حیاء سے ہے حیات - روبینہ شاہین

بلاشبہ ہماری اسلامی تہذیب میں حیا ءوہ گوہر نامدار ہے۔جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔اسلامی تاریخ اس درخشندہ گوہر کی عظیم روایت کی نہ صرف بانی ہے بلکہ اس کو آج تک سینے سے لگائے اس کی حفاظت پر مامور ہے۔ جانتے ہو حیاء کیا ہے؟حیا حیات ہے، حیا نہیں تو حیات نہیں۔

علامہ ابن فارس لکھتے ہیں کہ ہیں حی سے حیات بھی نکلتی ہے اور حیا بھی۔دونوں کا مادہ ایک ہے۔دونوں زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔جیسے زندہ رہنے کے لیے سانسوں کی ضرروت ہوتی ہے وہی ایک باکردار زندگی کے لیے حیا کی بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بغیر حیا کے معاشرے اور تہذیبیں دفن ہو جایا کرتی ہیں۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ "حیا کی ساٹھ سے زائد شاخیں ہیں اور حیاء ان میں سے ایک ہے"ایک روایت میں آتا ہے کہ :جب حیاء نہ رہے تو جو چاہے کرو"مزید ارشاد ہوا کہ "بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے اور دین اسلام کی خصلت حیاء ہے۔"

یہ ہے "حیاء" جو عزت اور غیرت کی پہچان ہے۔ہمارے دشمن جانتے ہیں کہ یہ کتنی انمول ہے۔جبھی اس کے در پے ہیں۔قندیل بلوچ جیسے کردار پروموٹ کرنا ہی ان کا اصل مقصد ہے ورنہ وہ تو خود مہرہ تھی جس کی مجبوریوں نے اسے ایسی کھائی میں دھکیل دیا جہاں آگے رسوائیاں ہی رسوائیاں تھیں اور انجام موت۔ حیاء کی موت نے اسے موت کی وادی میں پہنچا دیا۔اس پر مستزاد اب اس پر فلم بنائی جا رہی ہے جو نجانے کتنی قندیل بلوچ مزید پیدا کرے گی۔

عورت اور میڈیا ہمارے معاشرے کے دو مضبوط ستون ہیں جو روایات کو بگاڑنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔اگر ان کا قبلہ درست ہو جائے تو یہ معاشرے کے لیے بہت اچھا اقدام ہو سکتا ہے مگر ستم یہ ہے کہ آج کے دجالی میڈیا کا سب سے پہلا ہدف ہی عورت ہے۔مارننگ شوز اور ڈراموں کے ذریعے بڑی خوبصورتی سے ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ان کے سامنے دنیا کو اتنا سجا بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ زندگی تو بس دنیا کی ہی ہے اور اس دنیا کو سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے چکروں میں نئی نسل کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔اس تعلیم کے ذریعے یہ امید رکھنا کہ وہ نیک اور صالح بنیں گے ، ایسے ہی ہے جیسے گندم بو کر چنے کی فصل کی امید رکھنا۔

ضرورت اس امر کی ہے معاشرے میں الحاد اور لا دینیت کی جو لہر اٹھی ہے اس کے آگے بند باندھا جائے۔اساتذہ اور علماء اس میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔بچوں کے ذہنوں میں چھوٹی عمر سے بٹھایا جائے کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے انہیں کیوں پیدا کیا ان کا انجام کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہیں اگر ان کے جواب بچوں کے دماغوں میں بٹھا دیا جائے تو اس کے اثرات بہت عمدہ ہوں گے۔ایک اور نکتہ جس کو بچوں کے دماغوں میں بٹھانا ضروری ہے وہ یہ کہ تعلیم کا مقصد واضح ہونا چاہیے کہ اس کا مقصد کردار سازی ہونا چاہیے نہ کہ نوکری اور ڈگری کا حصول۔

عمارت کی اگر بنیاد مضبوط نہ ہو تو بظاہر جتنی بھی خوبصورت ہو،زمین بوس ہو جایا کرتی ہے۔ہماری نسلیں زمین بوس ہو رہی ہیں، بے حیائی اور فحاشی کا سیلاب انہیں بہائے لے جا رہا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ نور کی آیت سے شاید یہ بات زیادہ سمجھ آ جائے کہ "ایمان والوں میں جو چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی،اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔" اس لیے اس موقع پر بڑی حکمت اور دانش مندی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔