانے کا اعلان ہو جس میں عوام و خواص سب ملکر حصہ لیں اور سکول و مدارس سے لیکر بازاروں اور پبلک مقامات تک لوگوں کو ان خطرات سے آگہی دی جائے اور ان کے تدارک و حفاظتی تدابیر کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے تو بہتری آنے کا امکان ہے۔

یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس حوالے قومی شعور کو بیدار کریں اور ہر فرد تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ہمارا خطہ کس قدر ہولناک ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے ؟ کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں، جن کے کچھ اثرات سامنے آنا شروع بھی ہوگئے ہیں ۔اس لیے اب ضروری ہے اب عملی قدم اٹھائیں اور اپنے حصے کا کام شروع کریں۔